عصبات کا بیان
عصبہ:میت کے وہ رشتہ دار ہیں جن کا حصہ قرآن و حدیث میں متعین نہیں ہے؛ بلکہ وہ تنہا ہونے کی صورت میں تمام ترکہ، اور ذوی الفروض کے ساتھ باقی ماندہ ترکہ کے مستحق ہوتے ہیں ۔
عصبہ کی دو قسمیں ہیں : نسبی، سببی۔
عصبۂ نسبی کی تین قسمیں ہیں : (۱) عصبہ بنفسہ (۲) عصبہ بغیرہ (۳) عصبہ مع غیرہ۔
عصبہ بنفسہ: ہر اُس مذکر رشتہ دار کو کہتے ہیں جن کا میت سے رشتہ جوڑنے میں مؤنث کا واسطہ نہ آئے، اِس کی بالترتیب یہ چار قسمیں ہیں :
(۱)جزء میت (۲) اصل میت (۳)جزء اب میت (۴)جزء جد میت۔
عصبہ بغیرہ:وہ عورتیں ہیں جو اپنے بھائیوں کی وجہ سے عصبہ ہوتی ہیں ۔
.5 .5یہ کل وہ چارعورتیں ہیں جن کا حصہ نصف و ثلثان ہے.5: .5بیٹی، پوتی، حقیقی بہن، علاتی بہن۔
عصبہ مع غیرہ: وہ عورتیں ہیں جو فروعِ مؤنث(بیٹی، پوتی، پر پوتی الخ) کی وجہ سے عصبہ ہوتی ہیں ۔یہ صرف دو عورتیں ہیں : حقیقی بہن، علاتی بہن۔
عصبہ بنفسہ کی چار قسمیں
صنف اول
جزء میت
۱) میت کا بیٹا،۲)پوتا،۳)پر پوتا،۴)سکڑ پوتا؛الخ۔
صنف دوم
اصلِ میت
۱)میت کا باپ،۲)دادا، ۳)پر دادا، ۴)سکڑ دادا؛ الخ۔
صنفِ سوم
فرع اصل قریب
۱)حقیقی بھائی، ۲)علاتی بھائی، ۳)حقیقی بھتیجا، ۴) علاتی بھتیجا؛ الخ۔
صنف چہارم
فرع اصل بعید
۱)میت کا حقیقی چچا،۲)علاتی چچا، ۳)حقیقی چچا کا بیٹا، ۴)علاتی چچا کا بیٹا؛الخ۔
فائدہ:نقشۂ بالا میں اصناف و درجات کی ترتیب میں اقرب و ابعد کا لحاظ ضرور رہے گا۔