کیا اسلام اور قرآن میں فرق ہے؟
کیا اسلام اور قرآن میں فرق ہے؟ جناب جاوید چوہدری صاحب کی خدمت میں

الحمدللّٰہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفی!
اللہ تعالیٰ نے قلم و قرطاس، زبان و بیان اور تحریر و تقریر کو غوروغوض اور فکر و نظر کے اظہار کا ذریعہ اور وسیلہ بنایا ہے۔ جہاں انسان اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ان نعمتوں اور صلاحیتوں کو دین و شریعت، تہذیب و اخلاق، عقائد و اعمال، سیرت و کردار، اسلام اور مسلمانوں کی صحیح ترجمانی اور انسانیت کی درست راہنمائی میں استعمال کرکے اپنے لئے نجاتِ آخرت کا سامان اور اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کا حصول ممکن بنا سکتا ہے، وہاں ان کو جہالت جدیدہ کی ترویج و اشاعت، دین بیزار لوگوں کی ترجمانی، عبادات اور دینی اعمال بجالانے والوں کا تمسخر، ان کی توہین و تنقیص اور قرآن و سنت کے معنی ومفہوم میں تغیر و تبدل اور تحریف و تشکیک پیدا کرکے دنیا میں ذلت و رسوائی اور آخرت میں اپنی عاقبت خراب اور برباد کرسکتا ہے۔
یہ فتنوں کازمانہ ہے اور جس شخص کے ذھن اوردل ودماغ میں جوبات آتی ہے وہ اسے حرف آخرسمجھ کربلاتحقیق وتفتیش بیان کرناشروع کردیتاہے، خصوصا میڈیاسے وابستہ افراد کچھ زیادہ ہی اس بارہ میں بے باک نظرآتے ہیں۔ایسا ہی کچھ روزنامہ ایکسپریس ۱۸/ جمادی الاخریٰ ۱۴۳۲ھ، مطابق ۲۲/ مئی ۲۰۱۱ء کی اشاعت میں ایک کالم بنام ”اسلام اور قرآن“ چھپا ہے، جسے جناب جاوید چوہدری صاحب نے تحریر کیا ہے۔
جناب جاوید چوہدری صاحب قلم و قرطاس کی ”نعمت“ اور میڈیا سے وابستگی کی ”سعادت“ سے بہرہ مند ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کو لکھنے کا خوب ملکہ اور ڈھنگ ودیعت فرمایا ہے، وہ طویل عرصہ سے لکھنے لکھانے سے وابستہ ہیں۔ سیاسی، سماجی، معاشرتی، دینی، مذہبی اور معلوماتی ہمہ قسم کے موضوعات پر انہوں نے کالم لکھے ہیں جو قارئین میں پسند کی سند لئے ہوئے ہیں، لیکن درج ذیل کالم کا ہر وہ قاری جو دین کی بنیادی باتوں کا علم رکھتا ہے اور دینی فہم و ادراک سے روشناس اور بہرہ ور ہے، وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ یہ کالم واقعی جناب جاوید چوہدری صاحب نے ازخودسپرد قلم کیا ہے؟ یا ان کے نام پر غلطی سے چھپ گیا ہے؟ اگر غلطی سے چھپا ہے تو اس کا تدارک اور تلافی ہونی چاہئے اور اگر ایسا نہیں ہے اور یقینا ایسا نہیں ہے تو یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ انہوں نے دیدہ و دانستہ قارئین کو مغالطہ میں ڈالنے اور دھوکا دینے کی کوشش کیوں کی ہے؟
محسوس یوں ہوتا ہے کہ شاید جناب جاوید چوہدری صاحب نے ”چلو اُدھر کو ہوا ہو جدھر کی“ کے مصداق ماحول، اربابِ اقتدار کے مزاج اور بین الاقوامی پالیسیوں کو مد ِ نظررکھ کر یہ کالم تحریر کیا ہے، اگر ایسا ہی ہے تو اس پر صرف اتنا کہا جاسکتا ہے کہ یہ کلام کہیں اس شعر کا مصداق نہ بن جائے کہ:”نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم، نہ ادھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے“جناب جاوید چوہدری صاحب لکھتے ہیں:
”یہ سوال بھی دلچسپ تھا، پوچھنے والے نے پوچھا: ”میں کوئی نماز قضا نہیں کرتا، میں ہمیشہ وضو میں رہتا ہوں، میں گیارہ سال کی عمر سے روزے رکھ رہا ہوں، میں دن میں دس گھنٹے تسبیح کرتا ہوں، میں تین عمرے اور دو حج بھی کرچکا ہوں، میں ہر سال زکوٰة بھی دیتا ہوں اور میں راتوں کو گڑ گڑا کر دعائیں بھی کرتا ہوں، لیکن اس کے باوجود میرا کاروبار نہیں چل رہا، میں اور میرا خاندان ترقی نہیں کررہا، میں پریشان ہوں، میری دعاؤں میں اثر کیوں نہیں؟ میرے حالات تبدیل کیوں نہیں ہورہے؟“ یہ سوال انوکھا نہیں تھا، ہم میں سے اکثر مسلمان یہ سوچ کر حیران ہوتے ہیں، ہم اللہ تعالیٰ کے بہترین دین کو ماننے والے ہیں، ہم اللہ تعالیٰ کے محبوب ترین نبی کے امتی ہیں اور ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت اور ریاضت میں بھی مصروف رہتے ہیں، لیکن اس کے باوجود دنیا میں ذلیل و خوار ہورہے ہیں، ہم دنیا کے بہترین وسائل کے بھی مالک ہیں، لیکن اس کے باوجود دنیا کے پسماندہ ترین لوگ ہیں اور ہم سجدوں، تسبیحوں، ذکر، عمرہ ،حجوں، خیرات اور روزوں کے باوجود بھی دنیا میں مار رکھا رہے ہیں، کیوں؟ یہ سوالات آج دنیا کے ہر مسلمان کے سامنے کھڑے ہیں اور ہم ان کا جواب تلاش کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ سے شکوے شروع کردیتے ہیں، ہم یہ شکوے کرتے ہوئے بھول جاتے ہیں۔ ہم جب تک اسلام اور قرآن مجید کا فرق نہیں سمجھیں گے، ہم اس وقت تک ترقی کا راز نہیں پاسکیں گے، ہم اس وقت تک ترقی نہیں کرسکیں گے، لیکن آپ قرآن مجید اور اسلام کے فرق کی طرف جانے سے پہلے اسلامی دنیا کی ایک اور تبدیلی بھی نوٹ کیجئے۔ آپ آج کے زمانے کا دس بیس سال پرانے زمانے سے تقابل کرکے دیکھئے، آپ کو ماضی کے مقابلے میں آج مسجدیں زیادہ ملیں گی، آپ کو نمازیوں کی تعداد میں بھی روز بروز اضافہ دکھائی دے گا، آپ جمعے کی نماز کے لئے کسی مسجد میں چلے جائیں، آپ کو گلی تک صفیں ملیں گی، آپ رمضان میں روزہ داروں کا تجزیہ کریں، آپ کو رمضان اور اہتمام رمضان میں بھی اضافہ ملے گا، آپ مذہبی جماعتوں کی وسعت اور طاقت کا بھی اندازہ لگایئے، آپ کو مذہبی جماعتوں اور ان کے زائرین کی تعداد میں بھی اضافہ دکھائی دے گا، آپ کو ملک کے اکثر لوگوں کے ہاتھوں میں تسبیح بھی دکھائی دے گی، آپ کو داڑھی رکھنے، شلوار قمیض پہننے اور شعائر اسلام کے مطابق زندگی گزارنے کے رجحان میں بھی اضافہ نظر آئے گا، آپ کو ہر سال عمرہ اور حج کرنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ملے گا، آپ کو دنیا بھر میں نو مسلم بھی ملیں گے اور آپ زکوٰة دینے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ پائیں گے۔لیکن یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے عبادات کے رجحان میں اس اضافے کے باوجود عالم اسلام پوری دنیا میں مار کیوں کھارہا ہے؟ دنیا کے ۵۸ اسلامی ممالک میں سے ۵۵ کا شمار تیسری دنیا اور پسماندہ ترین خطوں میں کیوں ہوتا ہے؟ یہ سوال بڑا اہم ہے اور اس سوال میں ہماری پسماندگی اور ترقی یافتہ اقوام کا عروج چھپا ہے، ہم لوگ بنیادی طور پر اسلام کے ذریعے ترقی کرنا چاہتے ہیں، جب کہ ترقی قرآن مجید کے بغیر ممکن نہیں ہوتی۔ یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے، کیا اسلام اور قرآن مجید میں فرق ہے؟ جی ہاں! ان دونوں میں بہت فرق ہے اور ہم نے آج تک اس فرق کو سمجھنے کی کوشس نہیں کی۔ قرآن مجید دنیا کے تمام انسانوں کے لئے ہے، اسے ہندو بھی خریدسکتے ہیں اور اسے سکھ، عیسائی، یہودی، پارسی اور بودھ حتی کہ لادین بھی پڑھ سکتے ہیں۔ یہ کتاب پوری انسانیت کے لئے ہے، لہٰذا اس کا عربی میں پڑھنا بھی ضروری نہیں، دنیا کا کوئی بھی شخص اس کا کسی بھی زبان میں ترجمہ کرسکتا ہے، لوگ یہ ترجمہ پڑھ سکتے ہیں، ہم اگر قرآن مجید کسی دوسرے مذہب کے شخص کے ہاتھ میں دیکھیں تو ہمیں بُرا نہیں لگتا، اس کی وجہ نفسیاتی اعتراف ہے، ہم جانتے ہیں قرآن مجید سب کا ہے، جب کہ قرآن مجید کے مقابلے میں اسلام صرف مسلمانوں کے لئے ہے۔ اسلام پانچ ارکان کا نام ہے، تو حید، نماز، روزہ، زکوٰة اور حج، یہ پانچوں رکن صرف اور صرف مسلمانوں تک محدود ہیں۔ ہم کسی غیر مسلم کو کلمہ پڑھتا دیکھیں تو ہمیں بُرا لگے گا، ہم کسی سکھ، ہندو اور پارسی کو اپنی مسجد میں نہیں گھسنے دیں گے، ہم کسی غیر مسلم کو روزے رکھتے دیکھ کر بھی اچھا محسوس نہیں کریں گے، ہم غربت کی انتہا پر پہنچ کر بھی کسی غیر مسلم سے زکوٰة نہیں لیں گے اور رہ گیا حج تو کوئی غیر مسلم حرمین شریفین کی حدود تک میں داخل نہیں ہوسکتا۔ ہم لوگ ان ارکان کی ادائیگی کے لئے بھی ایک خاص ضابطے اور عربی زبان کے پابند ہیں۔ آپ کلمہ ہر صورت میں عربی زبان میں پڑھیں گے، آپ اس کی جگہ اس کا ترجمہ پڑھ کر مسلمان نہیں ہوسکتے، اسی طرح آپ نماز اور حج بھی عربی زبان ہی میں ادا کریں گے اور آپ روزے اور زکوٰة کے لئے بھی ایک خاص ضابطے کے پابند ہیں، کیوں؟ اس لئے کہ اسلام کے پانچوں ارکان مسلمان کے لئے وقف ہیں، ہم کسی غیر مسلم کو اس وقت تک یہ پانچ رکن ادا نہیں کرنے دیں گے، جب تک وہ اسلام قبول نہیں کرلیتا، ہمارے ذہن میں اب یہ سوال اٹھتا ہے کہ قرآن مجید کیا ہے ؟ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان پر اتاری ہوئی ایک ایسی فائنل اتھارٹی ہے، جس نے انسان کے کروڑوں سال کے سماجی تجربے کو دستاویزی شکل دے دی، یہ سماجی تجربہ کیا ہے؟ ہمارا سماجی تجربہ ہمارے معاشرتی تجربے سے ملتی جلتی چیز ہے، انسان نے جس طرح کروڑوں سال کے تجربے سے سیکھا آگ جلادیتی ہے، برف سن کر دیتی ہے، دھوپ سے بچ کر رہنا چاہئے، بلندی سے چھلانگ نہیں لگانی چاہئے اور طاقتور جانوروں سے بچ کر رہنا چاہئے وغیرہ وغیرہ۔ بالکل اسی طرح انسان نے کروڑوں برسوں میں ۲۰ سماجی اصول بھی سیکھے ہیں، یہ اصول انصاف، مساوات، قانون، امن، سچائی، دیانت داری، علم، تحقیق، رحم دلی، دوسروں کے حقوق کا احترام، خواتین، بچوں، بزرگوں اور بیماروں کے ساتھ مہربانی، تجارت اور صنعت، جانوروں کے ساتھ حسن سلوک، مضبوط دفاع، وعدے کی پابندی، سادگی، ویلفیئر، شائستگی، دوسروں کے عقائد کا احترام اور برداشت ہے۔ یہ وہ بیس اصول ہیں، جن کے بغیر دنیا کا کوئی معاشرہ معاشرہ بن سکتا ہے اور نہ ہی یہ ترقی کرسکتا ہے اور قرآن مجید ان ۲۰ اصولوں کا گواہ ہے، قرآن مجید نے دنیا کے ہر انسان، دنیا کے ہر معاشرے کو یہ سمجھانے کا بیڑا اٹھالیا کہ تم اگر دنیا میں امن، سکون، خوشی اور آرام سے زندگی گزارنا چاہتے ہو تو پھر تمہیں یہ بیس کام کرنا پڑیں گے، بصورت دیگر تم دنیا میں ذلیل ہوجاؤگے، یہ بیس اصول دنیا کے ہر انسان کے لئے ہیں، یہ انسان گورا ہو، کالا ہو، سرخ ہو یا پیلا ہو اور یہ مسلمان ہو یا غیر مسلم ہو، ہمارا المیہ اب یہ ہے کہ ہم ان ۲۰ اصولوں پر عمل نہیں کر رہے جو انسان نے کروڑوں سال میں سیکھے ہیں اور قرآن مجید ان کا گواہ بن گیا، اور ان کی جگہ توحید، نماز، روزے، زکوٰة اور حج سے اللہ تعالیٰ اور قدرت کو متاثرکرنے کی کوشش کررہے ہیں، لہٰذا ہم دنیاوی اور اخروی دونوں زندگیوں کی ترقی سے محروم چلے آرہے ہیں، جب کہ ہمارے مقابلے میں اہل مغرب اور ترقی یافتہ ممالک ان ۲۰ اصولوں پر عمل کررہے ہیں اور ان پر ترقی کے دروازے کھل رہے ہیں، یہ قرآن مجید کا فیصلہ ہے، دنیا میں بے انصاف، بے قانون، بے امن چھوٹے بڑے اور امیر غریب کی تقسیم کے شکار، کم تولنے، کم ماپنے اور عورتوں، بچوں، بوڑھوں، مسکینوں اور جانوروں پر ظلم کرنے والا معاشرہ ترقی یافتہ نہیں ہوسکتا، خواہ لوگ دن میں تیس تیس نمازیں پڑھ لیں، پورا سال روزے رکھ لیں، ہر سال حج کرلیں، اپنی ساری جمع پونجی زکوٰة میں دے دیں اور ہر سیکنڈ اللہ اور اس کے رسول کا نام لیتے رہیں، ہم مسلمان ہوں یا نہ ہوں، ہمیں معاشرتی اور ذاتی ترقی کے لئے بہرحال ان ۲۰ اصولوں پر عمل کرنا پڑے گا، جو انسان نے کروڑوں سال میں وضع کئے اور قرآن مجید نے انہیں تحریری شکل دے کر ہمارے سامنے رکھ دیا، قرآن مجید بنیادی طور پر ایک آئیڈیل معاشرے کی ٹیکسٹ بک ہے اور ہم جب تک اس ٹیکسٹ بک کی طرف نہیں آئیں گے، ہم ترقی نہیں پاسکیں گے۔ ہمارے سامنے اب یہ سوال سر اٹھاتا ہے، دنیا کے وہ لوگ جو قرآن مجید سے ترقی کا سبق سیکھ لیتے ہیں یا اس پر عمل کرتے ہیں، لیکن اسلام کے پانچ ارکان پر عمل نہیں کرتے تو ان کی آخری زندگی کیسے گزرے گی؟ ان لوگوں کی ترقی دنیا کی حد تک محدود رہتی ہے، جب کہ ان کے مقابلے میں شعائر اسلام اور قرآن مجید کے ۲۰ اصولوں پر عمل کرنے والے مسلمان دنیا اور آخرت دونوں میں سرخرو ہوجاتے ہیں۔ چنانچہ ہمیں اسلام کے ساتھ ساتھ قرآن مجید پر بھی عمل کرنا ہوگا، ہمیں مسلمان کے ساتھ ساتھ ایسا انسان بھی بننا ہوگا جو انسانیت کو دنیا اور دنیا کو انسانیت سمجھتا ہو،ورنہ دوسری صورت میں قدرت کو ہماری داڑھیوں، تسبیحوں، نمازوں، روزوں، زکوٰة اور حجوں پر رحم نہیں آئے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کم تولنے والے کی نماز اور دعا دونوں سے لاتعلق ہوجاتا ہے اور میرا وہ دوست اور پورا عالم اسلام اس وقت اسی کشمکش سے گزر رہا ہے۔“ (روزنامہ ایکسپریس، ۲۲/ مئی ۲۰۱۱ء )
جناب جاویدچوہدری صاحب کے اس کالم کامفہوم اورخلاصہ جومیں سمجھاہوں وہ یہ ہے کہ:
۱:۔نماز ،روزہ،زکوٰة ،اورحج کی کوئی اہمیت اورحیثیت نہیں۔
۲:۔مسلمانوں کی پستی اورپسماندگی کاسبب اسلام اورقرآن کافرق نہ سمجھناہے۔
۳:۔اسلام اور قرآن مجیدمیں فرق ہے۔
۴:۔مسلمان صرف اسلام پرعمل کرتے ہیں اورمغربی اقوام قرآن کریم پر ۔
۵:۔اسلام پانچ ارکان کانام ہے :توحید،نماز،روزہ ،زکوٰة،اورحج ۔
۶:۔قرآن مجیداللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان پراتاری ہوئی ایک ایسی فائنل اتھارٹی ہے،جس نے انسان کے کروڑوں سال کے تجربے کو دستاویزی شکل دے دی ۔
اس کے علاوہ انہوں نے ضمناً اوربھی بہت کچھ لکھاہے، لیکن اختصاراً انہیں باتوں کاترتیب وارتجزیہ پیش کیاجاتاہے۔
۱:۔جناب چوہدری صاحب!معلوم نہیں کہ آپ نے کالم نگاری کے لئے یہ سوال فرضی بنایا ہے یا واقعی کسی نے یہ سوال کیا ہے؟ قرائن سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ سوال آپ کی ذہنی اختراع ہے۔ لیکن نماز، روزہ، زکوٰة اور حج جیسے فرائض کی ادائیگی اس انداز اور ان الفاظ میں پیش کرنا گویا قارئین کو یہ تاثر دینا ہے کہ ان فرائض کے اہتمام اور بجاآوری کی کوئی اہمیت او ر وقعت نہیں، جیسا کہ آگے چل کر آپ نے بڑے تحقیرانہ انداز میں لکھا ہے کہ: ”خواہ لوگ دن میں تیس تیس نمازیں پڑھ لیں، پورا سال روزے رکھ لیں، ہر سال حج کرلیں، اپنی جمع پونجی زکوٰة میں دے دیں اور ہر سیکنڈ اللہ و رسول کا نام لیتے رہیں.. ترقی نہیں پاسکیں گے۔“جناب! نماز فرض ہے اور اس کا حکم اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بار بار دیا ہے، ایک جگہ ارشاد ہے:
”واقیموا الصلوٰة ولا تکونوا من المشرکین“ (روم:۳۱) ترجمہ:۔ ”اورنمازکی پابندی کرواورشرک کرنے والوں میں سے مت رہو“۔
سورئہ مریم میں اللہ تعالیٰ نے کئی انبیاء کرام علیہم الصلوٰة والسلام کے تذکرہ اور ان کی تعریف و توصیف کے بعد فرمایا:
”فخلف من بعد ہم خلف اضاعوا الصلوٰة واتبعوا الشہوات فسوف یلقون غیاً۔“ (مریم:۵۹)
ترجمہ:۔”پھران کے بعد(بعضے)ایسے ناخلف پیداہوئے جنہوں نے نمازکوبربادکیااور (نفسانی ناجائز)خواہشوں کی پیروی کی یہ لوگ عنقریب (آخرت میں) خرابی دیکھیں گے“۔
اسلامی دنیا کی اس تبدیلی اور ایمان و اسلام کے اعمال و عبادات میں اضافے سے ایک مسلمان تو خوش ہوتا ہے اور اسے خوش ہونا بھی چاہئے، اس لئے کہ ایسے لوگ اپنے مقصد تخلیق پر عمل کررہے ہیں، جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد ہے:
”وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون۔“ (الذاریات:۵۶)
ترجمہ:۔”اور میں نے جن اور انسان کو اسی واسطے پیداکیاہے کہ میری عبادت کیاکریں“۔
لیکن نامعلوم جناب جاوید چوہدری صاحب اس اسلامی دنیا کی تبدیلی سے کیوں ناخوش نظر آرہے ہیں؟حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
”العھدالذی بیننا وبینہم الصلوٰة فمن ترکہا فقد کفر....رواہ احمد والترمذی والنسائی وابن ماجہ ۔“ (مشکوٰة:۵۸)
ترجمہ:۔”وہ عہدجوہمارے اور ان کے درمیان ہے وہ نمازہے ،پس جس نے نمازچھوڑی تواس نے کفرکیا“۔
۲:...حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
”اوصانی خلیلی ان لاتشرک باللّٰہ شیئاً وان قطعت وحرقت ولا تترک صلوٰة مکتوبة متعمداً فمن ترکہا متعمداً فقد برأت منہ الذمة...رواہ ابن ماجة۔“ (مشکوٰة:۵۹)
ترجمہ:۔”میرے دوست (حضورصلی اللہ علیہ وسلم )نے مجھے وصیّت کی(یعنی تاکیدکی)کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اگرچہ تم کاٹ دئے جاؤیاجلادئے جاؤاورجان بوجھ کرفرض نمازنہ چھوڑو،جس نے فرض نمازکوجان بوجھ کرچھوڑاتو اس کی ذمّہ داری ختم ہوگئی “
۳:...حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہ خلافت میں گورنروں کو خط لکھااورفرمایا:
”ان اہم امورکم عندی الصلٰوة من حفظہا وحافظ علیہا حفظ دینہ ومن ضیعہا فہولما سواہا اضیع...رواہ مالک۔“ (مشکوٰة :۶۰)
ترجمہ:۔”میرے نزدیک تمہاراسب سے اہم کام نمازہے ،جس نے اس کی حفاظت اور پابندی کی تو اس نے اپنے دین کو محفوظ کیااور جس نے اسے ضائع کیاتووہ اس کے علاوہ (باقی فرائض )کو زیادہ ضائع کرنے والاہوگا“۔
۴:۔حضرت عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”کان اصحاب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لا یرون شیئا من الاعمال ترکہ کفرالا الصلوٰة۔“ (مشکوٰة: ۵۹)
ترجمہ:۔”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ  کسی عمل کے چھوڑنے کو کفرنہیں سمجھتے تھے ،سوائے نمازکے“۔
اسی طرح روزہ کی فرضیت، روزہ کا وقت، روزہ کی قضا اور اس کا مقصد ایک ایک چیز کو قرآن کریم نے بڑے پیارے انداز میں بیان فرمایا ہے، قرآن کریم میں ارشاد ہے:
۱:۔”یا ایہا الذین آمنوا کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون، ایاماً معدودات، فمن کان منکم مریضاً او علی سفر فعدة من ایام اُخر... وان تصوموا خیر لکم ان کنتم تعلمون۔“ (البقرہ:۱۸۳،۱۸۴)
ترجمہ:۔”اے ایمان والو!تم پر روزہ فرض کیاگیا،جس طرح تم سے پہلے (امتوں کے)لوگوں پر فرض کیاگیاتھا،اس توقع پرکہ تم (روزہ کی بدولت رفتہ رفتہ)متقی بن جاؤ،تھوڑے دنوں روزے رکھ لیاکرو،پھر(اس میں بھی اتنی آسانی کہ)جوشخص تم میں بیمارہویاسفرمیں ہوتو دوسرے ایّام کا شمار رکھنا ہے..... اور تمہارا روزہ رکھنازیادہ بہترہے ،اگرتم خبررکھتے ہو“۔
۲:...”ثم اتموا الصیام الی اللیل۔“ (البقرہ:۱۸۷)
ترجمہ:۔”رات تک روزہ کوپوراکیاکرو“۔
نماز اور روزہ کی طرح زکوٰة بھی فرض ہے، قرآن کریم میں بارہا نماز کے ساتھ ادائیگی زکوٰة کا بھی حکم دیا گیا ہے، جیسا کہ ارشاد ہے:
۱:...”واقیموا الصلوٰة واٰتوا الزکوة وارکعوا مع الراکعین۔“ (البقرہ:۴۳)
ترجمہ:۔ ”اورقائم کروتم لوگ نمازکواوردوزکوٰة کواورعاجزی کروعاجزی کرنے والوں کے ساتھ“۔
۲:... ”والذین یکنزون الذہب والفضة ولا ینفقو نہا فی سبیل اللّٰہ فبشرہم بعذاب الیم، یوم یحمیٰ علیہا فی نار جہنم فتکویٰ بہا جباہھم و جنوبہم وظہور ہم ،ہذا ماکنزتم لانفسکم فذوقوا ماکنتم تکنزون۔“ (التوبہ:۳۴،۳۵)
ترجمہ:۔”جولوگ سوناچاندی جمع کرکررکھتے ہیں اور ان کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، سوآپ ان کو ایک بڑی دردناک سزاکی خبرسنادیجئے جو کہ اس روز واقع ہوگی کہ ان کو دوزخ کی آگ میں تپایاجائے گا،پھر ان سے ان لوگوں کی پیشانیوں اور ان کی کروٹوں اور ان کی پشتوں کوداغ دیاجائے گا،یہ ہے وہ جس کو تم نے اپنے واسطے جمع کر کرکے رکھاتھا،سواب اپنے جمع کرنے کامزہ چکھو“۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد کچھ لوگ زکوٰة دینے سے انکاری ہوئے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
”واللّٰہ لاقاتلن من فرق بین الصلوٰة والزکوٰة، فان الذکوٰة حق المال، واللّٰہ لو منعونی عناقاً کانوا یؤدونہا الی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لقاتلتہم علی منعہما...متفق علیہ“ (مشکوٰة: ۱۵۷)
ترجمہ:۔ ”اللہ کی قسم !میں اس آدمی سے ضرورقتال کروں گاجو نماز اور زکوٰة میں فرق کرے گا،زکوٰة مال کاحق ہے۔اللہ کی قسم!اگروہ مجھے اونٹنی کابچہ دینے سے رکے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے تھے تومیں ان سے اس روکنے پر قتال کروں گا“۔
جناب جاوید چوہدری صاحب!نماز، روزہ، زکوٰة اور حج ان عبادات کی فرضیت کا اعتقاد رکھنا فرض، ان کا انکار کفر اور ان کا چھوڑنے والا فاسق ،نافرمان اورگنہگار کہلاتا ہے، ایک مسلمان یہ عبادات اس لئے نہیں کرتا کہ وہ ان کے ذریعہ دنیا میں ترقی کرے، اس کے دنیوی اعتبار سے حالات بہتر ہوں بلکہ وہ ان عبادات اور فرائض کو اس لئے بجالاتا ہے کہ میرا معبود، میرا خالق، میرا رب مجھ سے راضی ہو جائے اور میں اس کا حق بندگی ادا کروں۔
۲:۔جناب جاوید چوہدری صاحب! مسلمانوں کی پستی اور پسماندگی کے اسباب اور وجوہ وہ نہیں جو آپ نے اسلام اور قرآن میں فرق پیدا کرکے تحریر فرمائے ہیں، بلکہ اس وقت مسلمانوں کے حکمران مجموعی اعتبار سے بدعملی کا شکار ہیں، ان میں ذوق عبادت اور شوق شہادت کا فقدان ہے۔ انہیں دین، مذہب، ایمان اور عقیدہ کے تحفظ کے علاوہ اپنی اپنی اولاد اور اپنے اپنے خاندانوں کی دنیاوی راحت و آرام کی فکر ہے۔ آج کافر اقوام کی طرح انہوں نے بھی اپنی کامیابی و ناکامی کا مدار دنیا اور دنیاوی اسباب و ذرائع کو بنالیا ہے۔مادیت پسندی نے انہیں اتنا متاثر کیا ہے کہ حلال و حرام کی تمیز تک نہیں رہی، سود، جوا، رشوت، لاٹری، اور انعامی اسکیموں کے سہارے جب ملکی نظام چلایا جارہا ہو تو آپ ہی بتایئے کہ ملکی ترقی کیسے ممکن ہوگی؟ ۳:۔ جناب جاوید چوہدری صاحب! اسلام اور قرآن میں کوئی فرق نہیں، اسلام انقیاد ظاہری اور انقیاد باطنی کا نام ہے، یعنی ایک مسلمان اپنے ظاہر و باطن کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے احکامات اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارتاہے اور ان کا ماخذ و منبع اور دلیل و حجت قرآن کریم ہے اور قرآن کریم کی تشریح اور تفصیل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ ہیں: حجة الوداع کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ آیات تلاوت کرکے سنائیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
۱:...”الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دیناً“ (المائدہ:۳)
ترجمہ:۔”آج کے دن تمہارے لئے تمہارے دین کو میں نے کامل کردیااور تم پر میں نے اپناانعام تام کردیااور میں نے اسلام کو تمہارادین بننے کے لئے پسندکرلیا“۔
اسی طرح ایک جگہ ارشاد ہے:
۲:....”ان الدین عند اللّٰہ الاسلام“... (آل عمران:۱۹)
ترجمہ:۔”بلاشبہ دین (حق اورمقبول)اللہ تعالیٰ کے نزدیک صرف اسلام ہی ہے“۔
۳:... ”ومن یبتغ غیر الاسلام دیناً فلن یقبل منہ۔“ (اٰل عمران:۸۵)
ترجمہ:۔”اورجوشخص اسلام کے سواکسی دوسرے دین کوطلب کرے گاتووہ اس سے مقبول نہ ہوگا“۔
۴:... ”یا ایہا الذین آمنوا دخلوا فی السلم کافة ولا تتبعوا خطوات الشیطن، انہ لکم عدو مبین۔“ (البقرہ:۲۰۸)
ترجمہ:۔”اے ایمان والو!اسلام میں پورے پورے داخل ہواورشیطان کے قدم قدم مت چلو،واقعی وہ تمہاراکھلادشمن ہے“۔
ان آیات کامشترکہ مضمون اورخلاصہ ایک ہی ہے کہ اللہ کاپسندیدہ دین، دین اسلام ہے، اس کے علاوہ کوئی اوردین قابل قبول نہیں اور اسلام کے تمام احکامات کامانناہی فرض اور ضروری ہے۔ قرآن کریم اوراحادیث مبارکہ میں کہیں نہیں بتایاگیاکہ اسلام اور قرآن میں فرق ہے اور نہ ہی چودہ سوسال میں کسی نے یہ توجیہ پیش کی ہے کہ اسلام اورقرآن میں فرق ہے، اس کے باوجود یہ نئی تحقیق اور نئی اپچ کہ اسلام اور قرآن مجید میں فرق ہے، کوئی ”ذی ہوش“ اور ”عقلمند“ انسان ہی پیش کرسکتا ہے۔ مسلمانوں کا عقیدہ اور مذہب ہے کہ جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم روئے زمین اورکل کائنات کے لئے نبی اور رسول ہیں، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی کتاب قرآن کریم بھی تمام انسانیت کے لئے ہے ،لیکن جس طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے مسلمان کہلاتے ہیں، اسی طرح قرآن کریم کو اللہ کی آخری کتاب ماننے والے اور اس پر عمل کرنے والے بھی مسلمان ہی کہلاتے ہیں۔
۴:۔ آپ کی یہ تقسیم کہ مسلمان صرف اسلام پر عمل کرتے ہیں اور مغربی اقوام قرآن مجید پر عمل کررہی ہیں، یہ سراسر مغالطہ اور دھوکا دینے کی کوشش اور تجاہل عارفانہ کے سوا کچھ نہیں۔ بلکہ یہ عربی مقولہ ”توجیہ القائل بما لا یرضیٰ بہ القائل“ کا مصداق نظر آتا ہے، یعنی مغربی اقوام یہ نہیں کہتی کہ ہم قرآن کریم کو مانتے ہیں اور اس کتاب میں بیان کردہ اصولوں کے مطابق عمل کرکے ہم نے ترقی کی ہے، لیکن جاوید چوہدری صاحب ہیں کہ وہ یہ ”نوید“ سنا رہے ہیں کہ مغرب نے قرآن مجید کے بیان کردہ بیس اصولوں پر عمل کرکے ترقی کی ہے۔ جناب چوہدری صاحب! مغربی اقوام کے لوگ آج قرآن کریم کی مخالفت کرتے ہوئے اس پر نام نہاد مقدمہ قائم کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسی کتاب کی وجہ سے دہشت گردی ہورہی ہے، نعوذباللہ!۔ میڈیا کی موجودگی میں اسے جلایا جاتا ہے، کبھی گوانتاناموبے کی جیل میں مسلمان قیدیوں کے سامنے اسے فلش میں بہایا جاتا ہے، کبھی قرآن کریم کے اوراق کو پھاڑنے کے بعد کمرہ میں پھیلا کر بے گناہ عافیہ صدیقی کو ان اوراق پر چل کر آنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ کیا یہ سب قرآن مجید ماننے اور اس پر عمل کرنے کی بنا پر ہے؟ قرآن مجید مسلمان خواتین کو پردہ کا حکم دیتا ہے اور مغرب اس پر پابندی لگاتا ہے، قرآن کریم اذان کا تذکرہ کرتا ہے اور مغربی اقوام کو اذان برداشت نہیں، قرآن کریم مساجد بنانے اور انہیں آباد کرنے کی ترغیب و تشویق دلاتا ہے اور مغرب مسجد کے میناروں کو گرانے کی مہم چلاتا ہے۔ قرآن کریم بے گناہ انسانوں کو مارنے اور قتل کرنے سے روکتا ہے، لیکن یہ مغرب مسلمانوں پر ہر جگہ ظلم و تشدد، بربریت و فسطائیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان پر بم برساتا اور ڈرون حملے کرتا ہے۔
جناب چوہدری صاحب! کہیں ایسا تو نہیں کہ مسلمان ممالک کی عوام چونکہ مغرب اور مغرب نواز حکمرانوں کی مسلم کش پالیسیوں کی بنا پر ان سے ناراض اور نالاں ہیں تو آپ وکیل صفائی بن کر مسلمانوں کو سمجھانے پر مامور ہوں کہ مغربی اقوام کی ترقی کا راز قرآن مجید پر عمل کرنا ہے اور مسلمانوں نے تو صرف اسلام کو لیا ہے اور قرآن مجید کو چھوڑ دیا ہے، جب کہ مغرب قرآن مجید پر عمل کررہا ہے۔ نعوذباللّٰہ من ذالک۔
۵:۔جناب جاوید صاحب! عام مسلمان بھی اس بات پر ایمان اور اس کا اقرار کرتا ہے کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے:
۱:... شہادتین یعنی اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، ۲:...نماز قائم کرنا، ۳:... زکوٰة دینا، ۴:...حج ادا کرنا، ۵:... رمضان کے روزہ رکھنا۔ جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
”بنی الاسلام علی خمس شہادة ان لا الٰہ الا اللّٰہ وان محمداً عبدہ ورسولہ واقام الصلوٰة وایتاء الزکوٰة والحج وصوم رمضان... متفق علیہ۔“ (مشکوٰة:۱۲)
معلوم نہیں، جناب چوہدری صاحب غلطی سے شہادتین کو اپنے کالم میں توحید لکھ گئے ہیں یا جان بوجھ کر انہوں نے صرف توحید کا ذکر کیا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو چھوڑ دیا ہے۔ اگر غیر شعوری طور یہ سہو ہوا ہے تو اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں اور اخبار میں اس غلطی کا اعتراف اورا قرار کریں، اور اگر جان بوجھ کر ایسا کیا ہے تو انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت اور آپ کی رسالت کی تصدیق اور اقرار کے بغیر کوئی آدمی مسلمان نہیں رہ سکتا، ایسے آدمی کی نماز، روزہ، زکوٰة اور حج کا کوئی اعتبار ہے اور نہ کسی اورنیکی کا۔
میرے بھائی! اگر کوئی انسان دل سے اس کلمہ کی تصدیق اور زبان سے اس کا اقرار کرتا ہے تو دنیا کا کوئی مسلمان اسے اس کلمہ پڑھنے سے روک نہیں سکتا، اور اگر قادیانیوں اور مرزائیوں کی طرح کوئی شخص مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لئے یہ کلمہ پڑھتا ہے اور عقیدہ یہ رکھتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی ہے یا کوئی اور ہے اور سچے مسلمان ہم ہیں اور سب مسلمان ( جاوید چوہدری سمیت )” کنجریوں کی اولاد“،” کافر، بلکہ پکے کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں“توپاکستانی آئین کے مطابق ایسے لوگوں کو لگام دینے کے لئے قانون ضرور حرکت میں آئے گا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر یقین رکھنے والا کوئی مسلمان اسے ہرگز ہرگز برداشت نہیں کرسکتا۔
چوہدری صاحب! آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ روزے صرف مسلمان ہی نہیں رکھتے، بلکہ یہودی، عیسائی اور دوسرے مذاہب کے ماننے والے بھی اپنے اپنے انداز اور اپنے اپنے طریقے سے روزے رکھتے ہیں، اور آج تک کسی مسلمان نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔
اسی طرح مساجد میں غیر مسلم کا آنا، شریعت نے اس پر پابندی نہیں لگائی، بشرطیکہ ظاہری طور پر وہ پاک اور صاف ہوں، کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں کفار کے وفود مسجد نبوی میں ہی آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کیا کرتے تھے اور وہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ٹھہرایا کرتے تھے۔ باقی حدود حرم میں کسی کافر اور مشرک کے داخلے کی ممانعت، اس کا ذکر خود قرآن کریم نے کیا ہے کہ:
”انما المشرکون نجس فلا یقربوا المسجد الحرام بعد عامہم ہذا۔“ (التوبہ:۲۸)
ترجمہ:۔”مشرک جو ہیں سو پلید ہیں سو نزدیک نہ آنے پائیں مسجد الحرام کے اس برس کے بعد...“
جناب جاوید چوہدری صاحب نے قرآن کریم کی تعریف کرنے میں بہت بڑی غلطی کی، کہ ”قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان پر اتاری ہوئی ایک ایسی فائنل اتھارٹی ہے، جس نے انسان کے کروڑوں سال کے سماجی تجربے کو دستاویزی شکل دے دی۔“ حالانکہ قرآن کریم اللہ کا کلام ہے، اور اس کی تعریف اصول کی کتابوں میں یوں ہے:
”القرآن الکتاب المنزل علی الرسول المکتوب فی المصاحف المنقول عنہ نقلاً متواتراً بلاشبھة۔“ (نورالانوار،ص:۱۳،۱۴طبع مکتبہ رشیدیہ،کوئٹہ)
ترجمہ: ”قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی وہ کتاب ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئی اور جو مصاحف میں لکھی ہوئی ہے اور جو بغیر کسی شبہ کے متواتر طریقے سے نقل ہوتی آئی ہے۔“
۶:۔جناب جاوید صاحب! آپ نے ایک غلطی یہ کی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بجائے آپ نے لکھا کہ: قرآن مجید انسان پر اتاری ہوئی فائنل اتھارٹی ہے“۔ اس انسان سے آپ کی کیا مراد ہے؟ اگر کوئی مرزائی، بہائی، اور محمد شیخ جیسے مرتد و زندیق لوگ آپ کی اس تحریر کردہ قرآن مجید کی تعریف کو دیکھ کر اجرائے نبوت اور نزول وحی کا عقیدہ رکھیں اور کہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی پر وحی نازل ہوتی تھی، تو آپ ایسے ملحدین، مرتدین، زندیقوں اور کافروں کو کیسے روک سکتے ہیں؟ کیونکہ مرزاغلام احمدقادیانی لکھتا ہے:
”اورمیں جیساکہ قرآن شریف کی آیات پرایمان رکھتاہوں ،ایساہی بغیرفرق ایک ذرہ کے خداکی اس کھلی وحی پر ایمان لاتاہوں جومجھے ہوئی ،جس کی سچائی اس کے متواترنشانوں سے مجھ پر کھل گئی ہے اور میں بیت اللہ میں کھڑے ہوکریہ قسم کھاسکتاہوں کہ وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے ،وہ اسی خداکاکلام ہے،جس نے حضرت موسیٰ  اور حضرت عیسیٰ اور حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر اپناکلام نازل کیاتھا۔“ (ایک غلطی کاازالہ ص:۶،روحانی خزائن ،ص:۲۱۰ج:۱۸ )
اور محمد شیخ کہتا ہے کہ :
”جو شخص جس وقت قرآن پڑھتا ہے اس پر اس وقت قرآن کریم کا وہ حصہ نازل ہورہا ہوتا ہے اور جہاں قرآن مجید میں ”قل“ کہا گیا ہے، وہ اس انسان ہی کے لئے کہا جارہا ہے۔“ (آپ کے مسائل اور ان کا حل، ج:۹، ص:۲۹۷)
اب آپ فرمائیں کہ ایسے لوگوں کے بارہ میں آپ کا کیا فیصلہ ہوگا؟
۲:...پھر یہ کہنا کہ قرآن مجید: ”جس نے انسانوں کے کروڑوں سال کے سماجی تجربے کو دستاویزی شکل دے دی۔“ یہ کتنا غلط جملہ ہے۔ اس لئے کہ آپ کے ان الفاظ کے مطابق ثابت ہوگا کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام کلام ازلی اور قدیم نہیں جو حروف اور آواز سے پاک ہے، بلکہ کروڑوں سال کے انسانی تجربہ کا نام قرآن ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ نے محض دستاویزی شکل دے دی ہے۔ نعوذ باللّٰہ من ذلک۔
آسمانی کتابوں کے بارہ میں ایک مسلمان کا کیا عقیدہ ہونا چاہئے، اس کے لئے میدانی کی شرح عقیدہ طحاویہ، ص:۱۰۴ پر یہ عبارت ملاحظہ فرمائیں:
”والایمان المطلوب من المکلف ہو الایمان باللّٰہ وملائکتہ بانہا کلام اللّٰہ تعالیٰ الازلی القدیم المنزہ عن الحروف والاصوات وبانہ تعالیٰ انزلہا علی بعض رسلہ بالفاظ حادثة فی الواح او علی لسان ملک وبان جمیع ماتضمنتہ حق وصدق، ورسلہ بانہ ارسلہم الی الخلق لہدایتہم وتکمیل معاشہم ومعادہم وایدہم بالمعجزات الدالة علی صدقہم فبلغوا عنہ رسالتہ ...الخ“
ترجمہ: ”مکلف (یعنی جن و انس) سے جو ایمان مطلوب ہے، وہ یہ ہے کہ: اللہ پر ایمان لانا اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی تمام کتابوں پر، اس طرح ایمان لانا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام، کلام ازلی اور قدیم ہے، جو حروف اور آواز سے پاک ہے، اور نیز اللہ تعالیٰ نے اس کلام کو اپنے بعض رسولوں پر تختیوں میں حادث الفاظ کی صورت میں نازل کیا یا فرشتہ کی زبان پر اتارا اور نیز وہ تمام کا تمام کلام جس پر کتاب مشتمل ہے حق اور سچ ہے اور اللہ کے رسول جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی طرف ان کی ہدایت اور ان کی تکمیل معاش و معاد کے لئے بھیجا اور ان انبیاء کی ایسے معجزات سے تائید کی جو ان انبیاء کی سچائی پر دلالت کرتے ہیں، ان انبیاء نے اللہ کے پیغام کو پہنچایا۔“
قاضی عیاض کی شرح الشفاء ص:۳۳۵ میں ہے:
”واعلم ان من استخف بالقرآن او المصحف او بشیئی منہ او سبہ او جحدہ او حرف منہ او آیة او کذب بہ او بشیئی مما صرح بہ فیہ من حکم او خبر او اثبت ما نفاہ او نفی ما اثبتہ علی علم منہ بذلک او شک فی شیئی من ذلک فہو کافر عند اہل العلم باجماع۔“
ترجمہ: ”جان لیجئے کہ جس نے قرآن یا کسی مصحف یا قرآن کی کسی چیز کو ہلکا جانا یا قرآن کو گالی دی یا اس کے کسی حصہ کا انکار کیا یا کسی حرف کا انکار کیا یا قرآن کو جھٹلایا یا قرآن کے کسی ایسے حصہ کا انکار کیا جس میں کسی حکم یا خبر کی صراحت ہو یا کسی ایسے حکم یا خبر کو ثابت کیا جس کی قرآن نفی کررہا ہے یا کسی ایسی چیز کی جان بوجھ کر نفی کی جس کو قرآن نے ثابت کیا ہے یا قرآن کی کسی چیز میں شک کیا ہے تو ایسا آدمی بالاجماع، اہل علم کے نزدیک کافر ہے۔ “
جناب جاوید چوہدری صاحب! آپ اپنے ان الفاظ کی سنگینی اور غلطی کا اندازہ لگائیں کہ ان کا مفہوم اور معنی کیا بنتا ہے؟ اور بات کہاں تک پہنچ جاتی ہے؟۔
جناب کو معلوم ہونا چاہئے کہ قرآن کریم میں صرف یہ بیس اصول ہی نہیں، بلکہ قرآن کریم میں عقائد،عبادات، معاملات، اخلاق اور معاشرت کے علاوہ امرونہی، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر، گزشتہ کافر، مشرک اور مجرم قوموں کے لئے عذاب و وعید اور اللہ تعالیٰ کی بندگی اختیار کرنے والوں کے لئے بشارات اور جنت کے تذکرہ کے علاوہ اور بھی بہت کچھ موجود ہے۔
ہم آپ کی اس بات سے سو فیصداتفاق کرتے ہیں کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ عبادات کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کے مطابق زندگی گزاریں اور قرآن کریم پر پورا پورا عمل کریں تو انشاء اللہ ! اللہ تعالیٰ کی رضا اور مکمل خوشنودی حاصل ہوگی ۔
جناب جاوید چوہدری صاحب! آپ کا یہ کالم جس طرح اخبار کے صفحات پر چھپنے کے بعد تاریخ کا حصہ ہوگیا ہے، اسی طرح ایک اور کتاب بھی موجود ہے، جس میں ہر شخص کی دنیا کی تمام تر کارکردگی اور روئیداد محفوظ ہورہی ہے اور وہ کتاب قیامت کے دن ہر ایک کے سامنے کھول کر رکھ دی جائے گی اور کہا جائے گا کہ اپنی کارکردگی اور روئیداد خود ہی پڑھ کر سناؤ۔ کیا آپ یہ کالم لے کر کل قیامت کے دن اللہ کے حضور پیش ہوسکتے ہیں؟ اور کیا آپ وضاحت کرسکیں گے کہ میری مراد یہ نہیں تھی، بلکہ میرا مطلب اور میرا ارادہ اس کالم سے یہ تھا؟
اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن کریم اور سنت نبویہ کا صحیح فہم عطا فرمائیں اور قرآن و سنت کے مطابق ہمیں زندگی گزارنے کی توفیق عنایت فرمائیں۔
وصلی اللّٰہ تعالیٰ علی خیر خلقہ سیّدنا محمد وعلی آلہ واصحابہ اجمعین
اشاعت ۲۰۱۱ ماہنامہ بینات , رجب المرجب:۱۴۳۲ھ -جولائی: ۲۰۱۱ء, جلد 74, شمارہ