باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: مسئولہ صورت میں جن حضرات کی نیت صرف بابا گنج کے اجتماع میں شرکت کی تھی اور اپنے وطن سے نکلتے وقت اُنہوں نے سفر شرعی کا اِرادہ نہیں کیا تھا یا جنہوں نے اپنے اِرادہ کو امیر صاحب کی نیت پر معلق رکھا تھا، یہ لوگ تو مسافر بنے ہی نہیں؛ بلکہ بدستور مقیم ہیں؛ کیوںکہ حتمی طور پر سفر شرعی کا اِرادہ نہیں پایا گیا؛ البتہ جن امیر صاحب نے اپنے وطن سورت گنج سے نکلتے وقت دہلی جانے کا اِرادہ کر لیا تھا تو وہ اپنے وطن سے نکلتے ہی مسافر ہوچکے تھے؛ تاہم جب بابا گنج کے اجتماع میں مشورہ سے اُن کی جماعت کا رخ دہلی کے بجائے بارہ بنکی اور اُس کے اطراف میں کردیا گیا تو چوںکہ مسافت شرعی کے تحقق سے قبل اُن کا ارادۂ سفر ملتوی ہوگیا ہے؛ اِس لئے اَب وہ مسافر نہیں رہیںگے اور بارہ بنکی کے اطراف میں کام کرنے کے دوران وہ سب اِتمام کریں گے۔
وأما إذا لم یستمکل المسافر ثلاثۃ أیامٍ فہو بمجرد العزم علی الدخول في مصرہ یصیر مقیمًا، وتتم صلاتہ۔ (عنایۃ مع فتح القدیر ۲؍۴۱ زکریا)
وأما إن لم یکملہا فیتم بمجرد رجوعہ؛ لأنہ نقض السفر قبل استحکامہ۔ (مجمع الأنہر ۱؍۲۴۰ دار الکتب العلمیۃ بیروت) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
املاہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۱۰؍۶؍۱۴۳۶ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفا اللہ عنہ
تبلیغی جماعت جب کسی شہرمیں پہنچے تو اس کے لئے قصر واتمام کے حکم میں کیا تفصیل ہے ؟
سوال(۱۰۴):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: جس مسجد میں میں عشاء کی نماز پڑھا تا ہوں اس میںچند دن سے دہلی سے بھیجی ہوئی جماعت کام کررہی ہے اس میں ایک قاری ،اور ایک عالم صاحب بھی ہیں، میں نے قاری صاحب سے کہا کہ مرادآباد میں آپ کی جماعت کا قیام کب تک ہے انہوں نے کہا تقریباً ایک مہینہ : میں نے