کے بغیر حقیقی قبضہ متحقق نہیں ہوپائے گا؛ کیوںکہ جب تک مقسوم ومتعین نہ ہو، تو اس میں دوسرے شریک کی اجازت کے بغیر تصرف کرنے کا مجاز نہیں ہوسکتا، مثلاً اس حصہ کو گھیرکر تعمیر نہیں کرسکتا وغیرہ۔
اس کے برخلاف حضرات ائمہ ثلاثہ کے نزدیک اس طرح کی جائیداد میں تقسیم وتعیین سے قبل بھی ہبہ صحیح اور نافذ ہوجاتا ہے، ان کے نزدیک قبضہ کی تکمیل کے لئے تعیین ضروری نہیں ہے۔
ائمہ ثلاثہ کے دلائل
اس بارے میں ائمہ ثلاثہ کا استدلال درج ذیل احادیث وآثار پر ہے۔
(۱) آیت: {فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ} میں نصف مفروض واجب کیا گیا ہے؛ لہٰذا اس سے ہبہ مشاع کے جواز کا پتہ چلتا ہے۔
واستدل الشافعي رحمہ اللّٰہ بظاہر قولہ عزوجل: {فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ اِلاَّ اَنْ یَعْفُوْنَ} [البقرۃ: ۲۳۷] أوجب سبحانہ وتعالیٰ نصف المفروض - إلی قولہ - فیدل علی جواز ہبۃ المشاع في الجملۃ۔ (بدائع الصنائع ۵؍۱۷۰)
(۲) مالِ غنیمت میں تقسیم سے قبل ہبہ حدیث سے ثابت ہے، اس سے بھی ہبہ مشاع کی مشروعیت معلوم ہوتی ہے۔
وبما روي أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لما شدّد في الغلول - إلی قولہ - أما نصیبي فہو لک وسأسلمک الباقي۔ (مسند أحمد ۲؍۱۸۴)
(۳) حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ اور دو حضرات نے اپنا حصہ تقسیم سے قبل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کیا تھا، اور آپ نے اسے قبول بھی فرمالیا، اس سے بھی ہبہ مشاع کی صحت کی دلیل ملتی ہے۔
وروي أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نزل علی أیوب الأنصاري - إلی قولہ - فوہب اسعدؓ نصیبہ من النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم فوہبا أیضاً نصیبہما من رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فقد قبل النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم الہبۃ في نصیب أسعدؓ وقبل في نصیب الرجلین أیضاً ولو لم یکن جائزاً لما قبل۔