(۴) عاقل ہونا؛ لہٰذا اگر مجنون ہے تو اس پر حج واجب نہیں۔
(۵) آزاد ہونا؛ لہٰذا غلام پر نہ تو حج واجب ہے اور نہ اس کے حج کرنے سے اس کا حج فرض ادا ہوگا۔
(۶) حج کے سفر پر قادر ہونا؛ یعنی بدنی طاقت، سواری اور توشہ کا ہونا، اگر یہ استطاعت نہیں ہے توحج واجب نہیں۔
(۷) حج کا وقت ہونا: یعنی حج کے مہینوں: شوال، ذی قعدہ اور ذی الحجہ میں یا اگر بہت دور دراز کا رہنے والا ہے تو ایسے وقت میں ہونا جس میں سفر کرکے وہ حج کرسکے۔ الأول: الاسلام فلا یجب علی کافر الخ۔ (غنیۃ الناسک ۱۲) والثانی: العلم بکون الحج فرضاً إما بکونہ فی دارالاسلام وإما بإخبار رجلین أو رجل وامرأتین الخ۔ والحاصل أن العلم المذکور یثبت للمسلم فی دارالاسلام لمجرد الوجود فیہا سواء علم بالفرضیۃ أو لا الخ۔ (غنیۃ الناسک ۱۳) الثالث والرابع: البلوغ والعقل فلا یجب علی صبی أو مجنون الخ۔ الخامس: الحریۃ فلا یجب علیٰ عبد الخ فلو حج ولو باذن المولی فہو نفل لا یسقط الفرض۔ (غنیۃ الناسک ۱۶) السادس: الاستطاعۃ وہی القدرۃ علی زاد یلیق بحالہ۔ (غنیۃ الناسک ۱۶) السابع: الوقت أی وجود القدرۃ فیہ وہی اشہر الحج أو ہو وقت خروج أہل بلدہ إن کانوا یخرجون قبلہا۔ (غنیۃ الناسک ۲۲، ومثلہ فی الہندیۃ ۱؍۲۱۶-۲۱۷، البحر الرائق زکریا ۲؍۵۳۹، اعلاء السنن کراچی ۱۰؍۶)
