التکفین، وکذٰلک فی جمیع أبواب البر الذی لا یقع بہ التملیک کعمارۃ المساجد وبناء القناطر والرباطات لا یجوز صرف الزکوٰۃ إلی ہٰذہ الوجوہ۔ والحیلۃ أن یتصدق بمقدار زکوٰۃ علی فقیر ثم یأمرہ بعد ذٰلک بالصرف الی ہٰذہ الوجوہ فیکون للمتصدق ثواب الصدقۃ ولذٰلک الفقیر ثواب بناء المسجد والقنطرۃ۔ (تاتارخانیۃ زکریا ۱۰؍۳۱۸)
تنبیہ: یہاں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ حیلہ اصل قانون کا درجہ نہیں رکھتا؛ بلکہ واقعی ضرورت کی تکمیل اور قانون کے حدود کی حفاظت کے لئے حیلہ اختیار کرنے کی اجازت مجبوراً دی جاتی ہے، اور حیلہ کے بارے میں بنیادی اصول یہ ہے کہ اگر منشأ شریعت کی تکمیل کے لئے حیلہ کیا جائے تو بلاکراہت اس کی گنجائش ہوتی ہے، اور اگر مقاصد شریعت کو نظر انداز کرکے حیلہ کیا جائے توایسا حیلہ سخت مکروہ ہوتا ہے، مثلاً کوئی شخص اپنے اوپر زکوٰۃ کے وجوب کو ساقط کرنے کے لئے حیلہ کرے تو اس کی اجازت نہ ہوگی؛ البتہ اگر دینی ضرورت کی تکمیل کے لئے حیلہ کیا جائے جب کہ اس کے علاوہ کوئی چارۂ کار نہ ہو تو یہ بلاکراہت درست ہوگا۔ مثلاً کسی جگہ دینی پسماندگی کی وجہ سے مسلم آبادی کا دین وایمان خطرہ میں ہے اور زکوٰۃ کے علاوہ امدادی رقوم سے وہاں دینی تعلیم کا نظام قائم کرنا مشکل ہے، تو اس طرح کی سخت ضرورتوں کے مواقع پر حیلۂ تملیک کی گنجائش ہوتی ہے، اور جہاںحیلہ کے بغیر ضرورت پوری ہوسکتی ہو تو وہاں حیلۂ تملیک جائز نہ ہوگا۔ فذہب علماء نا رحمہم اللّٰہ تعالیٰ أن کل حیلۃ یحتال بہا الرجل لابطال حق الغیر أو لإدخال شبہۃ فیہ أو لتمویہ باطل فہی مکروہۃ، وفی العیون وفی جامع الفتاویٰ لا یسعہ ذٰلک۔ وکل حیلۃ یحتال بہا الرجل لیتخلص بہا عن حرام او لیتوصل بہا إلی حلال فہی حسنۃ۔ (تاتارخانیۃ زکریا ۱۰؍۳۱۳، کفایت المفتی ۴؍۲۸۵)
آج کل حیلۂ تملیک اپنانے میںبہت لاپرواہی برتی جاتی ہے، اور عام طور پر حیلہ ہی کو قانون کا درجہ دے دیا گیا ہے، چناںچہ زکوٰۃ کی رقومات بے تکلف حیلۂ تملیک کے بعد غیر مصارف میں صرف کی جاتی ہیں، اور اس بے احتیاطی کا کوئی احساس تک نہیں ہوتا، حالاںکہ یہ معاملہ بہت