وقت باقی رہتا ہے، اس کے بعد عصر کا وقت شروع ہو جاتا ہے۔
مذکورہ اختلاف سے بچنے کی بہتر صورت یہ ہے کہ ظہر ایک مثل سے پہلے پڑھ لی جائے اور عصر دو مثل کے بعد پڑھی جائے۔ تاکہ ہر امام کے قول کے مطابق دونوں نمازیں صحیح ہو جائیں ۔ اور ہمارے یہاں عصر حنفی کے عنوان کے نیچے جو وقت بتایا جاتا ہے وہ اوپر کی تفصیل کے مطابق امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے قول کے مطابق بتایا جاتا ہے۔
لہذا جو شخص ایک مثل اور دو مثل کے درمیان کے وقت میں ظہراور عصر پڑھے گا تو امام صاحب کے قول کے مطابق اس کی ظہر کی نماز وقت میں ہونے کی وجہ سے صحیح ہو جائے گی۔ اور صاحبین کے قول کے مطابق عصر کا وقت شروع ہو جانے کی وجہ سے ظہر قضا سمجھی جائے گی، اور عصر ادا سمجھی جائے گی۔ فقط و اللہ تعالی اعلم
{۳۷۰} عصر اور مغرب کے درمیان کے وقت میں قضا نماز پڑھنا اور سجدۂ تلاوت کرنا
سوال: عصر سے مغرب تک مکروہ وقت ہونے کی وجہ سے نفل نماز نہیں پڑھ سکتے، لیکن کسی فرض نماز کی قضا یا تلاوت قرآن یا سجدۂ تلاوت کر سکتے ہیں یا نہیں ؟
الجواب: حامداً و مصلیاً و مسلماً… عصر کے بعد دوسری قضا نمازیں اور سجدۂ تلاوت غروب کے پندرہ منٹ پہلے تک کر سکتے ہیں ، لیکن سجدۂ تلاوت اگر اسی وقت واجب ہوا ہو تو کر سکتے ہیں لیکن بہتر یہ ہے کہ غروب کے بعد ادا کریں ۔ فقط و اللہ تعالی اعلم
{۳۷۱} فجر کی دو رکعت سنت کی قضا ہے یا نہیں ؟
سوال: فجر کی دو رکعت سنت فرض سے پہلے نہ پڑھی ہو تو فرض کے بعد پڑھ سکتے ہیں یا نہیں ؟