سب اصل مالک پر لوٹانا یا غریبوں پر تقسیم کرنا ضروری ہوتا ہے؛ لہٰذا ایسے خالص حرام مال پر زکوٰۃ کا حکم نہیں ہے؛ البتہ اگر حلال اور حرام مال مخلوط ہو تو زکوٰۃ واجب ہوگی۔ فی القنیۃ: لو کان الخبیث نصاباً لا یلزمہ الزکوٰۃ لان الکل واجب التصدق علیہ فلا یفید ایجاب التصدق ببعضہ۔ (شامی زکریا ۳؍۲۱۸، ومثلہ فی البحر الرائق ۲؍۳۶۹)
ولو خلط السلطان المال المغصوب بمالہ ملکہ فتجب الزکوۃ فیہ۔ (تنویر الابصار مع الدر المختار زکریا ۳؍۲۱۷، البحر الرائق ۲؍۳۵۹، تاتارخانیۃ زکریا ۳؍۲۳۳، فتاویٰ محمودیہ میرٹھ ۱۴؍۳۲-۳۳)
نفع رسانی سے زکوٰۃ کی ادائیگی نہ ہوگی
زکوٰۃ کی ادائیگی کے لئے مال مشخص ضروری ہے؛ لہٰذا کسی شئ کے نفع کو زکوٰۃ میں شمار نہیں کیا جاسکتا، مثلاً کسی شخص نے اپنی گاڑی کسی فقیر کو دے دی اور اس کا بننے والا کرایہ زکوٰۃ میں جوڑلیا، یا مکان رہنے کو دے دیا اور اس کے کرایہ میں زکوٰۃ کی نیت کرلی تو اس سے زکوٰۃ ادا نہ ہوگی۔ وخرج بالمال المنفعۃ فلو أسکن فقیراً دارہ سنۃً ناویاً للزکوٰۃ لایجزیہ۔ (طحطاوی ۳۸۹، الدر المختار علی الشامی زکریا ۳؍۱۷۲، ومثلہ فی البحر الرائق زکریا ۲؍۳۵۳، مجمع الانہر ۱؍۲۸۴، ہندیۃ ۱؍۱۹۰)
مسافر غنی کا مال راستہ میں ضائع ہوگیا
اگر کوئی مسافر اپنی جگہ صاحبِ حیثیت ہو؛ لیکن سفر کے دوران اس کا مال ضائع ہوجائے (ـمثلاً جیب وغیرہ کٹ جائے) تو اس کے لئے اپنے وطن پہنچنے کے بقدر مال بمد زکوٰۃ لینا جائز ہے؛ لیکن اس بہانے سے زیادہ مال سمیٹنا درست نہ ہوگا) وکذلک المسافر اذا کان لہ مال فی وطنہ واحتاج فلہ ان یأخذ من الزکوٰۃ قدر ما یبلغہ الی وطنہ۔ (تاتارخانیۃ زکریا ۳؍۲۱۸) ولا یحل لہ ای لابن السبیل ان یأخذ اکثر من حاجتہ۔ (شامی زکریا ۳؍۲۹۰، ہندیۃ ۱؍۱۸۸)