تو اس نے اپنے ممدوح کو سورج سے تشبیہ دیدی، اور اس تشبیہ کے لئے کاف کو استعمال کیا۔
دوسرے شعر میں شاعر نے اپنے ممدوح میں شجاعت اور حوادث سے ٹکرانا یہ دو صفتیںدیکھیں تو اس نے ممدوح کے لئے دو نظیریں تلاش کیں، جن میں یہ دونوںصفتیںمضبوط ہوں، تو اس نے پہلی صفت شجاعت میں شیر کے ساتھ تشبیہ دی، اور دوسری صفت (حوادث سے ٹکرانا) میں تلوار سے تشبیہ دیدی اور اس مشابہت کو’’ کاف‘‘ سے بیان کیا۔
تیسرے شعر میں شاعر نے یہ محسوس کیا کہ اس کے دوست کے اخلاق ایسے نرم اور پاکیزہ ہیں، جن سے دل کو راحت ملتی ہے، تو اس نے اس کی نظیر لانے کی کوشش کی جس میں یہ صفت واضح اور قوی ہوتو اس نے باد نسیم کو مناسب سمجھا ، پس شاعر نے اپنے دوست کے اخلاق اور باد نسیم کے درمیان مشابہت قائم کردی، اور اس مشابہت کو حرف تشبیہ’’ کَأَنَّ ‘‘سے بیان کیا۔
اور چوتھے شعر میں شاعر نے صاف شفاف پانی کے لئے نظیر لانے کی کوشش کی، جس میں صاف شفاف ہونے کی صفت قوی ہو، تو اس نے پگھلی ہوئی چاندی میں یہ صفت نمایاں اور قوی دیکھی تو صاف شفاف پانی اور پگھلی ہوئی چاندی كے درمیان مماثلت قائم کردی، اور اس مشابہت کو حرف تشبیہ ’’ کَأَنَّ ‘‘  سے بیان کیا۔
ان چاروں اشعار میں آپ دیکھ رہے ہیں کہ کسی چیزكو كسی چیز کے مثل قرار دیا گیا ہے ایک مشترکہ صفت میں، اور اس مشابہت کو بتلانے کے لئے پہلے دو شعروں میں حرف تشبیہ’’ کاف ‘‘هے، اور دوسرے دو شعروں میں حرف تشبیہ ’’ کَأَنَّ ‘‘ ہے، اور اسی کا نام تشبیہ ہے، -- آپ نے دیکھ لیا کہ تشبیہ کے لئے چار ارکان ضروری ہیں، (۱) ایک وہ چیز جس کو تشبیہ دینا مقصود ہو، اس کا نام ’’ مشبہه ‘‘ہے (۲) دوسری وہ چیز جس کے ساتھ تشبیہ دی جارہی ہو، اس کا نام ’’مشبه بہه‘‘ ہے ان دونوں کا نام ’ ’اطراف تشبیہ‘‘ ہے، (۳) اور طرفین یعنی مشبہ اور مشبہ بہ کے درمیان مشترک صفت کو ’’ وجہه شبہه ‘‘ کہتے ہیں اور اس وجہ شبہ کا مشبہ بہ میں زیادہ قوی ہونا ضروری ہےمشبہ کے مقابلہ میں، جیسے آپ نے مثالوں میں دیکھا (۴) پھر چوتھی چیز’’ اداتِ تشبیہ ‘‘ کاف، کَأَنَّ وغیر ہ ہیں۔