رضامند نہیں ہے ، پہلے بھی بار بار کے مطالبہ کے بعد بھی دینے کے لئے رضامند نہیں ہے اور جبراً اپنے پاس رکھتی ہے ، تو کیا وہ کورٹ کا سہارا لے کر خرچہ لے سکتی ہے؟ اگر کورٹ کا فیصلہ خرچ دینے کا ہو تو شوہر کی ناراضگی کے باوجود شوہر دینے کے لئے مجبور ہوگا ، تو کیا اس صورت میں یہ خرچ لینے والی عورت شرعی نقطہ نظر سے گنہگار نہیں ہوگی؟ نوٹ: عدت کاخرچ اور مہر کی رقم عورت کو دے دی گئی تھی۔
الجواب: حامداً و مصلیاً و مسلماً… عورت طلاق کے بعد عدت کی مدت کے خرچ کی حقدار ہے، اس مدت کے بعد کسی بھی صورت میں نان و نفقہ کا دعویٰ یا مطالبہ نہیں کر سکتی، اگر کرے گی تو ناجائز اور ظلم کہلائے گا، اور مرد کے لئے وہ خرچ دینا ضروری بھی نہیں ہے۔
البتہ! نابالغ بچوں کا نان و نفقہ والد کے ذمہ ہے اس لئے جس عمر تک حق حضانت عورت کو حاصل ہے اتنی مدت کا نان و نفقہ عورت لے سکتی ہے ، اس عمر کے بعد بچوں کو باپ کے حوالہ کر دینا چاہئے ، جب لڑکے کی عمر ۱۰ سال اور لڑکی کی عمر ۱۳ سال کی ہے تو عورت جبراً ان بچوں کو اپنے پاس نہیں رکھ سکتی، بچوں کو والد کے سپرد کر دینا چاہئے۔ (شامی: ۲)
{۱۹۹۸} شوہر کا اپنے گھرکی مستعمل اشیاء کا مطالبہ
سوال: بیوی نے جو کپڑے ودیگر اشیاء شوہر کے گھر پہن کر پرانے کر دئے ہوں کیا شوہر وہ چیزیں عورت سے واپس مانگے تو عورت کو وہ چیزیں واپس لا کر دینا ضروری ہے؟
الجواب: حامداً و مصلیاً و مسلماً… جو کپڑے وغیرہ شوہر نے اپنی بیوی کو دئے اور اس نے پہن کر یا استعمال کرکے کر ختم کر دئے تو اب شوہر وہ چیزیں واپس نہیں مانگ سکتا، اور عورت کے لئے وہ چیزیں واپس دینا ضروری بھی نہیں ہے۔ فقط و اللہ تعالی اعلم