کفن کے مسائل
تکفین کا اہتمام
اسلام کے ممتاز احکام میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے نہایت باوقار انداز میں مردوں کو کفن دینے کا حکم دیا۔ نبی اکرم ا کا ارشاد ہے:
إِذَا وَلِیَ أَحَدُکُمْ أَخَاہُ فَلِیُحْسِنْ کَفْنَہٗ۔ (ترمذی شریف ۱؍۱۹۴)
تم میں سے جو شخص اپنے بھائی کا ذمہ دار ہو اسے چاہئے کہ اس کے کفن کا بہتر انتظام کرے۔
نیز بعض احادیث میں مردے کو کفن دینے والے کے لئے بڑی فضیلتیں وارد ہوئی ہیں، ایک روایت میں پیغمبر ں نے ارشاد فرمایا:
وَمَنْ کَفَّنَ مَیِّتاً کَسَاہُ اللّٰہُ مِنْ سُنْدُسٍ وَاسْتَبْرَقٍ فِی الْجَنَّۃِ۔ (رواہ الحاکم ۱؍۳۵۴، الترغیب والترہیب مکمل ۷۲۳)
جو شخص کسی مردے کو کفن پہنائے تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں گاڑھے اور باریک ریشم کا جوڑا پہنائیں گے۔
اس لئے جہاں تک ہوسکے بہتر انداز میں میت کی تجہیز وتکفین کا اہتمام کرنا چاہئے۔ ذیل میں اس کے متعلق چند مسائل ذکر کئے جارہے ہیں:
غسل دینے کے بعد عطر لگانا
جب میت کو تولیہ وغیرہ سے صاف کرکے کفن پر رکھ دیا جائے تو سر اور داڑھی پر (اور عورت کے صرف سر پر) عطر لگادیں، پھر پیشانی، ناک، دونوں ہتھیلیوں، دونوں گھٹنوں اور دونوں پیروں پر کافور مل دیں۔ ویجعل الحنوط العطر المرکب من الأشیاء الطیبۃ غیر زعفران وورس علی رأسہ ولحیتہ والکافور علی مساجدہ کرامۃ لہا۔ (الدر المختار مع الشامی زکریا ۳؍۸۹، بیروت ۳؍۸۴، طحطاوی ۱۱۲، بدائع ۲؍۴۰، ہندیہ ۱؍۱۶۱)