طاہر لا یکرہ۔ (الفتاوی الہندیۃ، کتاب الکراہیۃ / الباب الخامس ۵؍۳۲۳) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۱۳؍۶؍۱۴۲۷ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفا اللہ عنہ
قرآنِ پاک میں اگر نجاست لگ جائے تو کیا کریں؟
سوال(۳۸):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: قرآنِ پاک کے کنارے پر اگر کچھ گندگی لگ جائے، مثلاً قرآن گھر کے نچلے حصہ میں تھا اور اوپر کے حصہ میں بچہ نے پاخانہ کردیا، وہ گندگی قرآنِ پاک کے کنارے پر لگ گئی، اَب ایسی صورت میں قرآنِ پاک صاف کرنے سے کام چل جائے گا یا اتنا حصہ کاٹنا پڑے گا، کیا حکم ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: بے خیالی میں اگر قرآنِ پاک پر نجاست لگ
جائے تو جلد از جلد دھوکر یا رگڑ کر زائل کرنا لازم ہے، اُس ورق کو کاٹنے کی ضرورت نہیں ہے۔
وأما سائر النجاسات إذا أصابت الثوب أو البدن ونحوہما؛ فإنہا لا تزول إلا بالغسل، سواء کانت رطبۃ أو یابسۃ، وسوائٌ کانت سائلۃ أولہا جرم۔ (البحر الرائق / کتاب الطہارۃ ۱؍۲۲۵ کوئٹہ) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۱۶؍۲؍۱۴۲۵ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفا اللہ عنہ
ختم قرآن کی خوشی پر جشن منانا؟
سوال(۳۹):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: (۱) ہماری بستی ٹانڈہ میں ایک عجیب وغریب رواج ہے کہ ختم قرآن پر اِس طرح جشن منایا جاتا ہے جیسے کسی بڑی شادی میں، بعض مرتبہ بچے کے والدین صاحبِ وسعت نہیں ہوتے ہیں؛ لیکن اِس کے باوجود حافظ صاحب وغیرہ اُس بچے کے ذریعہ ایسا ماحول بنادیتے ہیں کہ والدین