یورپی پارلیمنٹ کی اسلام دشمنی
یورپی پارلیمنٹ کی اسلام دشمنی

الحمدللّٰہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفی
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
”وَلَنْ تَرْضٰی عَنْکَ الْیَہُوْدُ وَلَا النَّصَارٰی حَتّٰی تَتَّبِعَ مِلَّتَہُمْ“ (البقرہ: ۱۲۰)
ترجمہ: ”اور ہرگز راضی نہ ہوں گے تجھ سے یہود اور نہ نصاریٰ جب تک تو تابع نہ ہو اُن کے دین کا۔ “
اسی لئے یہود و نصاریٰ نے ہمیشہ سے اسلام، پیغمبر ِ اسلام اور مسلمانوں کو اپنا حریف اور دشمن جانا اور سمجھا ہے۔ اسلام، پیغمبر اسلام، شعائر اسلام، مسلمان اور ان کی مقدس ترین شخصیات کی توہین، تنقیص، تحقیر اور تذلیل کرنے والا کوئی ملعون ومردود ہو، وہ ان کا حلیف و دوست، ان کی مدد و نصرت کا حق دار اور حقوق انسانی و آزادی کا مستحق ہے۔ دنیا بھر کے یہودی اور عیسائی کم از کم اس ایک نکتے پر متفق و متحد نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی لعین، سلمان رشدی ملعون، تسلیمہ نسرین مردود اور مرتد عبدالرحمن تک ہر ایک پر انہوں نے اپنی نوازشات کی بارش کی ہے اور اب ننکانہ کی توہین رسالت کی مجرمہ آسیہ مسیح کی رہائی کے لئے مختلف جہات سے محنتیں اور کوششیں جاری و ساری ہیں۔
حالات و واقعات کا اگر گہری نظر سے جائزہ لیں تو اندازہ ہوگا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلامی شعائر کی توہین وتنقیص کرنے والوں،اسلامی عقائدونظریات کے برخلاف عقائد کاپرچارکرنے والوں اور مسلمانوں کے خلاف لکھنے والوں کے پس منظر میں یہود و نصاریٰ اور ان کے آلہٴ کاروں کی خفیہ سازش و سرپرستی، تائید و تصویب اور ان کا ہر طرح کا اعتماد و تعاون کارفرما رہا ہے۔
اور اب یورپی پارلیمنٹ نے رکن ممالک کو یہ ہدایت دی ہے کہ: ”وہ ان ”معتدل“ حلقوں کی اصولی اور مالی معاونت جاری رکھیں جو پاکستان میں انسانی حقوق کے فروغ اور توہین رسالت قانون کے خاتمہ کے لئے کوشاں ہیں“ ہر باشعور اور ذی ہوش آدمی یہ سمجھنے پر مجبور ہے کہ یہ بیان گستاخانِ رسول کی پشت پناہی کا کھلا اعتراف، پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور اسلام دشمنی کا ارتکاب اور مظاہرہ ہے۔ اس خبر کی مزید تفصیل ملاحظہ ہو:
”اسٹراس برگ (امت نیوز) یورپی ممالک ناموس رسالت قانون کے مخالفین کی مالی معاونت کررہے ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق یہ انکشاف کسی اور نے نہیں خود یورپی پارلیمنٹ نے ایک قرارداد کی منظوری کے دوران کیا، جس میں رکن ممالک کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان ”معتدل“ حلقوں کی اصولی اور مالی معاونت جاری رکھیں جو پاکستان میں انسانی حقوق کے فروغ اور توہین رسالت کے قانون کے خاتمے کے لئے کوشاں ہیں۔ یورپی پارلیمان نے توہین رسالت کی مجرمہ ملعونہ آسیہ مسیح کی رہائی کے لئے بھی دباؤ بڑھاتے ہوئے صدر آصف علی زرداری سے مطالبہ کیا کہ وہ آئین میں دیئے گئے صدارتی اختیار کا استعمال کرتے ہوئے توہین رسالت کے الزام میں موت کی سزا پانے والی عیسائی خاتون آسیہ مسیح کی سزا کو معاف کردیں۔ بی بی سی نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ اسٹراس برگ میں دو دن کی بحث کے بعد یورپی پارلیمنٹ نے دو الگ قراردادیں منظور کیں۔ ایک قرارداد کے ذریعے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے ملزم کو ملنے والی حمایت، وکلاء کی طرف سے ممتاز قادری پر گل پاشی اور مذہبی جماعتوں کی طرف سے گورنر سلمان تاثیر کے قتل کو جائز قرار دینے پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔ پاکستان کو مذہبی آزادی اور رواداری کے ان تمام قومی اور بین لاقوامی معاہدوں اور قراردادوں کی یاددہانی کرائی گئی، جن کی وہ توثیق کرچکا ہے۔ نیز آئین پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق سے متعلق آرٹیکل کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت پاکستان پر زور دیا گیا کہ حکومت پاکستان اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ یورپی پارلیمنٹ نے توہین رسالت کے قانون پر جامع نظر ثانی کے علاوہ صدر آصف علی زرداری سے مطالبہ کیا کہ وہ آئین میں دیئے گئے صدارتی اختیار کا استعمال کرتے ہوئے توہین رسالت کے الزام میں موت کی سزا پانے والی عیسائی خاتون آسیہ مسیح کی سزا کو معاف کردیں۔ قرارداد میں حکومت پاکستان کی طرف سے شدت پسندی کو روکنے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی حمایت کرتے ہوئے سیکورٹی فورسز اور عدلیہ کے بعض حصوں اور سیاسی طبقے کی جانب سے مذہبی انتہا پسندوں کی حمایت پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ قرارداد میں سیکورٹی اداروں میں شدت پسندوں کی موجودگی کا واویلا کرتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستانی حکومت سیکورٹی اداروں کو ان عناصر سے پاک کرے۔ یورپی پارلیمان نے حکومت کے منظور شدہ تعلیمی نصاب کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ اس میں دیگر مذاہب کے خلاف اشتعال انگیز پروپیگنڈا شامل ہے، اپنی دوسری قرارداد میں یورپی پارلیمنٹ نے مصر، نائیجیریا، پاکستان، فلپائن، قبرص ، ایران اور عراق میں عیسائیوں پر ہونے والے حملوں کی مذمت کی اور مطالبہ کیا گیا کہ ۳۱/جنوری کو یورپی یونین کی کمیٹی برائے خارجہ امور بھی، عیسائیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور ان کی مذہبی آزادی کے احترام پر بحث کرے۔ یورپی یونین کی امورِ خارجہ کی سربراہ کیتھرین ایشٹن نے کہا کہ عالمی برادری کو مذہب کے نام پر تفریق کے سامنے ڈٹنا پڑے گا اور انتہا پسندی کا بہترین جواب، مذہب و عقائد کی آزادی کا عالمگیر معیار ہے۔ ایشٹن کا کہنا تھا کہ یورپی یونین دنیا بھر میں عیسائیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے بارے میں نظریں نہیں پھیرے گی۔“
(روزنامہ امت کراچی، ۲۲/جنوری ۲۰۱۱ء)
یورپی پارلیمنٹ کی قراردادوں پر مشتمل اس خبر کے مندرجات کا نمبروار تجزیہ پیش کرتے ہیں:
۱:...یورپی پارلیمنٹ نے کہا: ”ان ”معتدل“ حلقوں کی اصولی اور مالی معاونت جاری رکھیں جو پاکستان میں انسانی حقوق کے فروغ اور توہین رسالت کے قانون کے خاتمے کے لئے کوشاں ہیں۔“
دینی حلقوں کی جانب سے حکمرانوں کو یہ بات عرصہ دراز سے کہی جارہی ہے کہ ملک بھر میں پھیلی این جی اوز اور نام نہاد حقوق نسواں کے ادارے دراصل مغربی استعمار کے ایجنٹ ہیں، جو پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کو کھوکھلا کرنے، پاکستانی قوم کو نظری و فکری اعتبار سے تقسیم کرنے اور اندرون خانہ عیسائیت کی تبلیغ کرنے پر مامور ہیں، لیکن ان محب وطن مخلصین ودینی راہنماؤں کی اس بات کو پرکاہ کے برابر حیثیت نہیں دی گئی، جس کا نتیجہ ہے کہ آج مغربی استعمار علانیہ پونڈ اور ڈالروں کی طمع اور لالچ دے کر اپنے ایجنٹوں اور آلہٴ کاروں کے ذریعہ توہین رسالت قانون کو ختم کرانے کے درپے ہے۔
ہر ذی ہوش اور دانا آدمی خوب سمجھتا ہے کہ میڈیا پر حدود آرڈی نینس ، قانون ناموس رسالت اور پاکستان کے اسلامی تشخص اور مذہبی معاملات کے حوالے سے مباحثے اور مذاکرے کس کے اشارے اور کس کی فنڈنگ سے ہوئے اورہورہے ہیں؟ مغربی استعمار کی سرپرستی، اور ترغیب و تحریص کے نتیجہ میں ان کے لے پالک کئی نام نہاد مرد و زن”اسکالر“ اور ”دانشور“ میڈیا کی اسکرین پر نمودار ہوکر قوم کو اپنی نئی تحقیق اور اُپچ سے فیضیاب کرنے پر لگے ہوئے ہیں۔ ان نام نہاد ”روشن خیال“ اور ”دانشوروں“ میں سے ایک نام جاوید غامدی کا ہے، جو نت نئی شیطانی تحقیقات اور تلبیسات سے قوم کو نوازتے رہتے ہیں، مثلاً: ان کے نزدیک مرتد کی سزا قتل نہیں، شراب نوشی پر کوئی سزا نہیں، زکوٰة کا نصاب منصوص اور مقرر نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے بعدکسی شخص کو کافر قرار نہیں دیا جاسکتا، حدیث سے کوئی اسلامی عقیدہ یا عمل ثابت نہیں ہوتا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پاچکے ہیں (نعوذباللہ) یاجوج ماجوج اور دجال سے مراد مغربی اقوام ہیں، جانداروں کی تصویر بنانا بالکل جائز ہے، موسیقی اور گانا بجانا جائز ہے، عورت، مردوں کی امامت کراسکتی ہے، اسلام میں جہاد و قتال کا کوئی شرعی حکم نہیں، کفار کے خلاف جہاد کرنے کا حکم اب باقی نہیں رہا۔ ہم نے موصوف کے نظریات میں سے چند ایک کا ذکر کیا ہے۔ ان نظریات کو پڑھنے کے بعد ہر صاحبِ علم جانتا ہے کہ یہ عقائد و نظریات قرآن و سنت اور اجماع امت سے متصادم اور خلاف ہیں۔
موصوف نے یورپی پارلیمنٹ کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے اور ناموس رسالت قانون کو خلاف اسلام قرارد دیتے ہوئے اسی روز ملائیشیا سے ممتازبرطانوی اخبارگارجین کوانٹرویو دیا کہ:
”لندن (امت نیوز) نت نئے خیالات ایجاد کرنے کے لئے مشہور جاوید احمد غامدی ناموس رسالت قانون کے خلاف بھی کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ ممتاز برطانوی اخبار گارجین کو ایک انٹرویو میں شرانگیزی کرتے ہوئے جاوید غامدی نے ناموس رسالت قانون کومنسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور دعویٰ کیا کہ قرآن و سنت میں اس کی کوئی بنیاد موجود نہیں ہے اور اسلام اس قانون کی حمایت نہیں کرتا۔ جاوید غامدی نے کہا کہ ناموس رسالت قانون کو منسوخ نہ کیا گیا تو پاکستان میں مذہبی انتہا پسند اور ان کے پُرتشدد حامی مزید طاقتور ہوجائیں گے جن کا پہلے ہی اسٹیبلشمنٹ یعنی فوج کے ساتھ اتحاد قائم ہے اور یہ قوت مقبوضہ کشمیر اور افغانستان کی لڑائی میں سرگرم ہے۔ جاوید غامدی نے مزید کہا کہ ناموس رسالت قانون کے حوالے سے علماء لوگوں سے جھوٹ بول رہے ہیں، کیونکہ اسلام میں اس بارے میں کوئی توجیہہ موجود نہیں ہے۔ ملائیشیا میں اپنی اہلیہ اور بیٹیوں کے ساتھ موجود ۵۹ سالہ جاوید احمد غامدی کا کہنا ہے کہ مذہبی قوتوں کے پاس اسٹریٹ پاور ہے، جس کے ذریعے وہ مضبوط ہورہی ہیں، جب کہ لبرل قوتیں کمزور و تقسیم ہیں اور یہ سلسلہ ایسے ہی جاری رہا تو نتیجہ پاکستان کی تباہی کی صورت میں نکلے گا۔ برطانوی اخبار کے مطابق جاوید غامدی گزشتہ برس اس وقت اپنی فیملی کے ساتھ لاہور سے ملائیشیا منتقل ہوگئے تھے، جب پولیس نے ان کے گھر کو بم سے اڑانے کی ایک کوشش ناکام بنادی تھی۔ اس حوالے سے جاوید غامدی نے کہا کہ ان کا اب پاکستان میں رہنا ناممکن ہوگیا ہے۔“ (روزنامہ امت کراچی، ۲۲/جنوری ۲۰۱۱ء)
اس پر ہم اتنا عرض کریں گے: ”قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ اَفْوَاہِہِمْ وَمَا تُخْفِیْ صُدُوْرُہُمْ اَکْبَرُ․․․نکلی پڑتی ہے دشمنی ان کی زبان سے اور جو کچھ مخفی ہے ان کے جی میں وہ اس سے بہت زیادہ ہے۔“
۲:... ”یورپی پارلیمنٹ نے ایک قرارداد کے ذریعہ گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے ملزم کو ملنے والی حمایت، وکلاء کی طرف سے ممتاز قادری پر گُل پاشی اور مذہبی جماعتوں کی طرف سے گورنر سلمان تاثیر کے قتل کو جائز قرار دینے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔“
اس کے جواب میں اپنی طرف سے کچھ لکھنے کے بجائے پاکستان میں موجود عیسائی برادری کے سرکردہ راہنما چرچ آف پاکستان کے بشپ ڈاکٹر اعجاز عنایت کا انٹرویو پیش کرنا چاہتے ہیں، جو روزنامہ امت نے اپنی ۱۱/ جنوری ۲۰۱۱ء کی اشاعت میں ص:۳، پر شائع کیا ہے، ملاحظہ کیجئے:
”سوال: موجودہ صورت حال کے حوالے سے آپ کی کیا رائے ہے؟
جواب: موجودہ صورت حال کی ذمہ دار وفاقی حکومت ہے، جس نے معاملے کو یہاں تک پہنچایا ہے۔ اگر حکومت معاملے کو ابتدا میں ہی سمجھ داری سے حل کرلیتی تو نوبت یہاں تک نہ پہنچتی۔ سلمان تاثیر سمیت دیگر حکومتی نمائندوں نے طاقت کے زعم میں ایسی باتیں کیں جو ان کو نہیں کرنی چاہئے تھیں۔ درحقیقت انہوں نے لاپروائی کا مظاہرہ کرکے، اقلیتوں کے لئے مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔ سلمان تاثیر نے آسیہ کے معاملے میں جو مداخلت کی ہے، ہم اس کے طریقہ کار کو مناسب نہیں سمجھتے ہیں، کیونکہ اگر قانون میں کوئی سقم تھا تو انہیں عدالت سے رجوع کرنا چاہئے تھا۔ اگر عوام الناس کو بھی آسیہ کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا علم ہوجاتا تو عوام مشتعل نہ ہوتے اور معاملات احسن طریقے سے حل ہوجاتے۔ جب یہ معاملہ متنازع رخ اختیار کرگیا تھا تو حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ قومی سطح پر ایک کانفرنس بلواتی، جس میں غیر ملکی علمائے اسلام کو بھی بلایا جاتا، تاکہ ایک مناسب اور درست پیغام عوام تک پہنچتا۔ حکومت نے اپنے سیاسی دباؤ کو کم کرنے کے لئے علماء کے ذریعے اس معاملے کو ہوا دی ہے۔ سلمان تاثیر کی جہاں تک بات ہے تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ بے وقوف دوست سے عقلمند دشمن زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ ان کے بیان کی وجہ سے ملک میں لبرل اور انتہا پسند طبقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، جو غیر ضروری اور غیر اہم ہے۔ الہامی ادیان کے ماننے والے تمام لوگ، اپنے اعمال کے جوابدہ ہیں اور یہ چیز معاشرہ بھول گیا ہے، جس کی وجہ سے معاشرے میں کرپشن اور بے راہ روی بڑھ گئی ہے۔ میری اپیل یہی ہے کہ اس معاملے کو انسانیت اور حقوق العباد کے تناظر میں دیکھا جانا چاہئے، جو لوگ سیاسی دکانیں چمکانے کی کوشش کررہے ہیں، ان کو اپنی سوچوں کا رخ انسانیت کی طرف موڑنے کی ضرورت ہے۔
سوال: کیا گورنر پنجاب کے قتل کی مخالفت سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ انہیں عیسائی راہنماؤں کی حمایت بھی حاصل تھی؟
جواب: عام تاثریہی ہے کہ سلمان تاثیر، بیرونی دنیا کے دباؤ اور صدر مملکت آصف علی زرداری کی ہدایات پر عملدرآمد کررہے تھے۔ تاہم میں اس سوچ کی سختی سے مذمت کرتا ہوں۔ صدر پاکستان اور حکمران کی میرٹ کی بنیاد پر، ملک کے عوام کو انصاف فراہم کرنا چاہئے، تاکہ عدل و انصاف کے پیچیدہ نظام کی وجہ سے، بے گناہ افراد کو سزا نہ مل سکے۔ میں اپیل کروں گا کہ ہم سب مل کر پاکستان میں عادلانہ نظام قائم کرنے کے لئے کوشش کریں۔
سوال: پاکستان میں مسلمان اور عیسائی خوشگوار ماحول میں رہتے ہیں۔ کیا آپ نہیں سمجھتے کہ مقتول گورنر کے قتل کی مخالفت سے، دونوں مذاہب کے ماننے والوں میں فسادات کی راہ ہموار ہوسکتی ہے اور اگر ایسے میں خدانخواستہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آگیا تو پاکستان کو بدنام کیا جائے گا یا اصل حقائق سامنے لائے جائیں گے؟
جواب: مسلمانوں کو چاہئے تھا کہ وہ روز اول سے ہی ۲۹۵ سی کے غلط استعمال کو روکنے کی کوشش کرتے، تاکہ آسیہ اور سلمان تاثیر کے اس مقام تک پہنچنے کی نوبت نہ آتی۔ تاریخ کا مطالعہ کرنے سے اہل اسلام کو معلوم ہوگا کہ ۲۹۵ سی کے نفاذ میں اقلیتوں کے تمام ووٹ اس قانون کے حق میں تھے۔ اس وقت بھی ہمیں اس قانون سے کوئی خطرہ نہیں تھا اور آج بھی ہم اس قانون کی عزت کرتے ہیں۔
سوال: کیا یہ سب کچھ کسی بیرونی اشارے پر ہورہا ہے؟
جواب: اصل میں تو یہ علمائے کرام کی ذمہ داری تھی کہ وہ توہین رسالت کے قانون کے غلط استعمال کے خلاف آواز اٹھاتے اور ایسے لوگوں کا محاسبہ کرتے جو اس قانون کو اپنے مفادات کے لئے غلط استعمال کررہے ہیں۔
سوال:کیا توہین رسالت کے قانون کو ختم ہونا چاہئے؟
جواب: میں اس قانون کو ختم کرنے کے حق میں بالکل بھی نہیں ہوں۔ تاہم میں اس کے غلط استعمال کے خلاف ہوں۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اسے اکثریت کی حمایت حاصل ہے اور اسے موجود رہنا چاہئے۔ تاہم جو شخص الزام عائد کرتا ہے، اس کا سب سے پہلے پولوگرافک ٹیسٹ ہونا چاہئے، تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ وہ جھوٹ کہہ رہا ہے یا سچ۔ اس کے علاوہ الزام عائد کرنے والے کے الزام کا جائزہ لینے کے لئے علمائے کرام کی ایک ہائی پروفائل کمیٹی ہونی چاہئے جو یہ دیکھے کہ الزام کسی ذاتی دشمنی یا رنجش کی بنا پر تو عائد نہیں کیا جارہا ہے۔“
جناب اعجاز عنایت کی بعض باتوں پر تحفظات کے باوجود ان کا انٹرویوبیرونی دنیا کے پروپیگنڈوں کے لئے موثر اور منہ توڑ جواب ہے۔
۳: ...”پاکستان کو مذہبی آزادی اور رواداری کے ان تمام قومی اور بین الاقوامی معاہدوں اور قراردادوں کی یاددہانی کرائی گئی جس کی وہ توثیق کرچکا ہے۔“
قوم یہ پوچھنا چاہتی ہے کہ مذہبی آزادی اور رواداری کا مفہوم اور معنی کیا ہے؟ کیا مذہبی آزادی یہی ہے کہ قادیانی، یہودی، یا عیسائی ملکی قانون کی خلاف ورزی یا اسے پامال کرتے ہوئے مسلمانوں کے آقا، خاتم الانبیاء حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ پر نازل ہونے والی کتاب قرآن کریم کی توہین و تذلیل کرے، اس موذی اور ملعون کو کوئی روکنے، ٹوکنے والا نہ ہو، یہ کون سی مذہبی آزادی ہے اور کس لغت میں اس کی یہ تعریف لکھی گئی ہے؟
مغربی ممالک میں مسلمانوں کی اذان پر پابندی، مساجد کے میناروں پر پابندی، مسلمان خواتین کے حجاب پر پابندی، کیا یہ پابندیاں مذہبی آزادی اور رواداری کا ثبوت ہیں یا تنگ نظری اور تعصب پر مبنی اقدامات کا منہ بولتا ثبوت ؟
الحمدللہ! پاکستان میں تمام اقلیتیں محفوظ بھی ہیں اور خوش بھی، انہیں پاکستان میں کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں، اس لئے کہ ہمارا اسلام خود اقلیتوں کے جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کی تلقین اور درس دیتا ہے۔
۴:....”یورپی پارلیمنٹ نے توہین رسالت کے قانون پر جامع نظر ثانی کے علاوہ صدر آصف علی زرداری سے مطالبہ کیا کہ وہ آئین میں دیئے گئے صدارتی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے آسیہ مسیح کی سزا معاف کردیں۔“
اس کے لئے یورپی پارلیمنٹ کو چاہئے کہ وہ عیسائی راہنما جناب اعجاز عنایت کا بیان ایک بار پھر پڑھ لے، جنہوں نے کہا ہے کہ ہمیں دفعہ ۲۹۵سی پر کوئی اعتراض نہیں بلکہ یہ قانون بنانے پر اس وقت کے عیسائی نمائندے بھی اس میں شریک تھے۔ اور آسیہ مسیح کے لئے انہوں نے کہا کہ ہم نے ہائی کورٹ میں اپیل کی ہے اور ہمیں عدالت کا فیصلہ قبول ہوگا۔
۵:.... ”شدت پسندی کو روکنے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی حمایت اور سیکورٹی فورسز اور عدلیہ کے بعض حصوں اور سیاسی طبقے کی جانب سے مذہبی انتہا پسندوں کی حمایت پر گہری تشویش کا اظہار۔“
افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اگر پاکستان کی حکومت اور سیکورٹی فورسز مغربی طاقتوں کی خواہشات کے عین مطابق دہشت گردی کے نام پرپاکستانی نوجوانوں کو دہشت گرد قرار دے کر امریکا کے حوالے کرے، مدارس اور مساجد پر بمباری کرے، معصوم طلباوطالبات کو شہید کرے تو اس پر اظہار اطمینان اور اگر یہی حکومت نظریہ پاکستان اپنے ملکی آئین کی پاس داری کرے تو اس پر تشویش کا اظہار۔ ایسا دوغلا معیار کیوں؟
پاکستان کے اربابِ اقتدار کو چاہئے کہ یورپی پارلیمنٹ کی تعصب ، تنگ نظری اور دین دشمنی پر مبنی ان قراردادوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے سفارتی ذرائع اور سفارتی مشن کے ذریعہ یورپی پارلیمنٹ کو باور کرائے کہ آپ کی قراردادیں پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور بین الاقوامی قوانین کی سراسر خلاف ورزی ہے اور اس طرح یورپی پارلیمنٹ کا یورپی ممالک کو اس بات کی ہدایت دینا کہ وہ تحفظ ناموس رسالت قوانین کے خاتمہ کے لئے اصولی اور مالی طور پر ان ”معتدل“ لوگوں کی معاونت کریں، جو اس قانون کو ختم کرانے کے لئے کوشاں ہوں،یہ بھی پاکستانی حکومت کے خلاف گہری سازش اور ملکی سلامتی کے سراسر خلاف ہے۔ اس پر پاکستان کی قومی اسمبلی کو یورپی پارلیمنٹ کے خلاف قراردادِ مذمت پاس کرنے کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی میں اس پر صدائے احتجاج بلند کرنا چاہئے۔
اسی طرح حکومت پاکستان کو چاہئے کہ وہ زمینی حقائق، پاکستانی قوم کی حب الوطنی اور مذہبی حساسیت کا ادراک کرتے ہوئے آئین پاکستان کے مطابق پالیسی مرتب کرکے اس پر عمل درآمد کرے اور بیرونی طاقتوں کی خواہشات اور تمناؤں کی کسی قسم کی پرواہ نہ کرے۔ ورنہ تیونس،اردن اورمصر کی حالت زار آج دنیا کے سامنے ہے، جن کے حکمرانوں اور بادشاہوں نے اپنی قوم کے ذوق و مزاج اور ان کے حقیقی مسائل سے غفلت، سستی اور لاپروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مغربی طاقتوں کی خوشنودی اور ترجیحات کوہمیشہ سامنے رکھا اور اس کے مطابق فیصلے کئے،جس کی بناپر آج وہ پریشانی سے دوچار ہیں۔ان فی ذالک لعبرةلاولی الابصار
وصلی اللّٰہ تعالیٰ علی خیر خلقہ محمد وآلہ واصحابہ اجمعین
اشاعت ۲۰۱۱ ماہنامہ بینات , ربیع الاول ۱۴۳۲ھ -مارچ ۲۰۱۱ء, جلد 74, شمارہ