جامعہ اور خدمت ِ خلق !
جامعہ اور خدمت ِ خلق

الحمد لله وسلام علی عبادہ الذین اصطفیٰ
ذاتی اور شخصی مفادات کے حصول کا شوق انسان کو اس کا حریص اور متمنی بنادیتا ہے کہ وہ خود بھی طویل عمر پائے ،اس کا مال ودولت اور وجاہت وسطوت بھی ہمیشہ ہمیشہ رہے اور کوئی چیز ان کو فنا نہ کر سکے۔
قرآن کریم اس انسانی جبلت اور کمزوری کی رعایت رکھتے ہوئے اس بات کا یقین دلاتا ہے کہ دولت کی بقا اور اضافہ اوراس کی عزت ومرتبت دنیوی بنک بیلنس بڑھانے اور اسے جوڑ جوڑ کر رکھنے میں نہیں، بلکہ اس کی صورت یہ ہے کہ آدمی انفاق فی سبیل اللہ… اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا عمل… زیادہ سے زیادہ کرے، جیساکہ قرآن کریم میں ہے:
”مثل الذین ینفقون اموالہم فی سبیل الله کمثل حبة انبتت سبع سنابل فی کل سنبلة مأة حبة، والله یضاعف لمن یشاء، والله واسع علیم“۔ (البقرة:۲۶۱)
ترجمہ:…”مثال ان لوگوں کی جو خرچ کرتے ہیں اپنے مال اللہ کی راہ میں، ایسی ہے کہ جیسے ایک دانہ، اس سے اُگیں سات بالیں اور ہربالی میں سو سو دانے، اور اللہ بڑھاتا ہے جس کے واسطے چاہے، اور اللہ نہایت بخشش کرنے والا ہے، سب کچھ جانتا ہے“۔
دنیوی بنک بیلنس اور مال ودولت کتنا بھی بڑھ جائے وہ صرف اس وقت تک فائدہ دے سکتا ہے، جب تک انسان اس دنیا میں ہے۔ہاں اگر کوئی اخروی زندگی کے لئے بھی مال ودولت محفوظ کرانا چاہتا ہے، اور یہ چاہتا ہے کہ وہ سرمایہ اور مال ودولت اسے وہاں بھی ملے تو اسے چاہیے کہ ایسی ہستی کے بنک اکاؤنٹ میں جمع کرادے جسے بقا ہے، فناء نہیں۔ اس لئے کہ جس طرح انسان خود فانی ہے، اسی طرح اس کا دنیوی اکاؤنٹ بھی فانی ہے۔ جیساکہ ارشاد ہے:
۱… ”ماعندکم ینفذ وما عند الله باق“ ۔ (النحل:۹۶)
ترجمہ:…”جو تمہارے پاس ہے وہ ختم ہوجائے گا، اور جو اللہ کے پاس ہے وہ کبھی ختم نہ ہوگا“۔
۲…وما تقدموا لانفسکم من خیر تجدوہ عند الله ہو خیرًا واعظم اجرًا“۔ (مزمل:۲۰)
ترجمہ:…”اور جو کچھ آگے بھیجو گے اپنے واسطے کوئی نیکی اس کو پاؤگے اللہ کے پاس بہتر اور ثواب میں زیادہ“۔
اس اخروی اکاؤنٹ کو محفوظ بنانے کی شرط یہ ہے کہ جو کچھ اس میں جمع کرایا جائے اس میں خود غرضی ، نفاق، عجب، کفر،ریا، شہرت،تکبر اور کسی تکلیف دہ عمل کی آمیزش نہ ہو۔ جیساکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
”یا ایہا الذین آمنوا لاتبطلوا صدقاتکم بالمن والاذی کالذی ینفق مالہ رئاء الناس ولایومنون بالله والیوم الآخر…“۔ (البقرہ:۲۶۴)
ترجمہ:…” اے ایمان والو! مت ضائع کرو اپنی خیرات احسان رکھ کر اور ایذاء دے کر اس شخص کی طرح جو خرچ کرتا ہے اپنا مال لوگوں کے دکھانے کو اور یقین نہیں رکھتا ہے اللہ پر اور قیامت کے دن پر“۔
الحمد للہ! اس گئے گزرے دور میں بھی امت مسلمہ کا کثیر طبقہ اللہ کی لازوال کتاب کے ان قطعی ارشادات پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرتا ہے اور جان، مال، وقت میں سے جس کی جب اور جہاں ضرورت ہو، سب کچھ اللہ کی راہ میں قربان کرنے کو اپنی سعادت سمجھتا ہے۔
پاکستان میں آنے والے اس بدترین سیلاب میں مخیر حضرات نے جس انداز، ولولے اور جوش وجذبے سے دینی اداروں کے ذریعے متاثرین سیلاب کی امداد کی ہے، اس نے قرون اولیٰ کی یاد تازہ کردی ہے۔
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن نے ہرتحریک، ہرمیدان اور امت مسلمہ کی صلاح وفلاح کے ہرموقع پر صف اول کا کردار ادا کیا۔ یہ ادارہ طلبہ کی تعلیم وتربیت کی طرح ان کی زندگی کی اصلاح اور سماجی ورفاہی خدمات پر نہ صرف یہ کہ نظر رکھتا ہے، بلکہ اس کے لئے عملی کوششیں بھی کرتا ہے۔چونکہ آج بھی دینی اداروں کی طرف سے متاثرین سیلاب کی امداد وتعاون اور خدمات وجذبات کی بالکل وہی صورت ہے جو کشمیر اور بالاکوٹ وغیرہ میں زلزلہ کے بعد تھی، اسی لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ماہنامہ بینات رجب ۱۴۲۷ھ کے اداریہ کا ایک اقتباس یہاں نقل کردیا جائے جوحضرت مولانا سعید احمد جلال پوری شہید نے ”خدمات جامعہ کے تسلسل کی ایک کڑی“ کے عنوان سے اس وقت تحریر فرمایا تھا۔ حضرت شہیدلکھتے ہیں:
”اس موقع پر جہاں دنیا بھر کی غیر مسلم این جی اوز نے اپنے مخصوص مقاصد کی تکمیل کی خاطر ان علاقوں کا رخ کیا، وہاں مسلم برادری خصوصاً دین دار مسلمانوں، اہل ثروت، اربابِ مدارس، دینی طلبہ اور علماء نے اپنے بھائیوں کی مدد کے لئے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ یہی وجہ ہے کہ غیر ملکی تنظیموں اور میڈیا نے اس کا برملا اعتراف کیاکہ پاکستان کی دینی تنظیموں، دین دارطبقہ علماء اور اربابِ مدارس نے اس موقع پر بے مثال قربانی اور خدمت وتعاون کے جذبے کا ثبوت دیا، لیکن افسوس! کہ اسلام دشمن اور علماء مخالف طبقے نے ایسے موقع پر بھی نہ صرف یہ کہ دینی طبقے کو اپنے مسلمان بھائیوں کی خدمت سے باز رکھنے کی ناپاک کوشش کی، بلکہ اس کے مقابلے میں غیر مسلم این جی اوز کی حوصلہ افزائی کی، مگر بایں ہمہ یہ حضرات اپنے ایمانی جذبے کے پیش نظر خدمت وخیر خواہی میں مصروف رہے“۔ (ماہنامہ بینات، رجب ۱۴۲۷ھ)
ان قدرتی آفات و مصائب میں بارہا یہ بات ثابت ہو چلی ہے کہ غیر مسلم این جی اوز جذبہ ٴ ہمدردی و خیر خواہی اور انسانیت کی خدمت کی بجائے ہمیشہ اپنے مخصوص مقاصد اور ترجیحات کو سامنے رکھ کر اپنی پالیسیاں بناتی اور کام کر تی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیلاب زدگان کی اس مصیبت کی گھڑی میں ان کی قابل ذکرکوئی کارکردگی سامنے نہیں آئی۔ اس کے برعکس الحمد للہ، دین دار ، اہل علم، علماء، اہل خیر اور ارباب ثروت مسلمان حضرات نے دل کھول کرمحض اللہ کی رضاکی خاطر اور انسانیت کے رشتے کی بنا پر مصیبت میں پھنسے ہوئے اپنے ان مسلمان بھائیوں کی خدمت کی ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں دنیا وآخرت میں بہتر سے بہتر اجر سے نوازیں ۔آمین۔
․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․
ماہنامہ بینات کے گزشتہ شمارہ: شوال المکرم ۱۴۳۱ھ کے ادارتی صفحہ کے آخر میں تحریر کیا گیا تھا کہ:جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کی نمائندہ جماعت متاثرین سیلاب کے کیمپوں اور ٹھکانوں پر پہنچ کر ان کی مدد اور تعاون کررہی ہے، جس کی تفصیلی رپورٹ اگلے شمارہ میں شائع کی جائے گی۔لہذا اب تک موصولہ رپورٹ کا کچھ خاکہ اور خلاصہ قارئین بینات کی خدمت میں پیش ہے:
اللہ کے فضل وکرم اور مخیر حضرات کے بھر پور اعتماد اور تعاون سے جامعہ کی نمائندہ جماعتیں سیلاب زدہ تینوں صوبوں میں پہنچیں اور وہاں کے مقامی علمائے کرام اور معززین حضرات کی راہنمائی میں مندرجہ ذیل صورتوں اور طریقوں سے متاثرین سیلاب کی مدد کی:
” صوبہ خیبر پختون خوا“ کے متأثرین کے لئے بنایا گیا پیکج جامعہ کے فاضل مولانا محمد جہانگیر صاحب کی معرفت مردان سے تیار کرایا گیا ،جس میں آٹھ اشیاء مندرجہ ذیل مقدار میں رکھی گئی تھیں:
نمبر شمار
اشیاء
مقدار
وزن
۱
آٹا
بیس
کیلو
۲
گھی
پانچ
کیلو
۳ چاول پانچ کیلو ۴ دال دو کیلو ۵ لوبیا دو کیلو ۶ چینی ڈیڑھ کیلو ۷ ماچس ۸ صابن تفصیل علاقہ جات برائے تقسیم راشن ونام مسئولین: نمبر شمار علاقہ پیکج نام مسئولین ۱ جامعہ ابو ہریرہ ٹرسٹ ۲۲۰ معرفت مولانا عبدالقیوم حقانی صاحب ۲ شب قدر چارسدہ ۴۱ ۳ چارسدہ ۱۰۰ معرفت مولانا گوہر شاہ صاحب ۴ تنگی چارسدہ ۲۰۰ پروفیسر ادریس صاحب ۵ نستہ ،نوشہرہ ۱۰۰ فاضل جامعہ مولانا مراد صاحب ۶ نوشہرہ بارہ مانڈہ ۱۰۰ فاضل جامعہ مولانا خالد صاحب ۷ نوشہرہ ۳۲۱ فاضل جامعہ مولانا ادریس صاحب ۸ نوشہرہ، چارسدہ ۲۶۰ مولانا شجاع الملک ،مولانا امانت شاہ صاحبان ۹ ڈاگی مکرم خان ۲۰۰ معرفت جناب انس صاحب ۱۰ چارسدہ ۳۰ مولانا محمد امجد صاحب ۱۱ کانوکلے،چارسدہ ۳۰ مولانا میاں صاحب ۱۲ تنگی ،چارسدہ ۱۰۰ مولانا خلیل صاحب یہ پیکج ”صوبہ خیبر پختون خوا“ کے مختلف مقامات پر(۱۷۰۲) ایک ہزار سات سو دو خاندانوں میں تقسیم کیا گیا ، اوسطاً فی خاندان چھ افراد پر مشتمل ہو تو گویا دس ہزار دو سو دس افراد اس امداد سے مستفید ہوئے۔ نقد رقم کی صورت میں متاثرین سیلاب کی جو امداد کی گئی، اس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے: ۱… نزد محب باندہ ضلع مردان ۷۰ خاندان فی خاندان (۵۰۰۰)پانچ ہزار روپے، کل (۳۵۰۰۰۰) ساڑھے تین لاکھ روپے تقسیم کے گئے۔ ۲…حضرت مولانا سمیع الحق صاحب دامت برکاتہم کے دار العلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں موجود متأثرین سیلاب میں نقد رقم کی صورت میں مبلغ (۵۰۰۰۰۰) پانچ لاکھ روپے تقسیم کئے گئے۔ ۳…نوشہرہ میں جامعہ کے ایک فاضل مولانا عمیر بن ہدایت الرحمن کے نکاح کی تقریب کے بعد جامعہ کے رئیس حضرت ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے جامعہ طیبہ نوشہرہ میں موجودڈھائی سو سے زائد علماء کرام جو متاثرین سیلاب تھے، ان میں فی کس (۵۰۰۰)پانچ ہزار کے حساب سے(۱۲۵۰۰۰۰) بارہ لاکھ پچاس ہزار روپے اپنے دست مبارک سے تقسیم فرمائے۔ ۴… مولانا حجة اللہ صاحب ،امیر جمعیت علماء اسلام ضلع سوات اورمولانا امانت شاہ صاحب کی معیت میں ضلع سوات کے اس متاثرہ مقام کے لئے جہاں اب کچھ راستہ ہموار ہوا ہے، یعنی کالام سے آگے اتھروڑ مقام پر مبلغ(۷۰۰۰۰۰)سات لاکھ روپے تقسیم کئے گئے۔ ۵… اسی طرح مٹلتان اور اشو میں مبلغ(۸۰۰۰۰۰) آٹھ لاکھ روپے تقسیم کئے گئے۔ ۶… قاری محمد عثمان صاحب امیر جمعیة علماء اسلام کراچی اور مولاناامانت شاہ صاحب کی معیت میں بشام اور شاہ پور میں مبلغ( ۱۰۰۰۰۰) دس لاکھ روپے تقسیم کئے گئے۔اب تک اس صوبہ میں ایک کروڑ سے زائد نقد رقم اور خورد ونوش کی اشیاء متاثرین سیلاب میں تقسیم کی جاچکی ہیں۔جب کہ ان اشیاء کے علاوہ ادویات وافر مقدار میں بذریعہ ڈاکٹرز تقسیم کی گئیں۔ ” صوبہ پنجاب“ کے متأثرین کے لئے بنایا گیا پیکج ،جس میں چودہ اشیاء مندرجہ ذیل مقدار میں رکھی گئی تھیں: نمبر شمار اشیاء مقدار وزن ۱ آٹا بیس کیلو ۲ گھی پانچ کیلو ۳ چاول پانچ کیلو ۴ دال چنا دو کیلو ۵ دال مسور دو کیلو ۶ چینی دو کیلو ۷ مرچ ایک کیلو ۸ نمک ایک کیلو ۹ چائے ایک ڈبہ ۱۰ صابن لائف بوائے دو عدد ۱۱ کپڑے دھونے کا صابن دو عدد ۱۲ ماچس ایک ڈبہ تفصیل علاقہ جات برائے تقسیم راشن ونام مسئولین نمبر شمار علاقہ تعداد نام مسئولین ۱ شجاع آباد ۲۵۰ پیکج مولانا محمد عثمان صاحب ۲ جلال پور پیر والا ۱۰۰ پیکج مولانا محمد احمد پونٹوی صاحب ۳ مسکین پور ۴۰۰ پیکج مولانا پیر محمد شاہ صاحب ۴ علی پور ۱۰۰ پیکج مولانا محمد اجود حقانی صاحب ۵ شہر سلطان، مظفر گڑھ ۱۰۰ پیکج قاری عبد الرشید صاحب ۶ روہیلانوالی ،مظفر گڑھ ۱۰۰ پیکج مولانا ریاض احمد صاحب ۷ خان گڑھ، مظفر گڑھ ۱۰۰ پیکج مولانا احمد یار صاحب ۸ شاہ جمال، مظفر گڑھ ۱۰۰ پیکج قاری محمد معین صاحب ۹ مونڈ کا مظفر گڑھ ۱۰۰ پیکج مولانا عقیل احمد ترابی صاحب ۱۰ مظفر گڑھ شہر ۲۵۰ پیکج مولانا عبد الرحمن جامی صاحب ۱۱ اڈہ بصیرہ، مظفر گڑھ ۱۵۰ پیکج مولانا محمد موسیٰ صاحب ۱۲ سلطان کالونی، مظفر گڑھ ۱۵۰ پیکج مولانا شوکت علی صاحب ۱۳ چوک سرور شہید ۲۰۰ پیکج مولانا سعید اللہ صاحب ۱۴ کوٹ ادو مظفر گڑھ ۴۰۰ پیکج مولانا محمد عمر قریشی صاحب ۱۵ کوٹ سلطان لیہ ۱۵۰ پیکج قاری عبد الغفور صاحب ۱۶ لیہ ۵۰ پیکج مولانا محمد طارق صاحب ۱۷ ملتان ۱۰۰ پیکج مولانا محمد احمد صاحب ۱۸ محمود کوٹ ۱۰۰ پیکج مولانا عبد الرحمن جامی صاحب ۱۹ سناواں ۱۰۰ پیکج ۲۰ ترنڈہ محمد پناہ ۵۰ پیکج مولانا حاجی احمد صاحب ۲۱ مختلف علاقے ۶۰ پیکج مولانا محمد نواز صاحب ۲۲ خان گڑھ غربی ۵۰ پیکج مولانا عبد المجید صاحب ۲۳ سیت پور ۵۰ پیکج مولانا عبد المجید صاحب ۲۴ قصبہ گجرات ۱۰۰ پیکج مولانا محمد اقبال صاحب یہ پیکج تین ہزار تین سو دس خاندانوں میں تقسیم کیا گیا اور اوسطاً فی خاندان چھ افراد پر مشتمل ہو تو گویا (۱۹۰۰۰)انیس ہزار آٹھ سو ساٹھ افراد اس سے مستفید ہوئے۔ اس کے علاوہ کئی خاندانوں میں ۶ لاکھ سے آٹھ لاکھ تک نقد رقم کی صورت میں ان کی امداد کی گئی اور جہاں دوائیوں کی ضرورت تھی، وہاں ادویات پہنچائی گئیں اور جہاں چار پائیوں کی ضرورت تھی وہاں تقریباً ۶ سو کے قریب چار پائیوں کا انتظام کیا گیا، فی چار پائی مبلغ ایک ہزار میں ملی، اس حساب سے چھ لاکھ روپے کی چار پائیاں تقسیم کی گئیں۔ صادق آباد میں فاضل جامعہ مولانا طٰہٰ عبد الغفور تحفیظ القرآن والعلوم الشرعیہ عیدگاہ صادق آباد کی سرپرستی میں مختلف مقامات پر متاثرین سیلاب کی امداد اور تعاون کیا گیا، جس کی تفصیل یہ ہے: تفصیل علاقہ جات برائے تقسیم راشن ونام مسئولین نمبر شمار علاقہ تعداد مسئول ۱ عید گاہ صادق آباد ۲۰۰ مولانا طٰہٰ عبد الغفور صاحب ۲ خانقاہ صادق آباد ۲۵۰ مولانا سعید انصاری صاحب ۳ شہباز پور صادق آباد ۲۵۰ میاں محمد اسحاق صاحب ۴ دار العلوم حق فارم ۳۵۰ مفتی حماد لغاری صاحب ۵ سنکرسید پور لمحہ ۲۵۰ چوہدری خلیل احمد صاحب ۶ لوہاری میرے شاہ ۴۵ عبد القدیر صاحب یہ کل (۱۳۴۵)ایک ہزار تین سوپینتالیس خاندانوں میں تقسیم کیاگیا، اوسطاً فی خاندان چھ افراد پر مشتمل ہو تو (۸۰۷۰)آٹھ ہزار ستر افراد اس امداد سے مستفید ہوئے۔اس کے ساتھ دوائیاں ڈاکٹرز کے ذریعے تقسیم کی گئیں اور مستحقین میں کپڑا بھی تقسیم کیاگیا۔ ” صوبہ سندھ“ کے متأثرین کے لئے بنایا گیا پیکج ،جس میں دس اشیاء مندرجہ ذیل مقدار میں رکھی گئی تھیں: نمبر شمار اشیاء مقدار وزن ۱
آٹا
دس
کیلو
۲
گھی
دو
کیلو
۳
چاول
پانچ
کیلو
۴
دال مونگ
دو
کیلو
۵
دال چنا
دو
کیلو
۶
چینی
دو
کیلو
۷
دال مٹر
دو
کیلو
۸
چائے کی پتی
ایک
پاؤ
۹
مرچ
پاؤ

۱۰
نمک
ایک کیلو

یہ پیکج فاضل جامعہ حضرت مولانا محمد قاسم صاحب مدرسہ عربیہ انوار العلوم سکھر کی سرپرستی میں صوبہ سندھ کے مختلف مقامات پر سترہ سو خاندانوں میں تقسیم کیا گیا ، اوسطاً فی خاندان چھ افراد پر مشتمل ہو تو گویا دس ہزار دو سو افراد اس امداد سے مستفید ہوئے۔
تفصیل علاقہ جات برائے تقسیم راشن ونام مسئولین
نمبر شمار
علاقہ
تعداد
ناممسئولین
۱
روہڑی ،علی واہن
۲۰۰
مولانا عبد الکریم عباسی صاحب
۲
پنو عاقل
۲۰۰
شرف الدین صاحب
۳
ارائیں گنڈے وہن
۳۰۰
مولانا عبد الکریم جونیجو صاحب
۴
سکھر بائی پاس
۷۰۰
حافظ غلام محمد کندھر صاحب
۵
گڑھی یاسین ،شکار پور
۱۰۰
حاجی محمد خان صاحب
۶
نیو پنڈ ،سکھر
۶۰
حافظ حبیب اللہ صاحب
۷
کرم پور ،کندھ کوٹ
۵۰
حافظ محمد خالد صاحب
۸
بائی پاس نزد ڈائیو
۵۰
مولانا عبد الفتاح صاحب
۹
سلیمان ڈول گوٹھ
۴۰
غلام نبی بمعرفت قاری عبد الجبار صاحب
ا س کے علاوہ نقدی کی صورت میں ایک سو خاندانوں کی امداد کی گئی ۔ خاندان کے افراد کی کمی بیشی محل وموقع کی مناسبت اور ضرورت کے اعتبار سے پندرہ سو روپے سے لے کر بارہ ہزارروپے تک فی خاندان تقسیم کیا گیا۔ مجموعی رقم(۴۳۷۰۰۰) چار لاکھ سینتیس ہزار روپے تقسیم کی گئی۔
اب تک ہونے والے کام کی تفصیلات آپ نے ملاحظہ فرمائیں۔ متاثرین سیلاب کی بحالی اور آبادی کا مزید کام جاری ہے۔ان شاء اللہ وقتاً فوقتاً اس سے آپ کو آگاہ کیا جاتا رہے گا۔
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے رئیس اور نائب رئیس اس کام پرمامور نمائندہ جماعتوں ، فضلاء، کارکنان، معاونین، متعلقین، مسئولین اور کسی بھی اعتبار سے متاثرین سیلاب کی مدد وتعاون کرنے والے حضرات کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور اس عظیم سماجی خدمت پرانہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ان تمام حضرات کی مساعی جمیلہ کو قبول فرمائیں، آمین۔
وصلی اللّٰہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ سیدنامحمد و آلہ وصحبہ اجمعین
اشاعت ۲۰۱۰ ماہنامہ بینات , ذوالقعدہ:۱۴۳۱ھ -نومبر: ۲۰۱۰ء, جلد 73, شمارہ