مسلمانوں کے تفرق، اختلاف وانتشار کے ظاہری و باطنی اسباب
مسلمانوں کے تفرق، اختلاف وانتشار کے ظاہری وباطنی اسباب

آج کل پاکستان جس بحرانی دور سے گذررہا ہے وہ انتہائی دردناک ہے اور شاید پاکستان کی ۲۴/سالہ زندگی میں اتنا دردناک دور کبھی نہیں آیا ہوگا۔ ستمبر ۱۹۶۵ء میں بلاشبہ ایک ایسا نازک اور دردناک دور آیا تھا جس میں پاکستان کے وجود کے لئے خطرہ پیدا ہوگیا تھا اور مکار دشمن نے اس شدت سے حملہ کیا کہ پاکستان صفحہ ٴ وجود ہی سے مٹ جائے، لیکن حق تعالیٰ نے محض فضل وکرم سے اس کے نتائج سے بچایا، تمام ملک اور پوری قوم میں ایک غیبی لطیفہ کا ظہور ہوا، تمام امت میں ایمانی روح کی لہر دوڑ گئی اور اس کے نتیجے میں تصور سے بالاتر برکات اور نصرت الٰہی نازل ہوئی اور قوم وملک تباہی وبربادی سے بچ گئے، اس وقت ضرورت تھی کہ اس نئی روح کی حفاظت کی جاتی اور حق تعالیٰ کاصحیح شکر ادا کیا جاتا، اگر یہ ہوتا تو حق تعالیٰ کا وعدہ: ”لئن شکرتم لازیدنکم“․․․اگر تم شکر کروگے تو مزید انعامات دیں گے․․․ پورا ہوجاتا،ملک قوی سے قوی تر ہوجاتا، قوم کو راحت وسکون کی زندگی میسر آتی اور اعدائے اسلام کے حوصلے پست ہوجاتے، لیکن افسوس! صد افسوس! کہ ایسا نہیں کیا گیا، بلکہ اس کے برعکس اس نئی روح کو فنا کرنے اور اس نئے خون کو پاکستان کے بدن سے جلد از جلد خارج کرنے کی کوشش کی گئی، یوں اس ملک کو تباہی وبربادی کے راستے پر ڈالاگیا، تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں، یہ ابھی کل کی تاریخ ہے جو دنیا کے سامنے ہے، ہم نے خود اپنے ہاتھوں وہ حالات پیدا کئے جن کے نتائج ِ بد ہمارے سامنے آرہے ہیں، شدید خطرہ ہے کہ کہیں حق تعالیٰ کے دوسرے قانون :”ولئن کفرتم ان عذابی لشدید“ ․․․اور اگر تم میری ناشکری کروگے تو میرا عذاب بہت سخت ہے․․․ کا ظہور نہ ہوجائے۔
مسلمانوں کو اغیار سے کبھی اتنا نقصان نہیں ہوا جتنا اپنوں سے پہنچا، اسلامی ملکوں میں اغیار کی ریشہ دوانیاں ہمیشہ سے ہوتی رہی ہیں اور اب بھی ہو رہی ہیں مگر ان کے نتائج کبھی اتنے دردناک نہیں نکلے جس قدر کہ اپنوں کی غداریوں ، خیانتوں اور حماقتوں سے ملک وملت کو ہلاکت وتباہی کے گڑھے میں گرنا پڑا، خلافتِ عباسیہ کی تباہی سے سلاطین ِ مغلیہ کے زوال تک مسلمانوں کی یہی تاریخ ہے۔
مشرقی پاکستان میں جو نقشہ آج کل تیار ہورہا ہے، خاکم بدہن، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ سابق ناشکری کی سزا ہو، ظاہر ہے کہ جس مقصد کے لئے پاکستان کی ضرورت بتلائی گئی تھی اسے پورا نہیں کیا گیا، مقصد یہ تھا کہ آزاد قوم کی حیثیت سے ایک پاک سرزمین میں ایک باخدا قوم کی تشکیل کی جائے، آزادی کے ساتھ دین ودنیا کے نظام کو چلایاجائے، پاکستانی قوم، اپنی ذہنی اور ایمانی صلاحیتوں کے لحاظ سے ایک معیاری اور مثالی قوم ہو، جس میں تمام عالم اسلام کی قیادت کی اہلیت ہو اور اس خطہ ٴ پاک میں خدا کے دین کو نافذ کرکے دنیا کو یہ بتایا جاسکے کہ موجودہ دور میں اسلام نہ صرف یہ کہ زندگی کی راہنمائی کرسکتا ہے، بلکہ اسلام ہی وہ ضابطہ ٴ حیات اور دستورِ زندگی ہے جو انسانی مشکلات کا واحد حل ہے وغیرہ وغیرہ۔
لیکن جو کچھ ہوا اور جو کچھ ہورہا ہے وہ مخفی نہیں، تمام دعوے غلط ثابت ہوئے، تمام آرزوئیں خاک میں مل گئیں اصل مقصد نگاہوں سے اوجھل ہوکر طاقِ نسیان کی زینت بن گیا اور ہمارے سامنے صرف ایک مسئلہ رہ گیا اور وہ ہے ”پیٹ کا مسئلہ“! اس کو حل کرنے کے لئے بھی بدترین قسم کے نظام سرمایہ داری کا راستہ اختیار کیا گیا، معیار ترقی کے خبط میں ظلم واستحصال کی آخری حدود کو چھو لیا گیا، سود، قمار، سٹہ، لاٹری اور بیمے کا گھن ملک کی عوامی معیشت کے تمام مغز کو چاٹ کر کھوکھلا کر گیا، غریبوں کی ضرورتوں کو پسِ پشت ڈالا گیا، بے حیائی وعریانی اور فواحش ومنکرات کا بازار خوب خوب گرم ہوا، دین کے دشمنوں کو کھلی چھٹی ملی، اسلام کو دفن کرنے کی تدبیریں کی گئیں، محرمات کو حلال ثابت کرنے کے لئے لاکھوں کروڑوں کے مصارف سے ادارے قائم کئے گئے اورخدا کے دین کا نام ملائیت رکھ دیا گیا، الغرض وہ کون سی کسر ہے جو یہاں باقی چھوڑی گئی، سیاسی، اقتصادی، دینی، علمی، اخلاقی، سماجی ہراعتبار سے قوم قعرِ مذلت میں گرتی چلی گئی مگر قوم کے ناخداؤں کی آنکھیں نہ کھلیں، انا للہ۔
بالآخر یہ حقائق رنگ لائے اور ان کے بدترین نتائج ہمارے سامنے آئے، آج جو سیاسی بحران نظر آرہا ہے، وطنی ولسانی عصیبتیں ابھر رہی ہیں، بھائی بھائی کا گلاکاٹ رہا ہے، ایک ہی جسم کے اعضاء ایک دوسرے کے خلاف نفرت وبیزاری کے بھیانک مظاہرے کررہے ہیں اور ملک پاک کا نازک آبگینہ چوراہے میں ٹوٹ کر منتشر ذرات میں تحلیل ہوا چاہتا ہے، یہ سزا ہے خدا فراموشی کی، چنانچہ خدافراموش قوم کے تمام خد وخال آج ایک ایک کرکے سامنے آرہے ہیں۔
ہماری ناقص رائے میں موجودہ حالات کے دو سبب ہیں، ایک ظاہری اور ایک باطنی، ان دونوں کی طرف ہم نے اشارہ کردیا۔
باطنی منشاء تو یہی کہ پاکستان کے اصل مقصد ِ وجود کو نظر انداز کردیا گیا اور اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت کی ناشکری کی گئی، عرصہ ٴ دراز سے مسلمانوں کی آزادی کی کوششیں جاری تھیں، ۱۹۵۷ء اور اس کے بعد سے مختلف سیاسی تدبیریں کی گئیں، سنة اللہ یہ ہے کہ بغیر قربانی کے اتنی بڑی نعمت نہیں ملتی۔ بالآخر وہ قربانی بادل ناخواستہ دینی ہی پڑی، لاکھوں جانیں ضائع ہوئیں، عورتیں بیوہ اور بچے یتیم ہوئے، ہزاروں عصمتیں لٹیں، وطن چھوڑا، مال واسباب اور جائداد لٹائی، ہجرت کرنی پڑی، گویا وہی نقشہ تھا جو آلِ فرعون کا قرآن نے بیان کیا:
”کم ترکوا من جنات وعیون وزروع ومقام کریم ونعمة کانوا فیہا فاکہین“۔ (الدخان:۲۵،۲۶،۲۷)
ترجمہ:۔”وہ لوگ کتنے ہی باغ اور چشمے اور کھیتیاں اور عمدہ مکانات اور آرام کے سامان جن میں وہ خوش رہا کرتے تھے چھوڑ گئے“۔
آخر اللہ تعالیٰ نے پاکستان کی شکل میں اس کا بدلہ دیا، سلطنت دی، دولت وثروت دی، عزت وراحت دی، دولتِ خدا داد پاکستان کا وقار اونچا کیا اور اسے سربلندی عطا فرمائی، کارخانے ، دوکانیں، انڈسٹریاں ، ملیں، الغرض جو کچھ گیا تھا اس سے بڑھ کر دیا، آخر ان نعمتوں کا شکر بھی تو ادا کرنا تھا، تقویٰ وطہارت کی زندگی اختیار کرنی تھی، کتاب وسنت کا خدائی قانون نافذ کرنا تھا، اسلامی اخوت ومواسات کے رشتے قائم کرنے تھے اسی سے تمام ملکی ولسانی اور قومی عصبیتیں ختم ہوجاتیں، بہرحال ایک باخدا قوم کے آثار ونشان قائم کرنے تھے اور دنیا سے زیادہ دین کی ترقی کی فکر کرنی تھی، لیکن یہ سب کچھ نہ ہوا، نہ کیا۔ وہ تو اللہ تعالیٰ بھلا کرے قوم کے صالح افراد کا کہ حکومت کی سطح پر اگر چہ نہیں ہوا، مگر قوم کے صالح اور دردمند لوگوں نے انفرادی تعاون سے ہزاروں مسجدیں بنائیں، سینکڑوں مدرسے چلائے، بہت سے ادارے قائم کئے، مسلمان بچوں کی دینی تعلیم کا انتظام کیا، جب جاکر اسلام کا کچھ نقشہ باقی رہا اور اللہ تعالیٰ کا عذاب ٹل گیا، ورنہ عذابِ الٰہی نہ معلوم کس شکل میں آتا، لیکن جیساکہ عرض کیا گیا یہ دینی خدمت جو تھوڑی بہت ہوئی انفرادی شکل میں ہوئی مگر قومی اور حکومتی سطح پر آج تک کوئی قابل قدر کام نہ ہوسکا، ۲۳،۲۴ سال سے اسلامی دستور اور اسلامی قانون کے لفظی نعروں سے فضا گونج رہی ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ آج تک نہ اسلامی قانون کا لفظ منت کش معنی ہوا، نہ اسلامی دستور کا خواب شرمندہ ٴ تعبیر ہوسکا، سنة اللہ کے مطابق جب کسی قوم سے ”اجتماعی جرم“ سرزد ہوتا ہے تو اس قوم پر باندازہ ٴ جرم اسی نوعیت کا ”اجتماعی وبال“ آتا ہے، یہ ہے اصل باطنی سبب اس شدید قسم کے سیاسی، لسانی، وطنی اور اقتصادی بحران کا جس نے پوری قوم کو موت وحیات کی کش مکش میں ڈال دیا ہے اور اس کا ظاہری سبب دراصل صالح، قوی، مخلص اور بیدار مغز قیادت کا فقدان ہے۔
اولاً:
ملک ہمیشہ سے اغیار اور دشمنانِ اسلام کی ریشہ دوانیوں کی آماجگاہ رہا، الا ماشاء اللہ ہرقیادت نے اپنے دینی وقومی اور مقامی وجغرافیائی تقاضوں سے زیادہ اغیار کے اشاروں پر عملدر آمد کو نشانِ سعادت مندی سمجھا، مفسد وشریر عناصر کو من مانی کرنے کی کھلی چھٹی دی گئی، ان کی اصلاح کرنے اور انہیں راہ راست پر لانے کی صحیح تدبیر نہیں کی گئی، صوبائی نظام کو توڑ کر پہلے وحدانی نظام (ون یونٹ ) بنایاگیا، اس کے پس منظر میں بھی نہ اسلامی رشتہ ٴ اتحاد کو مضبوط کرنا تھا، نہ اسلامی نظام کے اجراء کے لئے اچھی فضا پیدا کرنا، بلکہ سیاسی اغراض ومقاصد کار فرما تھے، تاہم اس کی صورت اور اس کا ڈھانچہ شاید اسلام سے قریب تر تھا مگر اسے مشرقی اور مغربی کی لعنت پھر سے مسلط کردی گئی اور اسلامی وحدت پارہ پارہ ہوکر رہ گئی۔
ثانیاً:
سرمایہ داری اور دولت کی طغیانی نے غریب عوام کے لئے مشکلات کا پہاڑ کھڑا کر دیا، ہمارے قائدین نے اس رستے ہوئے ناسور کا بروقت مداوا کرنے کی ضرورت محسوس نہ کی، نہ انہیں پسماندہ اور مظلوم طبقوں کے مسائل حل کرنے کی طرف توجہ ہوئی ، عوام میں اس سے ہیجانی کیفیت پیدا ہوئی اور کج ذہن عناصر کے جذباتی نعروں نے جلتی پر تیل کا کام دیا، ظلم واستحصال کی داستانیں کچھ ایسی لے میں سنائی گئیں کہ قوم ان کو خضر ومسیحا سمجھ بیٹھی، آخر ان حالات نے مجیب اور بھٹو کی شکل اختیار کرلی۔ شامتِ اعمال ما صورت نادر گرفت
”ازمااست کہ برمااست“ ”خود کردہ راچہ علاج“ فرمان خداوندی ہے:
”وما اصابکم من مصیبة فبما کسبت ایدیکم ویعفو عن کثیر“۔ (الشوریٰ:۳۰)
ترجمہ:۔”جو کچھ تمہیں پہنچ رہا ہے یہ خود تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوت ہیں اور بہت کچھ تو اللہ تعالیٰ معاف فرمادیتا ہے“۔
مسلمانوں کے تفرق وانتشارکا باطنی وظاہری علاج
مرض کی ٹھیک تشخیص کے بعد صحیح علاج ہو تو مریض کے جانبر ہونے کی امید کی جاسکتی ہے، باطنی مرض کا علاج تو یہ ہے کہ حق تعالیٰ کی طرف رجوع کیا جائے، سابقہ زندگی سے توبہ کی جائے، انابت الی اللہ کا راستہ اختیار کیا جائے کہ امن وسکون ہوتے ہی پہلی فرصت میں اسلام کا عادلانہ قانون نافذ کردیا جائے گا اور صالح معاشرے کے قیام وتشکیل میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی جائے گی، حق تعالیٰ کو ناراض کرکے قوم کی رضامندی حاصل کرنے کی کوشش نہ کی جائے اور گڑگڑا کر حق تعالیٰ سے اپنے اعمال کی معافی مانگی جائے، خصوصیت کے ساتھ سورہ بقرہ کی آخری آیت میں جو دعا سکھائی گئی ہے ۔”ربنا لاتؤاخذنا“ سے آخر آیت تک اسے ہروقت اور ہرنماز کے بعد پڑھا جائے اور آخر میں آمین اور درود شریف پڑھیں۔
ظاہری علاج یہ ہے کہ نہایت تدبر واخلاص کے ساتھ معاملہ کو سلجھانے کی کوشش کی جائے اور غلط قوتیں جو ابھر آئی ہیں ان کی اصلاح کے لئے مناسب تدبیریں حزم واحتیاط اور ہوشمندی ودانائی کے ساتھ اختیار کی جائیں جو ”نہ سیخ جلے نہ کباب“ کا مصداق ہوں۔یہ مختصر اور ناتمام اشارے ہیں جو سپرد قلم کئے گئے ہیں:
اند کے پیش تو گفتم حالِ دل ترسیدم
کہ آزردہ شوی ورنہ سخن بسیاراست
میں ایک عرصہ سے باہر تھا، حرمین شریفین میں قریب ایک ماہ کے گذر گیا اور اس کے بعد ”المجلس الاعلی للشئون الاسلامیة“ کی دعوت پر قاہرہ چلاگیا، ایک ہفتہ مصر رہا، اس طرح گویا ایک چلہ باہر گذرگیا، جب یہاں سے حرمین شریفین کا سفر ہوتا ہے تو پاکستانی اور غیر پاکستانی تمام حالات سے بے خبر ہوجاتا ہوں، توجہ کا محور بدل جاتا ہے اور نقطہ نگاہ وہاں کے مناسب زندگی ہوتی ہے، نہ یہاں کے اخبار پڑھتا ہوں اور نہ وہاں کے اخبار، نہ ریڈیو، نہ ٹیلیویژن، چلتے چلاتے کان میں کوئی بات پڑ گئی تو ناتمام علم ہوجاتا ہے، البتہ اپنے ملک سے قلبی تعلق کی بناء پر بالکلیہ بے تعلق بھی نہیں رہتا، وہاں کا جو کام ہے اسلام کے لئے اور مسلمانوں کے لئے دعائیں کرنا اور خصوصاً اپنے پاکستان اور صحیح قیادت اور صحیح نظام اسلامی قائم کرنے کی دعائیں کرنا اس میں کوتاہی نہیں ہوتی۔
جب بارگاہ قدس کی حاضری نصیب ہوئی اور حق تعالیٰ کی دعوت پر لبیک کہا، رحمت ورضوان کی بارگاہ عالی، تجلیات رحمانی کا ضوفشاں ماحول میسر آئے تو چونکہ جس طرح ارحم الراحمین کی رحمت بے انتہا ہے، اس طرح انسان اور انسانی ضروریات وحاجات وآرزؤں کی بھی کوئی حد نہیں، اس لئے سب کچھ مانگا جائے، خانہ کعبہ ہو یا ملتزم، مقام ابراہیم ہو یا میزاب رحمت، صفا ہو یا مروہ، رحمت الٰہیہ کی تجلیات اور حریم قدس کی آیات بینات ہیں، امسال خصوصیت کے ساتھ عام دعائیں مسلمانوں اور پاکستان کے لئے اور تمام عالم اسلام کے لئے قدس وفلسطین کے لئے بہت کیں۔
ہرسال لاکھوں مسلمان عالم اسلام کے گوشے گوشے سے بارگاہ قدس میں جلوہ گرہوتے ہیں اور نور ایمان کی خصوصی ضئو فشانی کی نعمتیں تقسیم ہوتی ہیں، گویا یہ تمام عالم اسلام کے نمائندے پہنچ جاتے ہیں، اگر ان کی اصلاح ہوجاتی اور واپس جاکر تمام عالم میں پھیل کر داعی الی اللہ بن جاتے تو کتنا بڑا انقلاب آجاتا، ونیا بدل جاتی، لیکن صدمہ اور افسوس ہے کہ جس طرح ہماری ہرعبادت سے روح نکل گئی ہے اسی طرح حج بیت اللہ کی برکات سے بھی پورا استفادہ نہیں ہوتا، اگر حدیث نبوی ا کے مطابق ”من حج ولم یرفث ولم یفسق رجع کیوم ولدتہ امہ“ اس طرح صالح بن کر واپس لوٹتے تو کتنا عظیم تغیر زندگیوں میں آجاتا۔ بہرحال کہنا یہ تھا کہ میں ایک عرصہ سے حالات سے بے خبر رہا ہوں اور اب بھی چنداں معلومات نہیں اور نہ معلوم میری یہ سطریں جب قارئین کے پاس پہنچیں گی تو سیاسی بحران کہاں تک پہنچ جائے، اور اس کے نتیجے میں پاکستان کا کیا بنے گا؟ اللہ تعالیٰ ہی کو علم ہے، بہرحال اپنی معلومات اور بساط کے مطابق جو سمجھا تھا اور جو کچھ تجویز میں آئی وہ عرض کردی۔
حق تعالیٰ سے دعا ہے کہ پاکستان کی حفاظت فرمائے اور ملک کو ٹکڑے کرنے سے بچائے اور دشمنان ِ اسلام کی ریشہ دوانیوں سے محفوظ فرمائے اور چند سفہاء قوم کے اعمال کے برے نتائج سے تمام ملت کو ہلاک نہ فرمائے دعا ہے:
”ربنا لاتؤخذنا بما فعل السفہاء منا ان ہی الا فتنک، ربنا لاتجعلنا فتة للقوم الظالمین ونجنا برحمتک من القوم الکافرین۔ وصلی اللہ علی صفوة البریة رحمة العالمین محمد وعلی آلہ وصحبہ وتابعیہ اجمعین۔
اشاعت ۲۰۱۰ ماہنامہ بینات , شوال المکرم:۱۴۳۱ھ - اکتوبر: ۲۰۱۰ء, جلد 73, شمارہ