الجواب: حامداً و مصلیاً و مسلماً… صورت مسئولہ میں عورت کے ساتھ اس کی رضامندی سے یا بغیر رضامندی کے دبر میں وطی کرنا سخت گناہ کا کام ہے، لیکن اس فعل سے عورت کا نکاح فاسد ہو جاتاہے یہ عقیدہ غلط ہے، اس سے نکاح کے تعلق پر کوئی اثر نہیں آتا، البتہ قوم لوط کی تباہی کا سبب یہی گناہ تھا، اس لئے اس گناہ سے سچے دل سے توبہ کرنا ضروری ہے۔عن ابی ہریرۃؓ قال: قال رسول اللہ ﷺ:’’ملعون من اتی امرأتہ فی دبرھا‘‘ (مشکوۃ المصابیح، باب المباشرۃ، الفصل الثانی: ۲۷۶،عالمگیری: ۵؍۳۳۰، جوہرہ: ۱؍۳۵)
{۱۸۲۲} بیوی سے دبر کے مقام میں وطی کرنا؟
سوال: بیوی سے اس کے دبر کے راستے میں وطی کرنے کا کیا حکم ہے؟ قرآن و حدیث میں اس بارے میں کیا فرمایا گیا ہے؟ بہت سے لوگوں کو شوق کے خاطریا اور وجہ سے دبرکے راستے میں وطی کرنے کی عادت پڑ جاتی ہے ، کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس بد فعلی پر قرآن و حدیث میں سخت الفاظ میں ممانعت وارد ہے، جب کہ دوسرے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس بد فعلی سے میاں بیوی کے درمیان نکاح کا تعلق ختم ہو جاتا ہے اور نکاح ٹوٹ جاتا ہے، اس مسئلہ کی صحیح حقیقت کیا ہے؟
الجواب: حامداً و مصلیاً و مسلماً… اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتے ہیں : فأتٓوا حرثکم انیٰ شئتم:
ایک حدیث میں ہے کہ ملعون ہے وہ شخص جو اپنی بیوی سے دبر کے مقام میں ہم بستری کرے،عن ابی ہریرۃؓ قال: قال رسول اللہ ﷺ:’’ملعون من اتی امرأتہ فی دبرھا‘‘ (مشکوۃ المصابیح، باب المباشرۃ، الفصل الثانی: ۲۷۶)۔