محرم کا دوسرے شخص کی مونچھ وغیرہ بنانا
محرم شخص اگر کسی دوسرے آدمی کی (چاہے وہ حلال ہو یا وہ بھی محرم ہو) مونچھ یا ناخون وغیرہ کاٹ دے، تو اسے چاہئے کہ کسی غریب کو کچھ کھانا وغیرہ کھلادے۔ وان حلق محرم شارب محرم او حلال او قصہ او قص من اظفارہ اطعم ما شاء۔ (غنیۃ الناسک ۲۵۹، مناسک ملا علی قاری ۳۳۰، درمختار مع الشامی زکریا ۳؍۵۹۰، تاتارخانیۃ ۳؍۵۸۵، الولوالجیۃ ۱؍۲۷۸، البحر العمیق ۲؍۸۶۱)
ارکان پورا کرنے کے بعد اپنے یا دوسرے کے بال مونڈنا
جس محرم نے افعال حج وعمرہ پورے کرلئے ہوں، اور صرف حلق یا قصر کا عمل باقی ہو تو وہ خود اپنا سر مونڈ سکتا ہے اور اپنا حلق یا قصر کرانے سے پہلے دوسرے محرم کا حلق بھی کرسکتا ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے؛ البتہ حلق سے قبل ناخون وغیرہ کاٹنا یا کٹوانا منع ہے۔ ولو حلق رأسہ او رأس غیرہ من حلال او محرم جاز لہ الحلق لم یلزمہما شیئٌ۔ (غنیۃ الناسک ۱۷۴، زبدۃ المناسک ۳۷۰ وغیرہ)
بال جھڑنے کے مریض کا حکم
جس شخص کے بدن سے بال بلاوجہ جھڑنے کا مرض ہو تو حالت احرام میں اس کے بال جھڑنے سے کوئی جزاء لازم نہیں ہے۔ بخلاف ما اذا تناثر شعرہ بالمرض او النار فلا شیء علیہ لانہ لیس للزینۃ فانما ہو شین۔ (البحر الرائق کوئٹہ ۳؍۹) ولو تناثر شعرہ بالمرض فلا شیء علیہ فانہ لیس باختیارہ وکسبہ۔ (مناسک ملا علی قاری ۳۲۸، غنیۃ الناسک ۲۵۸، انوار مناسک ۵۳۹)
کھانا پکاتے ہوئے بال جھلس گئے
اگر احرام کی حالت میں کھانا یا روٹی پکاتے وقت ہاتھ کے بال جھلس جائیں تو صدقۂ فطر دینا لازم ہے۔ وإذا خبز فاحترق بعض شعرہ تصدق۔ (غنیۃ الناسک ۲۵۸، مناسک ملا علی قاری ۳۲۸،البحر العمیق ۲؍۸۵۳)
