اورمستحق لوگوں کو دینا شرعاً درست ہے؛ لیکن غیرمستحق لوگوں کو زکوٰۃ کی رقم سے خریدی گئی دوائیں دینے سے زکوٰۃ ادا نہ ہوگی۔ ویشترط أن یکون الصرف تملیکاً لا اباحۃً۔ (درمختار مع الشامی بیروت ۳؍۲۶۳، فتاویٰ محمودیہ میرٹھ ۱۴؍۲۴۶، آپ کے مسائل اوران کا حل ۳؍۴۰۵)
مسجد یا مدرسہ کے مقدمہ کے لئے زکوٰۃ خرچ کرنا
زکوٰۃ کا روپیہ مسجد یا مدرسہ کے مقدمہ میں براہِ راست خرچ کرنا جائز نہیں ہے، اس مقصد کے لئے امدادی رقومات حاصل کرنی چاہئیں، اگر بہت سخت ضرورت ہو تو زکوٰۃ کا روپیہ کسی غریب شخص کو دے دیا جائے پھر وہ اپنی طرف سے مسجد یا مدرسہ کے مقدمہ میں لگادے۔ لا یصرف إلی بناء نحو المسجد …، وقدمنا أن الحیلۃ لن یتصدق علی الفقیر، ثم یأمرہ بفعل ہٰذہ الاشیاء۔ (شامی زکریا ۳؍۲۹۳، فتاویٰ محمودیہ میرٹھ ۱۴؍۲۴۱)
مدارس میں زکوٰۃ دینے میں دوہرا ثواب
مدارس میں زکوٰۃ خرچ کرنے میںدوہرا ثواب ملے گا ایک زکوٰۃ کی ادائیگی کا دوسرے علم کی اشاعت اور دین کے تحفظ کا۔ مستفاد: التصدق علی الفقیر العالم أفضل من التصدق علی الجاہل۔ (عالمگیری ۱؍۱۸۷، درمختار زکریا ۳؍۳۰۴، بیروت ۳؍۲۷۵، البحر الرائق ۲؍۴۳۶، تبیین الحقائق ۲؍۱۲۴، احکام زکوٰۃ از: مفتی رفیع صاحب عثمانی ۴۴، فتاویٰ دارالعلوم ۶؍۲۱۸)
تملیک اور حیلۂ تملیک
زکوٰۃ کی ادائیگی کے لئے غریب مستحق کو مالک بنانا شرط ہے، اور جہاں تملیک نہ پائی جائے (مثلاً تعمیرات یا رفاہی امور) وہاںزکوٰۃ کی ادائیگی درست نہ ہوگی، اصل مسئلہ یہی ہے؛ لیکن فقہاء نے ضرورت کے موقع پر حیلۂ تملیک کی گنجائش دی ہے۔ من علیہ الزکوٰۃ إذا أراد أن یکفن میتاً عن زکوٰۃ مالہ لا یجوز، فالحیلۃ أن یتصدق بہا علی فقیر من أہل المیت ثم ہو یکفن بہ المیت فیکون لہ ثواب الصدقۃ ولأہل المیت ثواب