(۸) لوگوں کی آبروؤں سے مزے نہ لو، اس لئے کہ بدترین اخلاق غیبت ہے۔
(۹) اس کے دو جبڑوں کے درمیان ہندوستانی تلوار ہے،جس كے لیے درست كلام هے۔
(۱۰) زمین نے گھاس اور پھولوں کا لباس پہن لیا۔
(۱۱) بجلی مسکرائی تو اس نے اپنے آس پاس کو روشن ومنور کردیا۔
حل تمرین - ۲
(۱) ’’نفسہه‘‘ میں استعارہ مکنیہ ہے، جس میں نفس کو جواد (تیز رفتار گھوڑے) سے تشبیہ دی ہے، جامع دونوں میں یہ ہے کہ دونوں پر کنٹرول کیا جاتا ہے، لگام کسی جاتی ہے، پھر مشبہ بہ کو حذف کرکے اس کی طرف اس کے لازم ’’الجم‘‘سے اشارہ کیا گیا، یہی قرینہ ہے، اور شہوات سے دوری کے ذکر میں تجرید ہے۔
(۲) ’’اشتر‘‘میں استعارہ تصریحیہ تبعیہ ہے، جس میں آبرو کی حفاظت کو خریدنے سے تشبیہ دی، وجہ جامع مطلوب کے حصول کی وجہ سے، پھر ’’اشتراء‘‘ مصدر سے اشتربمعنی احفظ مشتق کیا، اور قرینہ ’’عرضك‘‘ہے اور’’اذی‘‘کے ذکر میں تجرید ہے۔
(۳) ’’رأیہه‘‘ میں استعارہ مکنیہ ہے، جس میں رائے کو چراغ سے تشبیہ دی ہے، وجہ جامع مخفی کو ظاہر کرنا کی وجہ سے، پھر مشبہ بہ کو حذف کرکے اس کے لازم ’’اضاء‘‘ سے اس کی طرف اشارہ کیا گیا، اور یہی أضاءت کو رائے کے لئے ثابت کرنا قرینہ ہے، اور مشکلات الامور کا ذکر تجرید ہے۔
(۴) ’’لسانہه‘‘ میں استعارہ مکنیہ ہے، جس میں لسان کو اونٹ سے تشبیہ دی ہے، پھر مشبہ بہ کو حذف کرکے اس کی طرف اس کے لازم’’انطلق من عقالہه‘‘سے اشارہ کیا گیا، اور یہی قرینہ ہے، اور اوجزاور اعجز کے ذکر میں تجرید ہے۔
(۵) ’’اکتحل‘‘ میں استعارہ تصریحیہ تبعیہ ہے جس میں نیند سے متصف ہونے کو سرمہ لگانے سے تشبیہ دی ہے جامع دونوں میں، اس کا اثر آنکھ میں ظاہر ہونا ہے، پھر اکتحال مصدر سے اکتحل بمعنی اتصف بالنوم مشتق کیا گیا اور قرینہ ’’بالنوم‘‘ ہے، اور’’ارق‘‘ اور’’ سهھد ‘‘کے ذکر میں تجرید ہے۔
(۶) ’’ظبیات‘‘ میں استعارہ تصریحیہ اصلیہ ہے جس میں عورتوں کو ہرنیوں سے تشبیہ دی ہے، وجہ جامع