(غرابت: یعنی کلمہ غیر مانوس ہو اس کا مفہوم بھی واضح نہ ہو -- تنافر حروف یعنی کلمہ میں ایسا وصف ہو کہ کلمہ زبان پر ثقیل ہو اور ادائیگی دشوار ہو، اور یہ ذوق سلیم سے ہی معلوم ہوتا ہے اس کے لئے کوئی قاعدہ متعین نہیں ہے) مثلاً مُزْنَةٌ اور دِیْمَةٌ دونوں کے معنی ہیں ’’برسنے والا بادل‘‘ دونوں آسان اور شیریں ہیں، اس کا سننا کانوں کو بھلا اور اچھا لگتا ہے، اس کے برعکس ایک ’’ بُعَاق‘‘ ہے اس کے معنی بھی وہی ہیں لیکن یہ قبیح اور نا پسندیدہ ہے، کانوں سے ٹکراتا ہے، اس کی آواز اچھی نہیں لگتی، -- اس کی مثالیں مفرداتِ لغت میں بہت زیادہ ہیں، آپ اپنے ذوق سلیم کے ذریعہ ان کا ادراک کرسکتے ہیں۔
ویشترط فی فصاحۃ الترکیب سے وھذا من اقبح الکلام
فصاحت کے شرائط:- مصنفؒ فصاحت کی چار شرطیں ذکر کررہے ہیں
(۱) پہلی شرط یہ ہے کہ فصیح کلام کی ترکیب میں تمام کلمات کے قیاس صحیح کے مطابق ہونے اور آسان ہونے کے ساتھ ساتھ یہ شرط ہے کہ وہ ترکیب ضعفِ تالیف سے خالی ہو، -- ضعفِ تالیف اس کو کہتے ہیں کہ کلام مشہور نحوی قواعد کے خلاف ہو، جیسے نحو کا مشہور قاعدہ ہے کہ ضمیر کا مرجع ضمیر سے پہلے ہو لفظاً اور رتبةًیا کم از کم رتبۃً، اگر ضمیر کا مرجع رتبۃً بھی ضمیر سے پہلے نہیں ہے، بلکہ لفظاً اور رتبۃً دونوں اعتبار سے مرجع ضمیر کے بعد ہے تو کلام میں ضعفِ تالیف پایا گیا، لہذا یہ کلام فصیح نہ ہوگا۔
پہلی شرط کے فوت ہونے کی مثال:- حضرت حسان بن ثابتؓ کا شعر ہے ؎
وَلَوْ اَنَّ مَجْدًا اَخْلَدَ الدَّهْرَ وَاحِدًا مِنَ النَّاسِ أَبْقٰی مَجْدُهُ الدَّهھْرَ مُطْعِمًا
ترجمہ:- اگر شرافت وبزرگی لوگوں میں سے کسی کو ہمیشہ برقرار رکھتی تو مطعم بن عدی کو اس کی شرافت دوام وہمیشگی عطا کرتی (کیونکہ اس میں شرافت وبزرگی بہت زیادہ تھی)۔
اس شعر میں ’’مجدہ‘‘ کی ضمیر مُطْعِماً کی طرف لوٹ رہی ہے، اور مطعماً لفظاً بھی ضمیر کے بعد ہے جیسا کہ ظاہر ہے، اور رتبۃً بھی مرجع ضمیر کے بعد ہے، کیونکہ مطعماً مفعول بہ بن رہا ہے، اور مجدہ فاعل ہے، اور مفعول بہ کا مرتبہ فاعل کے بعد ہوتا ہے، پس یہ شعر ضعف تالیف کی وجہ سے غیر فصیح کہلائے گا۔
دوسری شرط:- فصاحت کلام کی دوسری شرط یہ ہے کہ ترکیب یعنی کلام تنافرِ کلمات سے خالی ہو، یعنی بعض کلمات بعض کلمات سے اس طرح ملے ہوئے نہ ہوں کہ اس کے سبب ان کا سننا کان پر ثقیل ہورہا ہو اور زبان