حج كاآسان طرىقہ
مفتی عبد الرحمن کوثر مدنی بن مفتی عاشق الہی مہاجر مدنی رحمہ اللہ

حج کى تىن قسمىں ہىں: (۱) قران (۲) تمتع (۳) افراد
حجِ قِران
حجِ تمتُّع
حجِ اِفراد

میقات سے حج اور عمرہ کا اىک ساتھ احرام باندھنا
مىقات سے صرف عمرہ کا احرام باندھنا
مىقات سے صرف حج کا احرام باندھنا

عمرہ کا طواف
اور سعی کرنا
عمرہ کا طواف اور سعی کرنا
طواف قدوم کرنا۔
(جوکہ سنت ہے)

طواف قدوم کرنا
(جو کہ سنت ہے)
احرام ہى کى حالت میں رہنا
بال منڈوا کر ىا کٹوا کر احرام اتار دىنا
احرام ہى کى حالت مىں رہنا

ممنوعاتِ احرام سے بچتے رہنا
8 ذى الحجہ کو حج کا احرام باندھنا
ممنوعات احرام سے بچتے رہنا

8/ذى الحجہ کو تلبیہ پڑھتے ہوئے منى چلے جانا
8/ ذى الحجہ کو تلبىہ پڑھتے ہوئے منى چلے جانا
8 /ذى الحجہ کو تلبىہ پڑھتے ہوئے منى چلے جانا

وضاحت: مذکورہ بالا تىنوں اقسام حج مىں حجِ قران سب سے افضل ہے، پھر حج تمتع ،پھر حج اِفراد۔ لىکن جس حاجى نے عمرہ کر لىا ہےاب وہ حج قران اور اِفراد نہىں کر سکتا ،اب اس کے لئے صرف حج تمتع ہى ہے
حج کا پہلا دن: 8 ذى الحجہ
(1) آج منى مىں قىام کر کے ظہر، عصر، مغرب ، عشاء اور 9 ذى الحجہ کى نماز فجر ادا کرىں۔(منى مىں ىہ پانچوں نمازىں ادا کرنا اور آج کى رات منى مىں گزارنا سنت ہے)
حج کا دوسرا دن : 9/ ذى الحجہ
آج صبح تلبىہ پڑھتے ہوئے منى سے عرفات کے لئے روانہ ہوجائىں۔
عرفات پہنچ کر ظہر اور عصر کى نمازىں وہاں ادا کرىں۔
غروب آفتاب تک قبلہ رخ کھڑے ہو کر خوب دعائىں کرىں۔
غروب ِ آفتاب کے بعد تلبىہ پڑھتے ہوئے عرفات سے مزدلفہ روانہ ہوجائىں۔
مزدلفہ پہنچ کر مغرب اور عشاء کى نمازىں اىک اذان و اقامت کے ساتھ عشا ء کے وقت مىں ادا کرىں۔
رات مزدلفہ مىں گزارىں ۔ البتہ خواتىن اور معذورىن آدھى رات کے بعد مزدلفہ سے منى جا سکتے ہىں۔
حج کا تىسرا دن: 10/ ذى الحجہ
مزدلفہ مىں نماز فجر ادا کر کے دعائىں کرىں۔
طلوع آفتاب سے قبل منى کىلئے روانہ ہو جائىں۔
مِنٰى پہنچ کر بڑے ىعنى آخرى جمرہ پر 7کنکرىاں مارىں۔
پہلى کنکرى پر تلبىہ پڑھنا بند کردىں ۔
قربانى کرىں ۔
بال منڈوائىں ىا کٹوائىں ۔
ِحرام اُتار دىں۔
طوافِ زىارت ىعنى حج کا طواف اور حج کى سعى کرىں۔
حج کا چوتھا اور پانچواں دن: 11و12 /ذى الحجہ
منى مىں قىام کر کے تىنوں جمرات پر زوال کے بعد سات سات کنکرىں مارىں۔
12/ ذى الحجہ کو کنکرىاں مارنے کے بعد مِنٰى سے جا سکتے ہىں۔
حج کا چھٹا دن : 13 ذى الحجہ
اگر آپ 12/ ذى الحجہ کو مِنى سے روانہ نہىں ہوئے تو تىنوں جمرات پر زوال کے بعد کنکرىاں مارىں۔
حج کے فرائض: احرام، وقوفِ عرفہ ، طواف زىارت کرنا، بعض علماء نے سعى کو بھى حج کے فرائض مىں شمار کىا ہے۔
حج کے واجبات: مىقات سے احرام کے بغىر نہ گزرنا، عرفہ کے دن غروب آفتاب تک مىدانِ عرفات مىں رہنا، مزدلفہ مىں وقوف کرنا، جمرات کو کنکرىاں مارنا، قربانى کرنا (حج اِفرا د مىں واجب نہىں، مستحب ہے) سر کے بال منڈوانا ىا کٹوانا، سعى کرنا، طواف ِ وداع کرنا۔
تنبىہ:حج کے فرائض مىں سے اگر کوئى فرض چھوٹ جائے تو حج صحىح نہىں ہوگا جس کى تلافى دم سے بھى ممکن نہىں۔ اگر واجبات مىں سے کوئى اىک واجب چھوٹ جائے تو حج صحىح ہوجائے گا مگر جزا لازم ہوگى۔