نہیں ؟ایک مکان ہے اس میں عشاء کی نماز اور تراویح ہو جانے کے بعد ہر شخص وہاں آتاجاتارہتا ہے ، تو ایسی جگہ تراویح کی نماز صحیح ہوگی یا نہیں ؟
الجواب: حامداً و مصلیاً و مسلماً… مذکورہ جگہ پر تراویح کی نماز پڑھنے میں یا عشاء کی نماز جماعت سے پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اور وہ جگہ شرعی مسجد نہیں ہے اس لئے وہاں رہنے میں یا دوسرے کسی دوسرے استعمال میں لایا جائے تو بھی گناہ نہیں ہوگا۔ لیکن اگر وہ جگہ کسی کی ملکیت نہ ہو ، بلکہ وقف ہو تو وہ جگہ مسجد کہلائے گی، لہذا دوسری نمازوں کو بھی جماعت سے پڑھنے کا انتظام کرنا چاہئے تاکہ مسجد کا حق بھی ادا ہو اور وہاں دوسرا استعمال بھی بند کیا جائے تاکہ مسجد کا ادب باقی رہے۔ فقط و اللہ تعالی اعلم
{۶۹۶} تراویح کی بیس رکعتیں ہیں یا آٹھ رکعتیں ہیں ؟
سوال: مولوی عبد الجلیل سامرودی صاحب نے آٹھ رکعت تراویح کے بارے میں ہنڈ بل(اشتہار) چھپوایا ہے، اس کے مدار پر میں آٹھ رکعت تراویح پڑھتا ہوں ، تو کیا اس طرح میرا آٹھ رکعت تراویح پڑھنا صحیح ہے؟ حدیث سے کتنی رکعتیں ثابت ہیں ؟ فقہ و سنت کی روشنی میں جواب دیں ۔
الجواب: حامداً و مصلیاً و مسلماً… تراویح پڑھنا مرد اور عورت دونوں کے لئے سنت مؤکدہ ہے، اور اس کی بیس رکعت پڑھنا حدیث سے ثابت ہے۔
.6ہمارے مذہب کے چاروں ائمہ میں سے کسی نے بھی بیس سے کم رکعت نہیں بتائی ہے، اس لئے ہر مسلمان مرد اور عورت کو تراویح کی بیس رکعت ہی پڑھنی چاہئے، جو شخص اس سے کم آٹھ رکعت پڑھتا ہے وہ غلط کرتا ہے، اور حضور ﷺ اور صحابۂ کرام کے عمل کے خلاف ہے ۔