بحالتِ احرام جماع کے مسائل
احرام کی حالت میں بے حجابی منع ہے
حج وعمرہ کا سفر کوئی عام انداز کا سفر نہیں؛ بلکہ یہ ایک روحانی اور تربیتی سفر ہے، جس میں پوری بیدار مغزی، ذوق وشوق اور مکمل خشوع وخضوع شرعاً مطلوب ہے، اس لئے اس سفر میں ہر وہ کام ممنوع ہے جس میں خیالات میں پراگندگی اور یکسوئی میں خلل واقع ہوتا ہو۔ چناںچہ دورانِ حج وعمرہ جس طرح لڑائی جھگڑا اور ہر طرح کی معصیت اور گناہ سے منع کیا گیا ہے، اسی طرح ہر قسم کی بے حیائی کی باتوں پر بھی مکمل بند لگادیا گیا ہے۔ ارشادِ خداوندی ہے:
فَمَنْ فَرَضَ فِیْہِنَّ الْحَجَّ فَلاَ رَفَثَ وَلاَ فُسُوْقَ وَلاَ جِدَالَ فِیْ الْحَجِّ۔
(البقرۃ: ۱۹۷)
پس جو شخص ان (حج کے مہینوں) میں حج لازم کرے تو نہ بے حیائی ہے اور نہ گناہ ہے اور نہ آپسی جھگڑا حج میں جائز ہے۔
حتی کہ وہ بے حجابیاں جو احرام سے پہلے شرعاً حلال ہیں وہ بھی احرام باندھتے ہی منع ہوجاتی ہیں، مثلاً بیوی سے بے حجاب ہونا یا بے حجابی کی باتیں کرنا عام حالات میں جائز ہے، مگر احرام کے بعد وہ حلال نہیں رہتا، اور اس حکم کی تعمیل نہ کرنے کی وجہ سے بعض صورتوں میں سرے سے حج وعمرہ کی عبادت ہی فاسد ہوجاتی ہے، جب کہ بعض دیگر صورتوں میں جنایت لازم آتی ہے۔
اس لئے وہ عازمین حج وعمرہ جو اپنی بیویوں کے ساتھ سفر کرتے ہیں انہیں احرام کی حالت میں اور حج میں احرام کھولنے کے بعد طواف زیارت سے پہلے اس بارے میں بہت احتیاط لازم ہے، عمل تو دور رہا زبانی طور پر بھی بیویوں سے بے حجابی کی باتوں سے بچیں، اور اس معاملہ میں مسائل کا علم حاصل کریں، ورنہ عبادت کے خراب ہونے کا قوی اندیشہ ہے۔
ذیل میں اس موضوع سے متعلق چند اہم مسائل ذکر کئے جاتے ہیں:
ارکان کی ادائیگی سے قبل جماع
اگر کسی محرم نے وقوفِ عرفہ یا طوافِ عمرہ کے اکثر چکروں کی ادائیگی سے پہلے جماع کرلیا تو اس کا حج وعمرہ فاسد ہوجائے گا، اور اس پر ایک دم بھی لازم ہوگا۔ فان جامع فی احد