سونے چاندی میں کس قیمت کا اعتبارہوگا؟
سونے چاندی میں زکوٰۃ اصلاً وزن کے اعتبار سے واجب ہوتی ہے (مثلاً ۴۰؍گرام سونے میں ایک گرام سونا واجب ہوگا) اب اگر اس کی ادائیگی روپیہ کے ذریعہ کرنے کا ارادہ ہے تو اعلیٰ بات یہ ہے کہ واجب شدہ وزن کا سونا بازار میں جتنے کا ملتا ہو اسی اعتبار سے زکوٰۃ نکالیں کہ اس میں فقراء کا نفع زیادہ ہے؛ لیکن اگر اپنے پاس موجود سونا بازار میں جتنے کا فروخت ہو اس کا اعتبار کرکے زکوٰۃ نکالیںگے تو بھی فرض ادا ہوجائے گا؛ کیوںکہ شریعت کی طرف سے اصل مطالبہ اسی سونے چاندی کا ہے جو ملکیت میں فی الوقت موجود ہے؛ لہٰذا اسی کی فروختگی کی قیمت معتبر ہوگی۔ [مثلاً بازار میں سونے کی قیمت خرید ۲۵؍ہزار روپیہ فی دس گرام ہے جب کہ ہم اگر اپنا سونا بیچنا چاہیں تو سنار ۲۳؍ہزار فی دس گرام کے حساب سے قیمت لگاتا ہے، تو ہمارے اوپر اصل زکوٰۃ کا وجوب ۲۳؍ہزار فی دس گرام کے حساب ہی سے ہوگا؛ کیوںکہ یہی اس کی اصل قیمت ہے] (مرتب) والمعتبر وزنہما ادائً ووجوباً۔ (درمختار ۳؍۲۲۷، البحر الرائق ۲؍۳۹۵) یعنی یعتبر ان یکون المؤدی قدر الواجب وزناً عند الامام والثانی۔ (شامی زکریا ۳؍۲۲۷، ومثلہ فی تبیین الحقائق ۲؍۷۴، طحطاوی ۷۱۷)
امیٹیشن جویلری پر زکوٰۃ کا حکم
سونے چاندی کے علاوہ زیورات (امیٹیشن جویلری) اگر ذاتی استعمال کے لئے ہوں تو ان پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے؛ البتہ اگر کوئی شخص ان زیورات کی تجارت کرتا ہے، تو ان میں مالِ تجارت ہونے کے اعتبار سے زکوٰۃ واجب ہوگی۔ (مسائل بہشتی زیور ۳۱۲) لا زکوٰۃ فی اللاٰلی والجواہر وان ساوت الفاً اتفاقاً الا ان تکون للتجارۃ۔ (درمختار ۳؍۱۹۴، ومثلہ فی تبیین الحقائق ۲؍۲۳، اعلاء السنن ۹؍۶۲، ہندیۃ ۱؍۱۷۲)
مال حرام میں زکوٰۃ کا مسئلہ
جو مال حرام طریقہ (مثلاً سود، رشوت یا غصب وغیرہ کے ذریعہ) حاصل کیا گیا ہو وہ سب کا