صلاتہا في دارہا، وصلاتہا في دارہا خیر من صلاتہا في مسجد قومہا۔ (إعلاء السنن نقلا عن الطحاوي / باب وجوب صلاۃ العیدین ۸؍۸۷)
والسنۃ أن یخرج الإمام إلی الجبانۃ۔ (إعلاء السنن ۴؍۹۲)
وفي فتح الباري: واستدل بہ أي بحدیث أبي سعید علی استحباب الخروج إلی الصحراء لصلاۃ العید، وإن ذلک أفضل من صلاتہا في المسجد لمواظبۃ النبي صلی اﷲ علیہ وسلم علی ذلک مع فضل مسجدہ۔ (إعلاء السنن ۴؍۹۴)
الخروج إلی المصلی وإن صلاتہا في المسجد لا تکون إلا عن ضرورۃ۔ (فتح الباري / کتاب الصلاۃ ۲؍۴۵۰ دار الکتب العلمیۃ بیروت)
ولو قدر بعد الفوات مع الإمام علی إدراکہا مع غیرہ فعل للاتفاق علی جواز تعددہا۔ (طحطاوي علی مراقي الفلاح ۵۳۵ المکتبۃ الأشرفیۃ دیوبند)
ویجوز اقتداء جار المسجد بإمام المسجد وہو في بیتہ إذا لم یکن بینہ وبین المسجد طریق عام، وإن کان طریق عام ولکن سدتہ الصفوف، جاز الاقتداء لمن في بیتہ بإمام المسجد۔ (الفتاویٰ الہندیۃ ۱؍۸۸)
وتقلیل الجماعۃ مکروہ بخلاف المساجد التي علی قوارع الطریق؛ لأنہا لیست لہا أہل معروفون، فأداء الجماعۃ فیہا مرۃ بعد أخریٰ لا یؤدي إلی تقلیل الجماعۃ۔ (بدائع الصنائع ۱؍۳۷۹، کتاب المسائل ۱؍۴۲۱، ایضاح المسائل ۳۴-۳۵) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
املاہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۲۰؍۱۱؍۱۴۳۶ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفا اللہ عنہ
خطبۂ عیدین میں تکرار تکبیر سے کیا مراد ہے؟
سوال(۹۲):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: عیدین کے خطبہ کے سلسلہ میں بہشتی زیور میں ہے کہ عیدین کے خطبہ میں پہلے تکبیر سے ابتداء