{۶۲۲} فجر اور ظہر کی سنتوں کی قضا
سوال: فجر کی سنتیں چھوٹ جائیں تو ان کے لئے کیا حکم ہے؟ اور اگر ظہر کی سنتیں چھوٹ جائیں تو کب پڑھی جائیں ؟ اور کیا نیت کرنی چاہئے؟ قضا کی نیت کریں یا ادا کی؟
الجواب: حامداً و مصلیاً و مسلماً… ظہر کی چار رکعت سنت مؤکدہ فرض سے پہلے پڑھنا رہ جائے تو مفتیٰ بہ قول کے مطابق فرض کے بعد پڑھ لی جائیں ، اور وقت پر پڑھنے کی وجہ سے قضا نہیں کہلائیں گی، اس لئے ادا کی ہی نیت کرنی چاہئے، البتہ اول دو رکعت سنت فرض کے بعد کی پڑھ لیں پھر یہ چار رکعت سنت پڑھیں (عالمگیری)
اور اگر فجر کی سنتیں فرض کے ساتھ چھوٹ گئی ہوں تو اسی دن کے زوال سے پہلے اگر فجر کی قضا کی جائے تو فرض کے ساتھ سنتوں کی قضا بھی پڑھ سکتے ہیں ، اور دونوں قضا سمجھی جائیں گی، لہذا نیت قضا کی کریں گے۔دوسری کسی بھی صورت میں صحیح قول کے مطابق سنتوں کی قضا کرنا درست نہیں ہے۔ (شامی، عالمگیری) فقط و اللہ تعالی اعلم
{۶۲۳} فجر اور ظہر کے درمیان اور عصر اور مغرب کے درمیان قضا نماز پڑھنا
سوال: صبح صادق کے بعد فجر اور ظہر کے درمیان کے وقت میں کیا پچھلے دس سالوں کی قضا نمازیں پڑھ سکتے ہیں ؟ سننے میں آیا ہے کہ اس وقت نفل نمازیں نہیں پڑھ سکتے ہیں ، تو چاشت اور اشراق کی نماز جو کہ نفل ہیں ان کو پڑھنا کیوں کر جائز ہے؟ (مجھے اس مسئلہ کا کچھ علم نہیں ہے اس لئے خاص جاننے کے لئے پوچھا ہے) اسی طرح عصر اور مغرب کے درمیان کے وقت میں کیا قضا نمازیں پڑھ سکتے ہیں ؟
الجواب: حامداً و مصلیاً و مسلماً… فجر کی نماز سے پہلے اور فجر کی نماز کے بعد طلوع آفتاب