(۱۰) ’’شیب‘‘ میں استعارہ مکنیہ ا صلیہ ہے جس میں شیب کو انسان سے تشبیہ دی گئی، پھر مشبہ بہ کو حذف کرکے اس کی طرف اس کے ایک لازم ’’عفا اور صفح‘‘ سے اشارہ کیا گیا، اور قرینہ عفو و صفح کو شیب کے لئے ثابت کرنا ہے۔
(۱۱) غصون اور نسیم دونوں میںسے ہر ایک میں استعارہ مکنیہ اصلیہ ہے، دونوں میں سے ہر ایک کو انسان سے تشبیہ دی گئی ہے، پھر مشبہ بہ کو حذف کرکے اس کی طرف اس کے ایک لازم سے ـــــــــ اور وہ پہلے میں ’’نشاط‘‘ہے اور دوسرے میں ’’انفاس‘‘ (سانس نکالنا) ہے، اور قرینہ پہلے میں نشاط کو اغصان کے لئے ثابت کرنا ہے، اور دوسرے میں ’’انفاس ‘‘ (سانس چلنے) کو نسیم کے لئے ثابت کرنا ہے۔
(۱۲) ’’ضل‘‘ میں استعارہ تصریحیہ تبعیہ ہے، جس میں کھیل کے زمانے کے ختم ہوجانے کو راستہ گم کردینے سے تشبیہ دی گئی، اور جامع دونوںكا انتہاء تک نہ پہنچنا ہے، اور الضلال سے ضل بمعنی انقطع ــــــــــ عہَهْدُهُ(یعنی کھیل کا زمانہ ختم ہوگیا) مشتق کیا گیا۔
اور’’فجر‘‘ میں استعارہ تصریحیہ اصلیہ ہے، جس میں سر کو فجر کے ساتھ تشبیہ دی گئی، جامع دونوں میں سفید ہونا ہے، اور قرینہ ’’براسی‘‘ہے۔
التمرین - ۲
آنے والے استعارات تبعیہ کو اصلیہ بنائیں۔
(۱) اگر میری آنکھیں پوری طرح بارش برسارہی ہیں تو یہ ان بجلیوں کی وجہ سے ہے جو میری مانگ میں چمک رہی ہیں۔
(۲) بیشک دوری نقصان دہ نہیں ہے اگر دل باہم ملے ہوئے ہوں۔
(۳) ابن المعتز بادل کا حال بیان کررہا ہے ؎
یہ بادل رورہا ہے اور اس میں اس کی بجلی ہنس رہی ہے، وہ زمین سے مل گیا ہے اور اس کی رسیاں ڈھیلی ہوگئی ہیں۔
حل تمرین - ۲
(۱) إِنْ نَزَلَ الْمَطَرُ مِنْ عَیْنِیْ سَحًّا فَإِنَّ ذٰلِكَ نَاشِیٌٔ عَنْ لَمَعَانِ الْبَوَارِقِ بِمَفْرِقِی ـــــــــ اگر میری آنکھوں سے بہت زیادہ بارش برس رہی ہے تو یہ بات میری مانگ میں بجلیوں کی چمک سے پیدا ہورہی ہے۔