اس اسلوب کی سب سے نمایاں خصوصیت وضاحت ہے، (یعنی عبارت بالکل واضح ہو، اس میں ابہام نہ ہو) اس اسلوب میں یہ بھی ضروری ہے کہ اس میں قوت اور حسن وجمال کا اثر ظاہر ہو، اور اس میں زور وقوت اس کے بیان کی بلندی اور دلائل کی پختگی سے پیدا ہوتا ہے، اور اس کا حسن وجمال اس کی عبارتوں کے سلیس ہونے، اس کے کلمات کے انتخاب میں ذوق کی سلامتی ، اور کلام کے طریقوں میں سب سے زیادہ قریب ترین طریقے سے معنی کو ذھنوں میں ثابت کرنے میں (مضمر) ہے، -- اس اسلوب میں ضروری ہے کہ ایسے الفاظ کے انتخاب پر توجہ دی جائے جو واضح ہوں، اپنے معنی میں صریح ہوں ، چند معانی کے اشتراک سے خالی ہوں ، اور ضروری ہے کہ ان الفاظ کو آسان اور واضح طریقہ پر مرتب کیا جائے، یہاں تک کہ وہ معنیٔ مقصود کے لئے ایک باریک لباس بن جائیں، حتی کہ یہ الفاظ وہم وگمان کا محل نہ رہ جائیں اور توجیہ وتاویل کی ذرا بھی گنجائش نہ رہے،-- اس اسلوب میں مجاز اور بدیع کے محسنات (محسنات لفظیہ اور محسنات معنویہ) سے بچنا ضروری ہے مگر جو ضمنا آجائے بغیر قصد کئے اس کے اصول میں سے کسی اصل کا اور اس کی خصوصیات میں سے کسی خصوصیت کا (تو کوئی مضائقہ نہیں) -- رہی بات تشبیہ کی کہ جس سے مقصود حقائق کو ذھنوں سے قریب کرنا ہو اور حقائق کے مماثل کو ذکر کرکے ان کی وضاحت کرنا ہو تو یہ چیزیں اس اسلوب میں مناسب اور مقبول ہیں، -- مصنفؒ کہتے ہیں کہ ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ ہم آپ کے سامنے اس قسم کی مثالیں پیش کریں، اس لئے کہ تمام درسی کتابیں اسی اسلوب پر لکھی گئی ہیں۔
اسلوبِ ادبی:- دوسری قسم اسلوبِ ادبی ہے، اور جمال اس کی اہم خوبی اور نمایاں خصوصیت ہے، اور اس کے جمال کا منبع اور سر چشمہ اس میں پائے جانے والے دلچسپ خیالات، باریک منظر کشی، متعدد چیزوں کے درمیان بعید وجوہِ شبہ کو تلاش کرنا ہے (قریب کے وجوہِ شبہ کو چھوڑ کر) اور ایسے ہی معنوی چیز کو محسوس کا لباس پہنانا اور محسوس کو معنوی کی شکل میں ظاہر کرنا ہے، (یہ سب اس اسلوب میں جمال وخوبصورتی پیدا کرنے کے سر چشمے ہیں)۔
اسلوبِ ادبی کی مثال:- چنانچہ متنبی شاعر بار بار آنے والے بخار کو اس طرح خیال نہیں کرتا ہے جیسے ڈاکٹر حضرات اس کو سمجھتے ہیں کہ بخار ایسے جراثیم کا اثر ہے جو جراثیم بدن میں داخل ہوجاتے ہیں ، پس بدن کی