والخوارج، زمن ابن الزبیر، وہم یقتتلون۔ فقیل لہ: أتصلي مع ہٰؤلاء، وبعضہم یقتل بعضًا؟ فقال: من قال حي علی الفلاح، أجبتہ، ومن قال: حي علی قتل أخیک المسلم وأخذ مالہ۔ قلت: لا۔ (رواہ ابن منصور)
وثبت أن الصحابۃ رضي اللّٰہ عنہم صلوا وراء الولید بن عقبۃ، وکان قد شرب الخمر۔ فصلی بہم الصبح رکعتین۔ ثم قال: أزیدکم؟ (أخرجہ مسلم في الحدود / باب حد الخمر (۳۸؍۱۷۰۷) ۱۱؍۲۱۶ مع شرح النووي)
وقالوا: إنہ رجل صلاتہ صحیحۃ، فصح الائتمام بہ، کغیرہ۔
وقالوا: إن ترک الصلاۃ خلف الفاسق، ترکٌ لسنۃ الجماعۃ، والجماعۃ من شعائر الدین المطلوبۃ، والعدالۃ مکمّلۃ لذٰلک المطلوب، ولا یبطل الأصل بالتکملۃ۔ انظر: المغني ۳؍۱۸، الشرح الکبیر مع الإنصاف ۴؍۳۵۷، الموافقات للشاطبي ۲؍۱۲۔ (بدایۃ المجتہد ونہایۃ المقتصد، کتاب الصلاۃ / الباب الثاني من الجملۃ الثالثۃ صلاۃ الجماعۃ، الفصل الثاني في أحکام الإمامۃ ۲؍۲۵۲ دار ابن الجوزیۃ بیروت) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
املاہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ
۲؍۱۲؍۱۴۳۵ھ
مصلحۃً بریلوی اِمام کے پیچھے نماز پڑھنا؟
سوال(۶۶):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: کچھ سالوں سے سے ہمارے گاؤں کی مسجد میں ہر نماز میں دو جماعتیں ہر وقت ہوتی ہیں، جن میں ایک بریلویوں کی دوسری دیوبندیوں کی، دیوبندیوں کی تعداد بہت کم ہے، پورا گاؤں بریلوی ہے، اور ایک ہی مسجد ہے، اور مسجد میں دیوبندی لوگ صبح وشام تعلیم کرتے ہیں، جس میں وہ لوگ بھی بیٹھ جاتے ہیں جو بریلوی امام کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں جس سے کافی لوگ عقائد بریلویت کو چھوڑکر اہل سنت والجماعت میں داخل ہوگئے ہیں، اگر الگ مسجد بنائی جائے تو یہ لوگ ہماری مسجد میں تو