پاکستان میں کیا پوپ بینی ڈکٹ کی حکومت ہے؟
پاکستان میں کیا پوپ بینی ڈکٹ کی حکومت ہے؟

الحمدلله وسلام علی عبادہ الذین اصطفی
وطن عزیز اسلام کے نام پر وجود میں آیا، اس پاک خطے کے حصول کے لئے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں جانوں کی قربانیاں دی گئیں، عفت مآب ماوٴں، بہنوں اور بیٹیوں کی عصمتیں اور عزتیں سرِراہ لوٹی اور تارتار کی گئیں، مسلم جوانوں کا خون پانی کی طرح بہایا گیا، اس اَرضِ پاک کی طرف ہجرت کرکے آنے والے بچوں، بوڑھوں، مردوں اور عورتوں کو خاک وخون میں تڑپایا گیا، انہیں گاجرمولی کی طرح کاٹا گیا، ان پر شب خون مارنے کے علاوہ پانی کے کنووٴں اور تالابوں کو زہرآلود کیا گیا۔
ہمارے بزرگوں نے یہ سب کچھ صرف اس لئے برداشت کیا تاکہ اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام قائم ہو، اس خطے میں اللہ، اس کے رسول ا، دِین ومذہب اور شریعتِ اسلام کا بول بالا اور آئینی وقانونی طور پر ان کے مرتبہ اور مقام کے اِعتبار سے انہیں تحفظ حاصل ہو۔
لیکن آج اسی ملک میں دین اور اہلِ دین کی توہین وتنقیص کی جاتی ہے، دینی راہنماوٴں کو چن چن کر شہید کردیا جاتا ہے، دینی مراکز ومساجد کو بموں سے اُڑایا جاتا ہے، کفار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے والوں کو دہشت گرد اور قابلِ گردن زدنی قرار دِیا جاتا ہے۔ دین پڑھنے اور پڑھانے اور اس پر عمل کرنے والوں کو بنیادپرست اور اِنتہاپسند کہا جاتا ہے، دین میں تحریف کرنے والوں کو روشن خیال مذہبی اسکالر، اِعتدال پسند اور دانشورانِ قوم کا تمغہ دے کر پروان چڑھایا جاتا ہے۔
نوبت بایں جارسید کہ آج اسی ملک میں نبیٴ آخرالزمان، خاتم الانبیاء والمرسلین حضرت محمد رسول اللہ ا کی گستاخی کی جاتی ہے اور اسی ملک کا حکمران طبقہ قرآن وسنت، اِجماعِ اُمت اور آئین وقانون پر عمل کرنے کی بجائے کلیسائے رُوم کے پوپ بینی ڈکٹ کے حکم کی بجاآوری اور فرمانبرداری کے لئے کوشاں اور سرگرداں نظر آتا ہے۔ بلکہ بعض حکومتی ارکان ایسے گستاخ موذیوں کی نہ صرف یہ کہ پشت پناہی کرتے ہیں ،بلکہ بڑی ڈھٹائی اور دِیدہ دلیری سے ان کے وکیلِ صفائی اور ترجمان کا کردار بھی ادا کر رہے ہیں۔ کیا کہا جائے کہ ایسے لوگ حضور ا کا کلمہ پڑھنے والے اور آپ سے محبت کرنے والے مسلمان ہیں اور پاکستان کے حکمران ہیں؟ یا یہودیوں وعیسائیوں کے تنخواہ دار ایجنٹ اور کسی وائسرائے کی طرف سے مقرر کردہ نمبردار؟
اس اِجمال کی تفصیل یہ ہے کہ : چک نمبر۱۳ ٹاں والی ضلع ننکانہ کی ایک مسیحی عورت آسیہ نے ۱۴/جون ۲۰۰۹ء کو ایک فالسے کے باغ میں کام کرنے والی چند مسلم خواتین کے سامنے حضور ا کی ذات کے متعلق دِلخراش اور اہانت آمیز کلمات کہنے کے علاوہ آپ ا اور حضرت خدیجة الکبری کی مبارک شادی کے متعلق گستاخانہ کلمات کہے اور واہی تباہی بکی۔ مسلمان خواتین رونے لگیں اور باغ کے مالک کو شکایت کی، اس نے ملعونہ سے اس واقعے کے متعلق دریافت کیا تو اس نے دوبارہ وہی گستاخانہ کلمات اس کے سامنے کہے، پھر پنچایت کے سامنے اس نے اَزخود گستاخی پر مبنی ان کلمات کا اِعتراف کیا۔ طریقہٴ کار کے مطابق اس کے خلاف مقدمہ نمبر:۰۹/۳۲۶ زیر دفعہ ۲۹۵سی تھانہ صدر ننکانہ میں درج ہوا، ڈیڑھ سال تک یہ کیس چلتا رہا، تمام قانونی تقاضوں کے عمل میں آنے کے بعد جرم ثابت ہونے پر فاضل جج نے ۸/نومبر ۲۰۱۰ء کو اسے سزائے موت اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔
اس فیصلے کے بعد قانونی تقاضا اور طریقہٴ کار یہ تھا کہ ماتحت عدالت سے سزا ہونے کے بعد اپیل کے لئے ہائی کورٹ کی طرف رُجوع کیا جاتا، ہائی کورٹ اس سزا کو برقرار رکھتی تو سپریم کورٹ میں اپیل کا حق موجود تھا، اور سپریم کورٹ اس کی سزا برقرار رکھتی تو پھر صدرِ پاکستان کے پاس مجرمہ کی طرف سے رحم کی اپیل لے جائی جاتی (اگرچہ شریعت میں گستاخِ رسول کو معافی دینے کا کسی انسان کو حق نہیں)۔ اس تمام تر قانونی طریقہٴ کار سے ہٹ کر اور خود کو جج تصوّر کرکے وفاقی وزیر برائے اقلیتی اُمور شہبازبھٹی نے آسیہ کو بے گناہ قرار دیتے ہیں اور ساتھ ہی قوم کو تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ ۲۹۵سی کو تبدیل کرنے کی یہ ”نوید“ سناتے ہیں کہ اگلے برس اس بارے میں قانون سازی ہوجائے گی۔ خبر کا متن ملاحظہ ہو: ”حکومت نے عالمی دباوٴ پر توہینِ رسالت کے قانون میں تبدیلی کی تیاری شروع کردی، اور اس ضمن میں حزبِ اِختلاف کی جماعتوں اور مذہبی تنظیموں سے مشاورت کا آغاز کردیا گیا ہے۔ دُوسری جانب عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ بینی ڈکٹ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے حکومتِ پاکستان سے توہینِ رسالت کے اِلزام میں عدالت سے سزائے موت پانے والی ملعون آسیہ بی بی کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق اقلیتوں کے وفاقی وزیر شہبازبھٹی نے اپنے انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ توہینِ رسالت قانون کے غلط اِستعمال کو روکنے کے لئے قانون سازی کی کوشش کر رہے ہیں اور اُمید ہے کہ اگلے برس اس بارے میں قانون سازی ہوجائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اس بارے میں تجویز ہے کہ توہینِ رسالت کی شکایت پر مقدمہ درج ہونے سے قبل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج انکوائری کرے، اور اگر ثابت ہوجائے کہ بادی النظر میں توہینِ رسالت کی گئی ہے تو پھر مقدمہ درج ہونا چاہئے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ بعض لوگوں نے اپنے مفاد کے حصول کے لئے اس قانون کا غلط اِستعمال کیا اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ آج تک پاکستان میں کسی شخص کو توہینِ رسالت کے قانون کے تحت ملنے والی سزا کو پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں نے تسلیم نہیں کیا اور کسی شخص کو بھی سزا نہیں بھگتنا پڑی۔ شہبازبھٹی نے توہینِ رسالت کے قانون کے تحت موت کی سزا پانے والی آسیہ بی بی کے حوالے سے کہا کہ انہوں نے پنجاب حکومت کو خط لکھا ہے کہ جیل میں آسیہ کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے اور اسے اِنصاف دِلانے کے لئے تمام کوششیں کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ آسیہ نے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کردی ہے۔ اور اُمید ہے کہ وہ وہاں سے بَری ہوجائے گی۔ دریں اثنا عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ بینی ڈکٹ نے اپنے ہفتہ وار خطاب میں دعویٰ کیا کہ پاکستان میں مسیحی برادری کو اکثر تشدّد اور اِمتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے آسیہ کے ساتھ اپنی رُوحانی قرابت کا اِظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ دُعا کرتے ہیں کہ اس طرح کے حالات کا سامنا کرنے والے ہر شخص کے اِنسانی وقار اور بنیادی حقوق کا اِحترام ہو۔ (روزنامہ اُمت ۲۰/نومبر ۲۰۱۰ء)
توہینِ رسالت کی مجرمہ کو رہائی دِلانے کے لئے پاکستان پیپلز پارٹی صوبہ پنجاب کے ”مسلمان“ گورنر جناب سلمان تاثیر کی سرگرمیاں اور ہمدردیاں بھی ملاحظہ ہوں:
”توہینِ رسالت کی مجرمہ خاتون کو معافی دِلانے کے لئے گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے کہا ہے کہ میں صدر آصف علی زرداری کو توہینِ رسالت کے اِلزام میں عدالت سے سزائے موت پانے والی ۴۵سالہ عیسائی خاتون آسیہ کا معافی نامہ پیش کروں گا۔ اُمید ہے کہ صدر زرداری آسیہ کو معافی دے دیں گے۔ آسیہ کو معافی ملنے سے مذہبی حلقوں سے تصادم نہیں ہوگا، یہ مذہب نہیں انسانیت کا معاملہ ہے۔ آسیہ نے معافی کی درخواست دے دی ہے اور اس کی سزا بدستور برقرار ہے۔ میں عدالتی فیصلے میں مداخلت نہیں کرنا چاہتا لیکن آسیہ کی سزا اِنسانیت کے ناتے معاف کرانے کی کوشش کروں گا۔ وہ توہینِ رسالت کے جرم میں سزائے موت کے اِنتظار میں شیخوپورہ جیل میں قید ننکانہ صاحب کے گاوٴں اٹاں والی کی رہائشی آسیہ کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے، اس موقع پر آسیہ بی بی نے کہا کہ اس کے خلاف جھوٹا مقدمہ بنایا گیا، وہ حضورا کو آخری نبی مانتی ہے۔ گورنر پنجاب نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ بے بسوں کو ایسے مقدمات میں ملوث کرکے مذاق اُڑایا جارہا ہے۔ یہ تاثر غلط ہے کہ میں عالمی دباوٴ کی وجہ سے آسیہ سے جیل ملنے آیا ہوں۔ میں پہلے بھی اس کیس کا جائزہ لے رہا تھا اور میری ہمیشہ کوشش رہی کہ عدالتیں بے بسوں کے حق میں فیصلے دیں لیکن میں عدالت کے کام میں مداخلت نہیں کرسکتا۔ صدر سے آسیہ کو معافی ملنے سے مذہبی تصادم نہیں ہوگا، کیونکہ یہ مذہبی نہیں، انسانیت کا معاملہ ہے۔ ہم اس معاملے میں مذہب نہیں لانا چاہتے۔ ہم جناح وبھٹو کے وارث ہیں اور ترقی پسند پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں، اور ان کے اُصولوں کے مطابق ملک کو روشن خیال، ترقی پسند ملک بنانا چاہتے ہیں۔ گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے کہا کہ آسیہ بی بی کا معافی نامہ میں خود صدر کو پیش کروں گا۔ ہم یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی اقلیتوں کی حفاظت کرتی رہے گی اور ہم انہیں اس قسم (توہینِ رسالت جیسے) مقدمات کا ہدف نہیں بننے دیں گے۔ ہم توہینِ رسالت کے قانون کی حمایت نہیں کرتے، تاہم ہماری حکومت مخلوط ہے اور تبدیلی کے لئے سب کو ایک ہی کشتی میں سوار ہونا پڑے گا ․․․․․․․۔“ (روزنامہ اُمت ۲۱/نومبر ۲۰۱۰ء)
اخبارات میں ہے کہ صدرِ پاکستان جناب آصف علی زرداری صاحب نے توہینِ رسالت قانون پر عمل درآمد کے طریقہٴ کار میں تبدیلی کے لئے اقلیتی اُمور کے وفاقی وزیر کی سربراہی میں ایک کمیٹی مقرر کردی ہے۔ روزنامہ اُمت کی خبر ملاحظہ ہو:
”وفاقی وزیر برائے اقلیتی اُمور شہبازبھٹی نے توہینِ رسالت کے اِلزام میں سزائے موت پانے والی آسیہ بی بی کے کیس کی رپورٹ صدر زرداری کو پیش کردی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ملزمہ بے گناہ ہے اور اسے ذاتی رنجش کی بنا پر مقدمے میں پھنسایا گیا ہے۔ رپورٹ میں آسیہ بی بی کو معافی دینے، سزا معطل کرنے اور ان کے اہل خانہ کو سیکورٹی فراہم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے توہینِ رسالت قانون پر عمل درآمد کے طریقہٴ کار میں اِصلاحات کے لئے وفاقی وزیر شہبازبھٹی کی سربراہی میں کمیٹی بنانے کا حکم دے دیا ہے۔ صدر نے کہا کہ حکومت کسی کو توہینِ رسالت قانون کے غلط اِستعمال کی اِجازت نہیں دے گی اور اس قانون کے غلط اِستعمال کے بڑھتے ہوئے واقعات کو روکنے کے لئے اِنتظامی، طریقہ جاتی اور قانونی اِقدامات سمیت تمام تر مناسب اِقدامات اُٹھائے جائیں۔ صدر نے شہبازبھٹی کو ہدایت کی کہ وہ اِصلاحاتی طریقہٴ کار کی سفارش کے لئے دانشوروں اور ماہرین کی کمیٹی کے لئے نام تجویز کریں، تاکہ ذاتی اور سیاسی وجوہات پر توہینِ رسالت قانون کے غلط اِستعمال کو موٴثر طور پر روکا جاسکے۔ صدر زرداری سے وفاتی وزیر برائے اقلیتی اُمور شہبازبھٹی نے ایوانِ صدر میں ملاقات کی اور انہیں آسیہ بی بی کیس کی رپورٹ پیش کی جسے تعزیراتِ پاکستان (پی پی سی) کی دفعہ ۲۹۵بی اور سی کے تحت موت کی سزا سنائی گئی ہے۔ معاون دستاویزات کے ہمراہ رپورٹ میں نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ آسیہ بی بی کے خلاف توہینِ رسالت کا مقدمہ ذاتی دُشمنی کی بنیاد پر درج کرایا گیا اور ایف آئی آر میں بیان کردہ رپورٹ من گھڑت اور بدنیتی پر مبنی ہے۔ رپورٹ میں آسیہ بی بی کے لئے معافی اور سزا کی معطلی کی سفارش کی گئی۔ جبکہ جیل میں آسیہ بی بی اور اس کے اہل خانہ کو سیکورٹی فراہم کرنے کی بھی سفارش کی گئی۔ وفاقی وزیر شہبازبھٹی نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ توہینِ رسالت کے نتائج کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا جنرل ضیاء الحق کی طرف سے موجودہ شکل میں متعارف کردہ توہینِ رسالت کے قانون سے پہلے اقلیتوں کے خلاف توہینِ رسالت کا ایک بھی مقدمہ سامنے نہیں آیا تھا، لیکن اس قانون کے نفاذ کے بعد سینکڑوں غیرمسلموں کو غلط طور پر توہینِ رسالت کے قانون کے مقدمات میں ملوث کیا گیا، ان میں سے کئی کو عدالتی عمل سے رُجوع کئے بغیر ہلاک کردیا گیا۔“ (روزنامہ جنگ کراچی ۲۶/نومبر ۲۰۱۰ء)
لیکن اس کے باوجود وزیرِ قانون جناب بابر اعوان صاحب فرماتے ہیں کہ میری موجودگی میں کوئی قانونِ توہینِ رسالت تبدیل نہیں کرسکتا، روزنامہ جنگ کی خبر ملاحظہ ہو:
”وزیرِ قانون بابر اعوان نے صاف الفاظ میں کہا ہے کہ کسی کو توہینِ رسالت قانون کو تبدیل کرنے کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہئے۔ جنگ گروپ کے ایک سینئر رکن سے جمعرات کو گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ قانون نے خود کو ”شاہین“ کا لقب دیتے ہوئے کہا کہ ”وزیرِ قانون کی حیثیت سے میری موجودگی کے دوران کسی کو بھی اس قانون کو ختم کرنے کے بارے میں سوچنا تک نہیں چاہئے۔“ اندرونی اور بیرونی اداکاروں کی جانب سے شروع کئے گئے جاری منظم پروپیگنڈے کے درمیان جس میں مطالبہ کیا جارہا ہے کہ اقلیتوں کو نشانہ بنانے والے توہینِ رسالت کے قانون کو منسوخ کیا جائے، وزیرِ قانون جو دیگر صورتوں میں بے حد محتاط واقع ہوئے ہیں، اس معاملے میں اِستقلال سے جم گئے ہیں۔ بابر اعوان جو صدر زرداری کے قریبی مشیر ہیں اور کئی تنازعات میں ان کا کردار رہا ہے، انہوں نے یہ کہہ کر وہ حیثیت حاصل کرلی ہے جو اس حیثیت سے قطعی مختلف ہے جو پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو حاصل تھی ․․․․․․۔“ (روزنامہ جنگ کراچی جمعہ ۲۶/نومبر ۲۰۱۰ء)
حکومت کے اہم ترین ذمہ داروں کے ان بیانات سے نہ صرف حکومت کے عزائم کی پوری تصویر جھلکتی ہے بلکہ اس کے تمام خط وخال بھی نمایاں نظر آتے ہیں، جس کا خلاصہ درج ذیل نکات میں پیشِ خدمت ہے:
۱:․․․ توہینِ رسالت قانون کے غلط اِستعمال کو روکنے کے لئے قانون سازی کی کوشش کر رہے ہیں۔
۲:․․․ اگلے برس اس بارے میں قانون سازی ہوجائے گی۔
۳:․․․ توہینِ رسالت کی شکایت پر مقدمہ درج ہونے سے قبل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج انکوائری کرے۔
۴:․․․ اگر ثابت ہوجائے کہ بادی النظر میں توہینِ رسالت کی گئی ہے تو پھر مقدمہ درج ہونا چاہئے۔
۵:․․․ آج تک پاکستان میں کسی شخص کو توہینِ رسالت کے قانون کے تحت ملنے والی سزا کو پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں نے تسلیم نہیں کیا، اور کسی شخص کو بھی سزا نہیں بھگتنی پڑی۔
۶:․․․ یہ مذہب نہیں، انسانیت کا معاملہ ہے۔
۷:․․․ ہم جناح اور بھٹو کے وارث ہیں، اور ترقی پسند پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں۔
حکومتی پارٹی کے تمام بیانات کا خلاصہ اور لبِ لباب صرف ان مذکورہ بالا نکات کے گرد گھومتا ہے۔
۱-۲:․․․ پہلے دو نکات کے جواب کے لئے وفاقی وزیرِ قانون جناب بابر اعوان کا مذکورہ بالا بیان کافی ہے، اور یہ صرف محترم جناب بابر اعوان کے جذبات نہیں بلکہ پاکستانی مسلم قوم کے ایک ایک فرد اور جوان کے یہی جذبات ہیں۔
۳-۴:․․․ معمولی فہم وفکر کا مالک یہ بات بخوبی جانتا ہے کہ توہینِ رسالت کی شکایت پر مقدمہ درج ہونے سے قبل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی انکوائری کی شرط درحقیقت اس قانون کو یکسر ختم کرنے کے مترادف ہے۔ علاوہ ازیں یہ تحقیق کرنا کہ یہ اِلزام کہاں تک صحیح ہے اور کہاں تک صحیح نہیں، یہ خالص عدالت کے دائرے کی چیز ہے۔ مزید یہ کہ پاکستان میں ایسا کون سا جرم ہے کہ اس کی رپورٹ کے لئے ڈپٹی کمشنر یا کسی اور کی پیشگی منظوری کو شرط قرار دِیا گیا ہو؟ اگر ایسا نہیں ہے اور یقینا ایسا نہیں ہے تو پھر قانونِ توہینِ رسالت پر ایسی نوازش کیوں؟ ہر صاحبِ عقل جانتا ہے کہ یہ دراصل اس قانون کی افادیت کوختم کرکے اسے معطل کردینا اور آنحضرت اکی توہین کرنے والے کو دست اندازی پولیس کے دائرے سے نکالنے کی مذموم کوشش ہے۔ عوام الناس بجاطور پر سمجھتے ہیں کہ: قانونِ توہینِ رسالت کے جرم کو اس شرط کے ساتھ مشروط کرنا اگر ایک طرف عدلیہ کے کام میں مداخلت ہے تو دُوسری طرف آنحضرت ا سے صریح غداری بھی ہے۔
۵:․․․ اگر ایسا ہے کہ اعلیٰ عدالتوں نے توہینِ رسالت کے قانون کے تحت ملنے والی سزا کو تسلیم نہیں کیا اور کسی شخص کو بھی سزا نہیں بھگتنا پڑی تو ہم پوچھنا چاہیں گے کہ جناب گورنر پنجاب سے لے کر امریکا صاحب بہادر تک اور این جی اوز سے لے کر پوپ بینی ڈکٹ تک پریشان کیوں ہیں؟ اور آئینی وقانونی طریقہٴ کار سے ہٹ کر اتنا جلدبازی، شور اور واویلا کیوں؟ ہر ایک صبر کرے اور مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچنے دے، دُودھ کا دُودھ اور پانی کا پانی سامنے آجائے گا۔
۶:․․․ گورنر پنجاب جناب سلمان تاثیر صاحب کہتے ہیں کہ ”یہ مذہب نہیں، انسانیت کا معاملہ ہے“ جنابِ من! پاکستان کی بیٹی ڈاکٹر حافظہ عافیہ صدیقی امریکا کی جیل میں سڑ رہی ہے، انسانی معاشرے کی بے حسی دیکھ کر اس نے اپیل کا حق مسترد کردیا ہے، آپ جیسے ”انسانیت کے ہمدردوں“ کو آج تک اس مسلم بیٹی کے حق میں انسانیت یاد نہیں آئی اور ایک مسیحی گستاخ ملعونہ کو جرم ثابت ہونے پر پاکستانی عدالت سے سزا ہوئی ہے تو آپ کو اِنسانیت یاد آجاتی ہے، آخر ایسا اِمتیاز کیوں․․․؟ ۷:․․․ گورنر پنجاب نے کہا: ”ہم جناح اور بھٹو کے وارث ہیں، اور ترقی پسند پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں“ عوام پوچھنا چاہتی ہے کہ قائداعظم محمد علی جناح صاحب تو گستاخِ رسول کو جہنم رسید کرنے والے عظیم مجاہد غازی علم الدین شہید کی جانب سے وکیل بن کر عدالت سے ان کو رہائی دِلانے کے لئے مضطرب وبے چین رہے تھے۔ اسی طرح مسٹر ذُوالفقار علی بھٹو نے حضور ا کی ختم نبوت کے دُشمن قادیانیوں اور مرزائیوں کو پاکستان کی پارلیمنٹ سے آئینی طور پر کافر قرار دِلوایا، آپ اور آپ کی پارٹی کا مخصوص ٹولہ، حضور ا کے گستاخوں، قادیانیوں اور این جی اوز کے وکیلِ صفائی، ان کے ہمدرد اور خیرخواہ بن کر ان کی وکالت کر رہے ہیں، تو آپ ان کے وارث کیسے؟ حالات اور واقعات سے تو محسوس ہوتا ہے کہ آپ جناح اور بھٹو سے زیادہ گستاخانِ رسول اور پوپ بینی ڈکٹ کے وارث ہیں۔
گورنر صاحب! حضور ا کے گستاخوں اور کافروں کا ساتھ دینے سے پاکستان کبھی ترقی پسند نہیں بن سکتا، آپ حضور ا کے دُشمنوں اور گستاخوں کو ایک بار پھانسی کے تختے پر چڑھنے دیں، پھر دیکھئے گا کہ اللہ کی رحمت اور فضل کس طرح پاکستان کا مقدر بنتا ہے اور کس طرح پاکستان ترقی کے زینے طے کرتا ہے۔
بہرحال حکومت کو چاہئے کہ ہوش کے ناخن لے اور اپنے ان عزائم کو ترک کرکے آنحضرت اکی عزت وحرمت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے اِیمانی جذبات کا اِحترام کرے اور اپنے اس فارمولے کو پھاڑ کر گندی نالی میں پھینک دے۔
وصلی الله تعالی علی خیر خلقہ سیدنا محمد وآلہ وصحبہ أجمعین
اشاعت ۲۰۱۱ ماہنامہ بینات , محرم الحرام:۱۴۳۲ھ - جنوری: ۲۰۱۱ء, جلد 74, شمارہ