وفاقی شرعی عدالت کا مستحسن اقدام !
وفاقی شرعی عدالت کا مستحسن اقدام

الحمدلله وسلام علی عبادہ الذین اصطفی
متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں نے تقریباً آٹھ سو سال تک حکمرانی کی۔ مسلمانوں کے تمام معاملات انفرادی ہوں یا اجتماعی، اپنے طور پروہ سب اسلامی تہذیب اور اسلامی قوانین واصول کے سانچے میں ڈھلے ہوئے تھے ۔ حکمران ہوں یا عوام ہرایک اپنی اپنی حدود میں خوش وخرم اور راضی برضا تھے۔
فرنگی سامراج نے منظم سازشوں کے ذریعے متحدہ ہندوستان پر غاصبانہ قبضہ کیا، اور ملک سے اسلامی تہذیب اور قوانین کو یکسر ختم کردیا۔اس نے اہل اسلام خصوصاً علماء اور دین دار طبقے پر ظلم وبربریت کا ایسا بازار گرم کیا کہ چنگیزخان اور ہلاکوخان کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔اس لیے کہ انگریز غاصب نے علماء کو سولی پر لٹکایا، انہیں توپوں کے دہانوں پر باندھ کر اڑایا، کتوں سے نچوایا، حتی کہ اس نے قرآن کریم کو شہید، مدارس کو بلڈوز اور مساجد کو ویران کیا۔ اس ظلم وبربریت کے خاتمے اور ملک پرسے غاصبانہ قبضہ چھڑانے کے لئے علمائے ہند نے سوسال تک سیاسی جد وجہد اور اَن گنت قربانیاں دیں۔ اس آزادی ہند کی جد وجہدکے دور میں تین طبقے وجود میں آئے:
۱:…مذہبی طبقہ جو انگریز سے برسرپیکار اور استخلاص وطن کا علم بردار تھا۔
۲:…جاگیردار طبقہ جو جہاد آزادی میں حصہ لینے والوں کی مخبریاں کرکے اپنے آقاؤں سے جاگیریں اور القابات وصول کرتا تھا۔
۳:…سیکولر ،لادین اورروشن خیال طبقہ جو خود غرضی اور مفاد پرستی کے خول میں بند تھا اور مفادات کی خاطر مختلف حالات اور واقعات میں مختلف انداز و اطوار بدلتا رہا۔
اسی جد وجہد آزادی کے نتیجہ میں دو قومی نظریے کی بنیاد پر تقسیم ہند کا فارمولا تیار ہوا۔انگریز نے ہندوستان سے رخت سفر باندھتے وقت ایسا منصوبہ اور ماحول بنایا کہ پاکستان بنتے ہی جاگیر دار طبقہ اقتدار پر قابض ہوگیا اور آج تک وہی چند خاندان اقتدار سے ہم آغوش چلے آرہے ہیں۔ البتہ اقتدار پر براجمان طبقے نے بانی پاکستان کی خواہش اور دینی ومذہبی عوام کے مطالبے پر وقتاً فوقتاً اسلام سے ہم آہنگ چند قوانین اور آرڈی نینس کا بھی اجراء کیا،مثلاً: قرار داد مقاصد کو آئین کا حصہ بنایا، مرزائیوں ، قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا، حدود آرڈ نینس کا نفاذ، تحفظ ناموس رسالت کا قانون وغیرہ بنائے۔ اگرچہ حقیقت میں ان اسلامی قوانین اور حدود کے اصل محرک اور مطالبہ کرنے والے علماء کرام اور مذہبی عوام ہی تھے۔
پاکستان بن جانے کے بعد مذہبی طبقے نے بھی اپنی جد وجہد جاری رکھی، کیونکہ یہ اہل علم حضرات جانتے ہیں کہ زمین اللہ کی ہے، ہرچیز کی ملکیت اورہر چیز پر حاکمیت اللہ کی ہے۔ اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام ہی لازم اور ضروری ہے۔ تحریک پاکستان سے لے کر آج تک ان اکابر علمائے کرام اور بزرگانِ دین کی نفاذ اسلام کے لئے محنت، تڑپ ، جد وجہد جاری وساری اور ہرایک پر عیاں ہے۔
سیکولر، لادین اورروشن خیال طبقے نے بھی سستی نہیں دکھائی، ان کے آقاؤں اور سرپرستوں نے جب، جہاں اور جس روپ میں انہیں چاہا، استعمال کیا۔ اس طبقہ نے وفادار غلام کی طرح اپنے مفادات کی خاطر ان کے ہر حکم کے آگے سرتسلیم خم کیا۔ اس طبقہ نے آج تک یہ تسلیم ہی نہیں کیا کہ پاکستان دو قومی نظریہ کے تحت وجود میں آیا۔ پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللّٰہ کا نعرہ گویا آج تک انہیں سمجھ ہی نہیں آیا۔ ان کی تمام تر توانائیاں اور صلاحیتیں اس کو ثابت کرنے پر صرف ہورہی ہیں کہ پاکستان سیکورلر ملک ہے اور قائد اعظم اس ملک کو سیکولر اسٹیٹ بنانا چاہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس ملک میں جب بھی اسلامی نظام کے نفاذ کی بات کی گئی، یہی طبقہ اپنے لاؤلشکر سمیت دنیا بھرمیں غوغا آرائی کرتاہے اور اسلامی قوانین کے خلاف طوفان بدتمیزی اٹھانے کو اپنا فرض منصبی سمجھتا ہے۔
۷/ستمبر۱۹۷۴ء میں مرزائیوں اور قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دینے، ۱۰/فروری ۱۹۷۹ء کو حدود آرڈی نینس کے نفاذ اور ۱۹۸۴ء میں قانون توہین رسالت بن جانے کے بعد عالمی طاغوتی طاقتوں، امریکہ ویورپ کے فنڈ سے چلنے والی این جی اوز، جدید روشن خیال نام نہاد دانشوروں،سیکولر اسکالروں، ضمیر فروش قلم کاروں ، صحافیوں اور اینکرز کی ہمیشہ یہ مشترکہ کوشش وکاوش رہی ہے کہ پاکستان سے اسلامی قوانین ختم کرادیئے جائیں، چنانچہ ایسی گندی سوچ اور بدبودار ذہنیت رکھنے والوں نے حدود آرڈی نینس کے نفاذ کے ۹/سال بعد ہی اس کے خلاف بیان دیاکہ:
”کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان میں حقوق انسانی کمیشن کے چیئرمین مسٹر جسٹس (ریٹائرڈ) دراب ایف پٹیل، کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر مسٹر رشید اے رضوی، قومی محاذ آزادی کے سیکریٹری جنرل مسٹر اقبال حیدر، مسٹر اردشیر کاؤزجی، پروفیسر ظفر عارف، مزدور لیڈر مسٹر نبی احمد، ایس پی لودھی، مسٹر شفیق قریشی، ابو بکر زرداری اور مسٹر منیر چانڈیو سمیت متعدد وکلاء اور خواتین نے ایک مشترکہ بیان میں حدود آرڈیننس کومنسوخ کرنے کی مہم کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ حدود آرڈیننس مبہم اور ناانصافی پر مبنی ہے۔ اور پاکستان میں اسے جس طرح استعمال کیا گیا ہے، وہ مرد اور عورت دونوں کے حقوق کے منافی ہے، انہوں نے فیملی لاء آرڈی نینس کے خلاف شائع ہونے والے بیانات کی بھی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حدود آرڈی نینس کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے اور مسلم فیملی لاء آرڈی نینس کو برقرار رکھا جائے“۔ (روز نامہ جنگ کراچی ۷/فروری ۱۹۸۸ء)
اس وقت تو ان کی کوئی شنوائی نہ ہوئی،لیکن پرویز مشرف کے اقتدار پر قبضے کے بعد یہ گروہ پھر سرگرم ہوا، کیونکہ اس گروہ نے یہ طے کررکھا ہے کہ کچھ بھی ہو، پاکستان میں قرآن وسنت پر مبنی قوانین کے نفاذ کا راستہ روکا جائے، اور ایسے اقدامات کئے جائیں جن سے معاشرے میں بے دینی وبے راہ روی پھیلے، تاکہ سادہ لوح عوام اسلامی تعلیمات وہدایات سے برگشتہ ہوجائیں۔چنانچہ اس کے لئے انہوں نے اس بار ایک نئی تکنیک سے کام شروع کیا:
وہ یہ کہ زر کثیر صرف کرکے میڈیا پر حدود آرڈی نینس کے حوالے سے مباحثہ شروع کرایا اور روزنامہ جنگ کراچی کے ذریعے اس کا خوب پروپیگنڈا کرایا، چنانچہ ۷/ مئی ۲۰۰۶ء کے روز نامہ جنگ میں جیو ٹیلی ویژن کی طرف سے یہ اشتہار شائع ہوا:
۱:… ”ذرا سوچئے! کیونکہ سوچنا گناہ نہیں ہے…“
پھر دوسرے دن ۸/مئی ۲۰۰۶ء کو ”ذرا سوچئے“ کے ساتھ یہ لکھا گیا تھا:
۲:…”کیونکہ سوچ ہی انسان کو آدمی بناتی ہے“۔
۱۲/مئی ۲۰۰۶ء کو بالترتیب ص:۲،۱۷،۱۸ پر ”ذرا سوچئے“ کے عنوان کے اشتہار پورے صفحوں اور مختلف جگہوں پر لگائے گئے تھے۔ ۱۴/مئی کی اشاعت میں یوں اشتہار دیا گیا۔
۳:…”ذرا سوچئے! جیو کی ایک ایسی کاوش ہے جو ہمیں ان مسائل پر سوچنے کی جرأت دیتی ہے جو ہمیں تقسیم کرتے آئے ہیں“۔
اس کے بعد روز نامہ جنگ کراچی کے ادارتی نوٹ میں لکھا گیا:
۴:…” جیو ٹی وی چینل نے ایک عرصہ سے متنازع حدود آرڈی نینس پر پاکستان کے ہر مکتب فکر کے جید، معزز اور محترم علمائے دین سے رائے لینے کا سلسلہ شروع کیا ہے جو یقینا اس اعتبار سے قابل ذکر ہے کہ اس حوالہ سے ملک کے شہریوں کو ان مسائل پر کھلے عام اظہار خیال کا موقع ملے گا، جن کو اب تک چھونے کی بھی روایت نہیں تھی۔ مذہبی امور پر اس وقت دنیا بھر میں جو صورت حال پائی جاتی ہے، جس طرح بین المذاہب ہم آہنگی کے لئے تبادلہ خیال ہورہا ہے، اس تناظر میں حدود آرڈی نینس پر قومی مباحثے کا آغاز بلاشبہ ایک اہم پیش رفت ہے۔ پاکستان میں ایسی سول سوسائٹی کے قیام کے لئے ایک نمایاں کوشش ہے جہاں مذہب کو دوسروں کے حقوق کے استحصال کے لئے استعمال نہ کیا جاسکے۔ اس میں بنیادی طور پر سوچنے کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔ ”ذرا سوچئے“ کی یہ تحریک ایسے معاشرے میں عقل واستدلال کا غلبہ قائم کرنے کا مثبت اقدام ہے، جہاں عقائد کے حوالے سے بھی سوچنے پر غیر اعلانیہ پابندی ہو، جہاں قبائلی، جاگیردارانہ، سرمایہ دارانہ تمدن نے شہریوں کو اپنی مرضی سے زندگی گزار نے سے محروم کررکھا ہو…“۔ (روز نامہ جنگ کراچی ۲۵/مئی ۲۰۰۶ء)
قطع نظر اس کے کہ الفاظ کے لبادہ میں ان بیانات، اشتہارات اور اخبارات میں دین اسلام اور احکام اسلام کے بارہ میں کیا کچھ بغض باطن اور زہرا گلا گیا،صرف اتنا بتلانا مقصود ہے کہ ان لادین عناصر، این جی اوز، سیکولر اور روشن خیال طبقے نے حدود آرڈی نینس کے خاتمہ کے لئے کروڑوں روپے صرف کئے۔ دوسری طرف ان کی حمایت میں صدر، وزیر اعظم، وفاقی وصوبائی وزراء اور ارکان اسمبلی بھی یک زبان ہوکر بولنے لگے، ان سب کا مطالبہ تھا کہ حدود آرڈی نینس کو یکسر ختم کیا جائے یا ترمیم وتنسیخ کا نشتر چلا کر اس کے ”زہر“ کو ختم کیا جائے۔ چنانچہ ”تحفظ حقوق نسواں بل“ کے نام پر حدود آرڈی نینس میں ایسی ترامیم کی گئیں، جن سے مرد وزن کے مخلوط ماحول کی حوصلہ افزائی کے علاوہ بے دینی، بے حیائی اور بے غیرتی کی افزائش اور زنا بالرضا کی ترغیب کے علاوہ کچھ نہ تھا۔ چنانچہ اس”تحفظ حقوق نسواں بل“ کا متن اسی شمارہ میں الگ مضمون میں ملاحظہ فرمائیں۔
بہرحال وفاقی شرعی عدالت نے ”تحفظ نسواں بل“ کے خلاف دائر چار درخواستوں کی چھ ماہ تک سماعت کی اور علمائے کرام کے دلائل کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا، ۲۳/دسمبر ۲۰۱۰ء کے اخبارات میں ہے کہ وفاقی شرعی عدالت نے تحفظ نسواں ایکٹ سے متعلق کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے اس ایکٹ میں شامل زنا سمیت حدود کے زمرہ میں آنے والے تمام جرائم پر حدود کی سزائیں جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔ تفصیل کے لئے روز نامہ امت کی درج ذیل خبر ملاحظہ ہو:
”وفاقی شرعی عدالت نے تحفظ نسواں ایکٹ سے متعلق کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے اس ایکٹ میں شامل زنا سمیت حدود کے زمرے میں آنے والے تمام جرائم پر حدود کی سزائیں جاری کرنے کا حکم دیتے ہوئے ایکٹ کی ۵/ شقوں کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ ویمن پروٹیکشن ایکٹ ۲۰۰۶ء کے خلاف دائر ۴/درخواستوں پر فیصلہ چیف جسٹس وفاقی شرعی عدالت جسٹس آغارفیق احمد کی سربراہی میں جسٹس شہزاد شیخ اور جسٹس سید افضل حیدر پر مشتمل ۳/ رکنی بنچ نے سنایا۔ بنچ نے ۶/ ماہ تک تحفظ نسواں ایکٹ کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کی اور علماء کے دلائل کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ وفاقی شرعی عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں قراردیا کہ پاکستان کے قانون کے تحت ۱۰/ جرائم بشمول بغاوت، مرتد ہوجانا،انسانی حقوق کی خلاف ورزی، چوری، ڈاکہ، تعزیرات پاکستان میں بیان کردہ وہ جرائم جو جدول XVIII میں بیان کئے گئے ہیں اور زنا بالجبر، زنا بالرضا،بدفعلی، شراب نوشی، منشیات کی اسمگلنگ وغیرہ حدود جرائم کی حیثیت کے حامل ہیں جن کی سزا شریعت کے مطابق دی جائے گی اور یہ کہ ماتحت عدالتوں میں ان مقدمات میں سنائی جانے والی سزاؤں کے خلاف اپیلوں کی سماعت کا اختیار صرف وفاقی شرعی عدالت کو ہوگا جو آئین کی دفعہ ۲۰۳ میں بیان کیا جاچکا ہے۔ وفاقی شرعی عدالت نے فیصلے میں کہا کہ حکومت اس فیصلے کی روشنی میں ضروری قانون سازی کرے، بصورت دیگر ۳ ہفتوں کے بعد یہ فیصلہ خود بخود ملک کے قوانین میں شامل تصور ہوگا۔ وفاقی شرعی عدالت نے ویمن پروٹیکشن ایکٹ میں شامل شق نمبر ۱۱،۲۵ اور ۲۸ کو کالعدم قرار دیا اور کہا کہ تینوں شقیں شریعت کے خلاف ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید قرار دیا کہ شق ۴۸ اور ۴۹ بھی خلاف آئین اور آرٹیکل ۲۰۳ سے متصادم ہیں۔ عدالت نے مرضی سے زنا کو ناجائز اور گناہ قرار دیا اور کہا زنا کے بارے میں تحفظ نسواں ایکٹ کے آرٹیکلز کا اسلامی قوانین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ مذکورہ ایکٹ کے تحت رضامندی سے زنا کی سزا ۵/ برس قید جبکہ زنا بالجبر کی صورت میں یہ سزا ۲۵ برس قید مقرر کی گئی، جب کہ قرآن وسنت کے تحت غیر شادی شدہ جوڑے کو زنا کا مرتکب ہونے پر ۱۰۰ کوڑے اور شادی شدہ کے لئے سنگسار کی سزا مقرر ہے۔ وفاقی شرعی عدالت نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایکٹ میں تبدیلی لائے اور اگر تبدیلی نہ لائی گئی تو پھر وفاقی شرعی عدالت آئین کے آرٹیکل ۲۰۳ کو اس کی روح کے مطابق نافذ کردے گی۔ عدالت نے قرار دیا کہ کسی بھی قانون سازی کے ذریعے وفاقی شرعی عدالت کے اختیارات کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ یہ اختیارات آئین کے آرٹیکل ۲۰۳ کے ذریعے اسے حاصل ہیں۔ ایک درخواست گزار سلیم گھمن نے تحفظ نسواں ایکٹ کی شق نمبر ۷،۸ اور ۹ کو بھی چیلنج کیا تھا۔ ان کے مطابق ان شقوں میں بھی قرآن وسنت کی مقررکردہ سزاؤں کو تبدیل کردیا گیا ہے، تاہم عدالت نے ان شقوں کا ذکر نہیں کیا، درخاست گزاروں نے تحفظ نسواں ایکٹ میں زنا سے متعلق ترمیم کو قرآن پاک کی سورة نور کی آیت ۲۴ کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے استدعا کی تھی کہ یہ ترمیم معاشرے میں بدنظمی پھیلانے کے مترادف ہے، اس لئے اس کو قرآن وسنت سے متصادم قرار دیاجائے……۔“ (روز نامہ امت کراچی ۲۳/دسمبر ۲۰۱۰ء)
وفاقی شرعی عدالت کا یہ فیصلہ بہت ہی مستحسن، لائق تبریک اور اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے نزول کا سبب ہے۔ کیونکہ مشکوٰة میں ابن ماجہ کے حوالہ سے حدیث ہے:
”اقامة حد من حدود الله خیر من مطر اربعین لیلة فی بلاد الله عز وجل“
(مشکوٰة:۳۱۳)
ترجمہ:…”اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے ایک حد کا قائم کرنا اللہ تعالیٰ کی زمین پر چالیس دن کی بارش سے بہتر ہے“۔
ایک اور حدیث میں ہے:
”حد یعمل فی الارض خیر لاہل الارض من ان یمطر وا ثلاثین صباحاً (وفی روایة: اربعین صباحاً) ،“ (سنن نسائی، ص:۲۵۶،ج:۲)
ترجمہ:…”ایک حد جو زمین میں نافذ کی جائے وہ زمین والوں کے لئے تیس دن اور ایک روایت میں ہے کہ چالیس دن کی بارش سے بہتر ہے“۔
اسی لئے پاکستانی عوام بجا طور پر پارلیمنٹ سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ تمام تر قانون سازی اکثریت کی توقعات، ان کی امنگوں، آرزوؤں اور زمینی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے اسلام کی روح کے مطابق کرے۔ اور انتظامیہ کا بھی فرض بنتا ہے کہ اس قانون کے اطلاق پر ذمہ داری اور نیک نیتی سے عمل درآمد کرائے۔
اسی طرح میڈیا سے منسلک افراد سے بھی عوامی مطالبہ ہے کہ میڈیا پر بے راہ روی کے پروگرام اور بے حیائی کی ترغیبات کی تمام شکلیں ختم کی جائیں۔ مزید یہ کہ اسکول،کالج اور یونیورٍسٹیوں کا نصاب سیکولر کی بجائے اسلامی تعلیمات کے مطابق بنایاجائے، اور نصاب کے لئے مستند علمائے کرام سے سفارشات لی جائیں، تاکہ ہماری نئی نسل اسلام کے آب صافی سے سیراب وسرشار ہوکر مستقبل میں اسلام کی صحیح نمائندگی اور ترجمانی کا حق ادا کرسکے۔
وصلی الله تعالیٰ علی خیر خلقہ سیدنا محمد وآلہ وصحبہ أجمعین
اشاعت ۲۰۱۱ ماہنامہ بینات , صفرالمظفر:۱۴۳۲ھ - فروری: ۲۰۱۱ء, جلد 74, شمارہ