استعمالی ہیرے موتی پر زکوٰۃ واجب نہیں
ہیرے اور موتی اور جواہرات جن کو بغرضِ استعمال خریدا ہے ان پر زکوٰۃ نہیں ہے، خواہ وہ کتنے ہی قیمتی کیوں نہ ہوں، البتہ اگر ہیروں کی تجارت کرتا ہے تو مالِ تجارت کے اعتبار سے ان کی قیمت پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔ ولا زکاۃ فی الجواہر واللاٰلی إلا أن یتملکہا بنیۃ التجارۃ۔ (مراقی الفلاح ۳۹۱، تبیین الحقائق ۲؍۲۳، طحطاوی ۷۱۸، المبسوط السرخسی ۲؍۳۷)
پورا نصاب صدقہ کردیا تو ضمناً زکوٰۃ بھی اداہوگئی
اگر کوئی شخص کسی نصاب کا مالک ہوا، پھر اس نے وہ نصاب بلانیت زکوٰۃ مکمل صدقہ کردیا تو اس کے ذمہ سے اس نصاب کا فریضۂ زکوٰۃ ساقط ہوگیا۔ ومن تصدق بجمیع نصابہ ولاینوی الزکاۃ سقط فرضہا وہذا استحسان۔ (عالمگیری ۱؍۱۷۱، ہدایۃ ۱؍۲۰۳، الاشباہ والنظائر جدید ۸۶، البحر الرائق ۲؍۳۶۸، تبیین الحقائق ۲؍۳۰، طحطاوی ۷۱۵)
پیشگی زکوٰۃ ادا کرنا
اگر کسی شخص نے بقدر نصاب مال ملکیت میں آنے کے بعد حساب لگاکر چند سال کی پیشگی زکوٰۃ ادا کردی تو بھی اس کی ادائیگی درست ہوجائے گی۔ (تاہم اگلے سالوں میں اگر مال بڑھ جائے تو اسی حساب سے مزید زکوٰۃ نکالنی ہوگی) ولو عجل ذو نصاب لسنین صح۔ (طحطاوی ۳۸۹، شامی زکریا ۳؍۲۲۰، الولوالجیۃ ۱؍۱۹۳، ہدایۃ ۱؍۲۱۰، تاتارخانیۃ زکریا ۳؍۱۸۴، مسائل بہشتی زیور ۳۱۵)
گروی رکھی ہوئی چیز پر زکوٰۃ کاحکم
اگر کوئی چیز (زیور ہو یا کوئی اور سامان) قرض کے بدلہ میں گروی رکھی ہوئی ہے تو جب تک وہ مرتہن کے قبضہ میں رہے گی اس کی زکوٰۃ واجب نہ ہوگی، نہ راہن پر (قبضہ نہ ہونے کی وجہ سے) اور نہ مرتہن پر (ملکیت نہ ہونے کی وجہ سے) اور راہن اگر قرض ادا کرکے اس کو چھڑالے تب بھی