(۹) اور کسی شاعر نے کہا ہے ؎
جو شخص کسی حسین وجمیل عورت کو نکاح کا پیغام دے تو مہر اس کے لئے باعث مشقت نہیں ہوتاهے ۔
(۱۰) متنبی شاعر کہتا ہے ؎
مجھسے دور رہئے ، اس لئے کہ میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو سانپ کے کاٹنے سے ڈر کر بچھوؤں کے او پر سوجاتے ہیں۔
(۱۱) آپ تو کھجور کو سامان تجارت کے طور پر مقام ہجر بھیجنے والے کی طرح ہیں۔
(۱۲) متنبی شاعر کہتا ہے ؎
اس کے لئے مال کو تلواریں اور نیزے زندہ کرتے ہیں، اور ممدوح کی مسکراہٹ اور سخاوت، تلواروں اور نیزوں کے جمع کئے مال کو قتل یعنی ختم کردیتی ہے۔
(۱۳) اور متنبی سیف الدولہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے ؎
اے وہ تلوار جو نیام میں نہیں ہے، اور نہ اس میں کوئی شک کرنے والا ہے اور نہ اس سے بچانے والا ہے۔
(۱۴) کتوں کا بھونکنا بادل کو نقصان نہیں پہنچا سکتا ہے۔
(۱۵) تلوار هر اس شخص کی تعریف نہیں کرتی جو اس کو اٹھائے، (کیونکہ ہر اٹھانے والا ماہر نہیں ہوتا)۔
(۱۶) کتنے ہی رشتہ دار ایسے ہیں جن کے کینے کے ناخن میں نے اپنی بردباری سے تراش دئے، جب کہ ان کے پاس بردباری کچھ بھی نہیں ہے۔
(۱۷) کوئی حسینہ عیب سے خالی نہیں ہوتی ہے۔
(۱۸) اے ہمارے پروردگار! ہمارے اوپر صبر کو انڈیل دے، اور ہمیں مسلمان ہونے کی حالت میں وفات دے۔
***