(بحر الرائق: ۱؍۱۸۲)۔
۳…عورتوں کی حیض کے اعتبار سے مختلف اقسام ہوتی ہیں ،مثلاً : مبتدأہ، معتادہ، ممیزہ، متحیرہ ،اس کے لئے سب سے پہلے یہ عورت کس درجہ میں آتی ہے وہ دیکھا جائے گا، تمام اقسام کے رنگوں کو فقہاء نے حیض میں شمار کیا ہے۔
الوان الدماء ستۃ السواد و الحمرۃ و الصفرۃ و الکدرۃ و الخضرۃ و التربیۃ و ھی التی علی لون التراب الی ان قال و کل ھذہ الالوان حیض فی ایام الحیض الی ان تری البیض اھ (بحر الرائق: ۱؍۱۹۲) امرأۃ رات بیاضا خالصا علی الخرقۃ ما دام رطب فاذا یبس اصفر فحکمہ حکم البیاض لان المعتبر حال الرؤیۃ لا حالۃ التغیر بعد ذالک اھ
لہذا یہ عورت معتادہ ہے تو اس کی عادت کے دن حیض ہوں گے، مبتداہ یا متحیرہ ہے تو پورے دس دن حیض کے ہوں گے، جب پہلے ایک دو دن خون آیا پھر دو تین دن بند رہا تو یہ استحاضہ ہے پھر جب خون آنا شروع ہوا تو تین دن تک مسلسل آتا رہا تو یہ حیض ہے پھر جب بند ہو گا تو غسل وغیرہ کر کے نماز پڑھے ۔
۴… عورت کو عادت کے مطابق سات دن خون آیا اور پھر ختم ہو گیا تو وہ پاک ہو گئی غسل کرے اور نماز پڑھے پھربیاض خالص کے بعد دو دن کے بعد صرف خون کا دھبہ دکھائی دے تو اس سے وہ عورت طہر میں ہی شمار ہوگی۔
۵… اگر وہ معتادہ ہے تو اپنی عادت کے مطابق( عادت کے دن سے جتنے دن کی عادت ہے) حیض ہوگا۔
۶… مدت طہر پندرہ دن ہے اس کے بعد حیض آ سکتا ہے اس عورت کو کب اور کتنے دن