عالم اسلام کے خلاف سازشیں !
عالم اسلام کے خلاف سازشیں

الحمد لله وسلام علی عبادہ الذین اصطفی!
ایک وقت تھا کہ عالمی دنیا دو بلاکوں میں منقسم تھی۔ ایک طرف کمیونسٹ بلاک، جس کی قیادت روس کررہا تھا اور دوسری طرف مغربی بلاک، جس کی قیادت پہلے برطانیہ کے ہاتھ میں تھی، برطانوی زوال کے بعد امریکہ بہادر اس کا قائد اور چودھری بن گیا۔
ان دونوں عالمی قوتوں اور طاقتوں کا ہر چیز میں نظریاتی اختلاف تھا، لیکن اسلام سے عداوت وبغض اور عالم اسلام کو اختلاف وانتشار میں جھونکنا اور اس پر خوش ہونا، ان دونوں کا مشترکہ مشن تھا۔
جہادِ افغانستان کے برکات وثمرات سے روس پاش پاش ہوکر ٹکڑوں میں تقسیم ہوا، یہاں تک کہ اسے اپنا وجوداور تشخص برقرار رکھنابھی مشکل ہوگیا۔خلاصہ یہ کہ اسلام کے خلاف اس کا مشن اور ایجنڈا شرمندہٴ تعبیر نہ ہوسکا۔
عالمی طور پر اب میدان میں صرف امریکہ رہ گیا اور اس نے مست ہاتھی کی طرح اسلامی ممالک پر چڑھ دوڑنے اور تسلّط کا پروگرام مرتب کرکے نیو ورلڈ آرڈر کی آڑ میں دنیائے اسلام کو تہس نہس کرنے اور شکست وریخت سے دوچار کرنے کا منصوبہ بنالیا۔
اعدائے اسلام نے اسلامی ممالک کو بے شمار سازشی منصوبوں اور پالیسیوں میں ایسا جکڑا کہ ان کی تمام تر قوتیں اور صلاحتیں آپس میں ٹکرا ٹکرا کر مفلوج اور کمزور ہوگئیں۔ مثلاً: عراق، ایران جنگ کرائی گئی، عراق کو کویت پر قبضہ کی ترغیب اور تحریض دی گئی، کویت کی مدد کے نام پر عراق پر یلغار کی گئی، عراق میں کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی کا عالمی جھوٹ گھڑنے کے بعد اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی، نائن الیون کا ڈرامہ رچاکر افغانستان پر چڑھائی کی گئی، افغانستان کی آبادیوں پر طیاروں سے تباہ کن بمباری کرکے معصوم بچوں، بوڑھوں ، جوانوں، عفت مآب پردہ نشین ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو موت کی ابدی نیند سلادیاگیا اور ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔
الغرض مسلم حکمران ہوں یا عوام الناس، برسوں تک تو ان خوفناک منصوبوں، سازشوں اور جکڑ بندیوں کو سمجھ ہی نہیں پاتے اور جب کبھی انہیں دشمن کے ناپاک منصوبوں کا علم ہوتاہے تو اس وقت کافی حد تک ان کی ہمت وقوت اور دفاعی صلاحیت مفلوج اور کمزور ہوچکی ہوتی ہے اور اگر ہمت اور حوصلہ کرکے کوئی مسلم ملک ان کے پھیلائے گئے کسی جال کو توڑنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو ایک نیا جال اس کے لئے پہلے سے تیار ہوچکا ہوتا ہے۔
پاکستان کو کمزور کرنے کے لئے محب ِوطن علماء کو چن چن کر شہید کیا گیا، مدارس پر چھاپے مارے گئے، اہلِ دین کو بدنام کیاگیا، انہیں بنیاد پرست کہا گیا ، ان پر دہشت گردی کا الزام لگایاگیا، یہاں تک کہ سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگانے والے صدر نے ڈالروں کی لالچ میں آکر پاکستانی نوجوانوں کو پکڑ پکڑ کر امریکہ بہادر کے حوالے کیا۔اس پر بس نہیں، بلکہ سازشوں کے ذریعے افغانستان کی لڑائی کو پاکستان میں پھیلادیا گیا اور مسلمان نوجوان قوت وطاقت کو مختلف حیلے بہانوں سے کچل کر رکھ دیا گیا۔
اقتصادی میدان کو لیجئے ، آج مغرب کی فیکٹریاں اور مشینیں اسلامی ممالک کے خزانوں سے لوٹی گئی دولت اور سرمائے سے چل رہی ہیں، اگر دنیائے اسلام کا یہ سر مایہ مغرب کے بنکوں سے نکال لیاجائے تو مغربی صنعت کا پہیہ جام ہوکر رہ جائے، لیکن کیا ان مسلم حکمرانوں کو آج تک ا س کا خیال آیا کہ ان کا سرمایہ انہیں کے خلاف استعمال ہونے والے اسلحہ پر خرچ کیا گیا اور کیا جارہاہے؟ بلکہ اس کے برعکس ہو یہ رہا ہے کہ اسلامی ممالک کے بڑے بڑے ”صاحب بہادر“ اپنی ذاتی جائیدادیں مغربی ممالک میں دھڑا دھڑ خرید رہے ہیں۔
اخبارات کی یہ خبریں قارئین کی نظر سے گزرچکی ہیں کہ مصر، تیونس اور اب لیبیا کے صدور کی اربوں کھربوں کی دولت ان کے مغربی آقاؤں نے ضبط کرلی ہے اور مسلمانوں کی اس دولت سے اب مغرب میں اسلحہ تیار ہوگا، جو مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتارنے میں صرف ہوگا۔ اسی طرح مسلمانوں کی اس دولت سے غریب مسلم ممالک کو سود در سود لگا کر قرضے کے نام سے نوازا جائے گا، مگر کسی مسلم ملک کو ہوش نہیں کہ ہماری نوجوان نسل کو کس طرح بیدردی سے خود ہمارے ہاتھوں ذبح اورمسلمانوں کو معاشی طور پر کس طرح قتل اور تباہ وبرباد کیا جارہا ہے؟!۔
اسی طرح مغربی ممالک سے کھربوں روپے کا سامانِ تعیّش اسلامی ممالک میں آتا ہے، آج ہمارے گھر مغرب کے سامانِ تعیّش سے سجے ہوئے ہیں، لیکن ہمیں کبھی خیال نہیں آیا کہ ہم یہ سامان درآمد کرکے عالمِ اسلام کے خلاف دشمن کو رسد پہنچا رہے ہیں۔
اگر مسلمان ممالک اکٹھے ہوجائیں اور اسلامی وحدت میں ڈھل جائیں تو وہ آج بھی دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہیں، لیکن عیّار مغرب ان کے اتحاد کو کیسے برداشت کرسکتا ہے؟ اس لئے تو اس نے اسلامی ممالک کے باشندوں کے درمیان اختلاف، انتشار، خود غرضی، مفاد پرستی ، عصبی، گروہی، لسانی اور مسلکی اختلافات کو ہوا دے کر ان کے اندرایک دوسرے کے خلاف عناد، بغض اور نفرت جیسی ملعون ومکروہ چیز کا بیج بودیا ہے کہ وہ آپس میں ہمیشہ کے لئے لڑتے، مرتے رہیں اور اپنی شکایتوں اور زیادتیوں کے ازالہ اور مدد کے لئے استاذ مغرب کے محتاج اور دست نگر بنے رہیں۔ عراق، ایران، کویت، مصر تیونس ، لیبیا، پاکستان اور افغانستان جیسے ممالک کی مثالیں سب کے سامنے ہیں۔
اسی طرح نظریاتی میدان میں ایک طرف اپنے لے پالک مستشرقین اسکالروں اور دانشوروں کے ذریعہ نئی نسل کو اسلام سے برگشتہ کرنے اور انہیں الحاد وبے راہ روی پر ڈالنے کے لئے بھر پور کوششیں کی جارہی ہیں، جس کا نتیجہ ہے کہ آج مغرب سے کوئی نظریہ پیش کیا جاتا ہے تو اس کو آنا فاناً بلاسوچے سمجھے قبول کرلیا جاتا ہے اور اس کی صداقت میں کوئی شک و شبہ نہیں کیا جاتا، لیکن اگر اسلامی شریعت کا کوئی حکم اور مسئلہ بتایاجاتا ہے تو اس کے لئے دلیل وبرہان کا مطالبہ خود مسلمانوں کی طرف سے کیا جاتا ہے اور دلیل وبرہان دیئے جانے کے باوجود بھی اس حکم اور مسئلے کو تردّد اور شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، جیساکہ حدود آرڈی نینس اور ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے پاکستان کے آئین میں بنائے قوانین کے بارہ میں مثالیں موجود ہیں۔ دوسری طرف خود مسلمانوں کے اندر بے شمار دین بے زار جماعتیں کھڑی کی گئیں، جنہوں نے اسلام کے اصل سرچشموں پر ضرب لگانے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو گروہ بندی اور فرقوں میں تقسیم کیا۔
ان ساری سازشوں اور منصوبوں کے باوجود مغرب کی آتشِ انتقام کو سکون نہیں ملا، وہ مزید خوفناک سازشوں میں مسلمانوں کو الجھانے اور ان کی رہی سہی قوت کو کچلنے کے لئے بے تاب نظر آتا ہے۔
حالیہ دنوں میں پاکستان میں ایک امریکی رہائشی ریمنڈ ڈیوس نے دو بے گناہ افراد کو قتل کیا اور اس کی مدد کے لئے آنے والے دوسرے امریکی نے گاڑی سے ایک اور نوجوان کو روند ڈالا۔ پاکستان کے حکمرانوں اور سفارتی مشن پر متعیّن اہلکاروں کی بدبختی سے تعبیر کریں یا کچھ اور کہ ریمنڈ ڈیوس رنگے ہاتھوں پکڑا گیا اور ان کی ”اعلیٰ کارکردگی“ کا پول بیچ چوراہے کھل گیا۔ اتنے دن گزرنے کے باوجود حکومتی سطح پر یہ فیصلہ نہیں ہوسکا کہ اس قاتل امریکی کو سفارتی استثنیٰ حاصل ہے یا نہیں؟ پاکستان کا وزیرِ خارجہ جواب خیر سے سابقہ وزیر خارجہ ہوچکا ہے ، کہتا ہے کہ اس کو سفارتی استثنیٰ حاصل نہیں،جب کہ وزیرِ داخلہ باربار کہتا ہے کہ اس کو سفارتی استثنیٰ حاصل ہے۔ حکومتی سطح پرابھی تک اس قضیہ میں گو مگو کی کیفیت ہے اور پاکستانی حکومت کے لئے عوامی دباؤ کے باعث اس بارہ میں فیصلہ کرنا مشکل ہوگیا ہے۔
جنگ اخبار کے کالم نگار جناب عرفان صدیقی صاحب کے کالم ”امریکیوں کی چراگاہ“ سے ایک اقتباس پیش کیا جارہا ہے، جس سے سفارتی مشن پر متعیّن اہلکاروں اور ملکی سالمیّت کی صورتِ حال کی کچھ عکاّسی ہوتی ہے۔موصوف لکھتے ہیں:
”ستم یہ ہے کہ موجودہ حکومت نے بھی اس امر کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ امریکہ سے تعاون کا کوئی واضح دائرہ کارطے کیا جائے۔ مشرف کی اپنی مجبوریاں تھیں کہ وہ ” سب سے پہلے اپنی ذات“ کے آشوب کا شکار تھا، لیکن پیپلزپارٹی جیسی عوامی جماعت کو اپوزیشن کے اشتراک سے ایک باوقار پالیسی بنانی چاہئے تھی۔ ایسا نہ ہوا کہ اس بندوبست کا آشیانہ بھی اسی شاخ پہ ہے۔ اطلاعات یہ ہیں کہ گزشتہ تین سالہ جمہوری دور میں امریکی مداخلت اور خودسری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی اور سیکورٹی ایجنسیز کے اوباشوں کا تانتا بندھا ہے۔ کیری لوگر بل سے منسلکہ بعض خفیہ شرائط کے تحت امریکیوں کو بغیر کسی تحقیق وتفتیش کے بے حد وحساب ویزے دینے کی کئی خبریں شائع ہوچکی ہیں۔ ابھی دو دن قبل قومی اسمبلی کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا گیا کہ پاکستان بھر میں مختلف ممالک کے سفارت خانوں سے منسلک ۲۵۷۰ افراد کوسفارتی استثنیٰ حاصل ہے، جن میں ۸۵۱ امریکی ہیں۔ جی ہاں ! ایک تہائی کا تعلق صرف امریکہ سے ہے، چین ہمارا دیرینہ دوست ہے، لیکن اس کے صرف ۸۷ ڈپلومیٹ یہاں موجود ہیں۔ برطانیہ کے ۱۷۰، بھارت کے ۱۱۷ ، روس کے ۹۸، جرمنی کے ۵۶، ایران کے ۶۴ اور فرانس کے ۶۰۔ مجھے یقین ہے کہ عالمِ اسلام کے ستاون اسلامی ممالک کے سفارت کاروں کی مجموعی تعداد ۸۵۱ سے بہت کم ہوگی۔ شاید یہ کوئی نہ بتا سکے کہ سفارتی استثنیٰ رکھنے والے ان ۸۵۱ امریکیوں کے علاوہ یہاں کتنے سویا کتنے ہزار امریکی، کیا کچھ کررہے ہیں؟۔
ریمنڈ ڈیوس کے بعد پشاور سے ایک اور امریکی ایرون مارک گرفتار ہوا ہے، جس کے ویزے کی میعاد تمام ہوچکی تھی۔ ایرون ایک کمپنی سے وابستہ ہے جو پشاور میں امریکیوں کو گھر کرائے پرلے کردیتی ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ میں مسلمان ہوچکا ہوں۔ اس نے ایک پاکستانی لڑکی سے شادی بھی کر رکھی ہے۔ اس سے اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ امریکی پھیلاؤ اور مداخلت کا حجم کہاں تک پہنچ چکا ہے۔ بلیک واٹر یازی سے وابستہ اور کنٹریکٹ پر بھرتی کئے گئے یہ افراد، سی آئی اے کے اہداف ومقاصد کے لئے اس آزادی کے ساتھ کام کررہے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے“۔ (روز نامہ جنگ کراچی، ۲۸ فروری ۲۰۱۱ء)
یوں لگتا ہے کہ پاکستان کی خود مختاری،سالمیّت اور آزادی داؤ پر لگ چکی ہے اور پورا پاکستان ملک دشمن جاسوسوں اور ایجنٹوں کے نرغے میں ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قواعد وضوابط سے ہٹ کر ان عناصر کو ویزے کس نے دیئے؟ کن کے اشاروں پر دیئے؟ اور ایک ہی ملک کے باشندوں کو اتنی کثیر تعداد میں ویزے کیوں جاری کئے گئے؟ جن لوگوں نے یہ ”کارنامہ“ انجام دیا ہے، ان سے بازپرس کن اندیشوں کی بنا پر نہیں کی گئی؟ اس سے ملتے جلتے اور کئی سوالات ہیں، جن کی تحقیقات ہونا ضروری ہے۔ جب تک ان باتوں کی تحقیقات نہیں کی جائیں گی، اس وقت تک پاکستان کی آزادی، خود مختاری اور سالمیّت پر سوالیہ نشان رہے گا!
وصلی الله تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ سیدنا محمد وعلی آلہ وصحبہ اجمعین
اشاعت ۲۰۱۱ ماہنامہ بینات , ربیع الثانی:۱۴۳۲ھ -اپریل: ۲۰۱۱ء, جلد 74, شمارہ