طوافِ زیارت کرنا افضل ہے۔
فائدہ: اس طواف کا وقت دسویں ذی الحجہ کی صبحِ صادق سے لے کر
بارہویں کے غروبِ افتاب تک ہے، اگر بلا عذرِ شرعی اس طواف کو بارہ ذی الحجہ کے غروبِ آفتاب کے بعد کیا تو ایک دم دینا ہوگا۔
تنبیہ: طوافِ زیارت حج کا رکن ہے جو خواتین ماہ واری میں ہوں تو ان سے بھی یہ طواف ساقط نہیں ہوتا، ایسی خواتین کیلئے لازم ہے کہ وہ پاک ہونے کا انتظار کریں، پاکی کے بعد غسل کرکے یہ طواف ادا کریں، اگر طوافِ زیارت کیئے بغیر روانہ ہوگئیں تو اپنے خاوند کے لئے حلال نہیں ہونگی، اس کو خوب سمجھ لیں،اور اگر قافلہ روانہ ہو رہا ہے اور قافلہ والے ٹھیرنے کو تیار نہیں ، جیسا کہ پاکستان ہندوستان یورپ امریکہ کا قافلہ ہے تو بدرجۂ مجبوری اسی حالت میں طواف کرنا بالکل ہی چھوڑ کر جانے سے بہتر ہے، اور اس پر ضروری ہے کہ استغفار وتوبہ کرے ، اور ایک سالم اُونٹ حدودِ حرم میں ذبح کرانا لازم ہے ۔ اور اگر فی الحال استطاعت نہیں تو استطاعت ہونے پر مکة المکرمۃ پیسے بھجوادے اور کسی کو وکیل بنادے تاکہ اس کی طرف سے ذبح کردیا جائے ۔
تنبیہ: اگر حالتِ حیض میں طوافِ زیارت مجبوری کرنا پڑجائے تو مضبوطی سے لنگوٹ یا پیمپر باندھ کر پھر اسکے اُوپر دوسرا لباس پہن کر حرم شریف میں داخل ہو ۔
فائدہ: اگر کوئی خاتون مکہ شریف کی رہنے والی ہے تو اس کے لئے انتظار کرنا تو آسان ہے ہی اسی طرح کوئی جدہ کی رہنے والی ہے تو وہ جدہ آسکتی ہے، جب پاک ہوجائے تو پہلی فرصت میں جاکر طواف ِ زیارت ادا کرلے، مگر طواف کرنے سے