ناخون کاٹنے کے مسائل
ایک مجلس میں سب ہاتھ پیر کے ناخون کاٹ ڈالے
اگر کوئی محرم شخص ایک ہی مجلس میں اپنے دونوں ہاتھ اور پیروں کے ناخون کاٹے یا ایک ہی ہاتھ یا پیر کے ناخون کاٹے، تو اس پر دونوں صورتوں میں ایک دم واجب ہوگا۔ اذا قص اظافیر یدیہ او رجلیہ او ید او رجل واحدۃٍ فی مجلس واحد فعلیہ دم واحد۔ (مناسک ملا علی قاری ۳۳۰-۳۳۱، درمختار مع الشامی زکریا ۳؍۵۸۰، ہندیۃ ۱؍۲۴۴، اللباب ۱؍۱۸۳، خانیۃ علی الہندیۃ ۱؍۲۸۸، تاتارخانیۃ ۳؍۵۸۶، تبیین الحقائق ۲؍۳۱۱)
ایک ہاتھ پیر سے کم ناخون کاٹے
اگر کسی محرم نے ایک ہاتھ یا ایک پیر سے کم (یعنی پانچ سے کم) ناخون کاٹے تو اس پر ہر ناخون کے عوض صدقۂ فطر کے بقدر صدقہ واجب ہوگا۔ وان قلم اقل من ید او رجل فعلیہ صدقۃ لکل ظفر نصف صاع۔ (مناسک ملا علی قاری ۳۳۱، ہندیہ ۱؍۲۴۴، تبیین الحقائق ۲؍۳۱۱، تاتارخانیۃ ۳؍۵۸۶، خانیۃ ۱؍۲۸۹)
ہر ہاتھ پیر کے صرف چار چار ناخون تراشے
اگر کسی محرم نے دونوں ہاتھ اور پیروں کے چارچار یعنی سولہ ناخون تراشے، تو اس پر ہر ناخون کے عوض نصف صاع صدقہ واجب ہوگا، اور چاہے تو دم بھی دے سکتا ہے۔ او قلم من کل ید ورجل اربعۃ اظافیر فبلغ جملتہا ستۃ عشر ظفراً فعلیہ صدقۃ لکل ظفر نصف صاع۔ (مناسک ملا علی قاری ۱۳۱، ہندیہ ۱؍۲۴۴، تاتارخانیۃ ۳؍۵۸۷، البحر العمیق