عمامہ باندھا محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی علامت ہے؟
احادیث کے مطالعہ سے معلوم ہوتاہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر پر عمامہ باندھا کرتے تھے،اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمامہ کا رنگ سیاہ تھا،کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر چادر بھی ہوتی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر کو ڈھانک لیا کرتے تھے، اسی طرح ٹوپی کا ذکر بھی احادیث میں موجود ہے نیز یہ کہ فخرِ موجودات صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو عمامہ باندھنے کا حکم فرمایااور عمامہ کو فرشتوں کی علامت قرار دیا ہے۔ حوالجات ملاحظہ ہوں ۔
﴿۱﴾
عَنْ عُبَادَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَیْکُمَ بِالْعَمَاءِمِ فَاِنَّھَا سِیْمَاءُ الْمَلَاءِکَۃِوَاَرْخُوْھَا خَلْفَ ظُھُوْرِکُمْٖٖ۔
( رواہ البیھقی فی شعب الایمان،رقم۱۳۴۱۸)
حضرت عبادہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم عمامہ (پگڑی) باندھنا ضروری سمجھوکیونکہ عمامہ فرشتوں کی علامت ہے اور عمامہ کے شملہ کو اپنی پشت پر چھوڑ دو۔
ملائکہ بھی اسی ہیئت سے آئے تھے، بایں طور کہ غزوۂ بدر کے موقع پر مسلمان ۳۱۳ نہتے تھے اور کفارہزار کی تعداد پر مشتمل ہتھیاروں سے لیس تھے ، تو رحمتِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے بارگاہِ ایزدی میں دیافرمائی۔اَللّٰہُمَّ اِنْ تُھْلِکْ ھٰذِہِ الْعِصَابَۃَمِنْ اَھْلِ الْاِسْلَامِ لَاتُعْبَدُ فِیْ الْاَرْضِ(مسلم،رقم : (1763
اے اللہ ا ن کو تونے مار دیا تو پھر تیرا نام لینے والا کوئی نہیں رہے گا۔ تو اللہ تعالی فرشتوں کے لشکر کو مدد کے لئے روانہ فرمایااور وہ فرشتے عمامہ باندھے ہوے تھے، جیساکہ ارشادِ باری تعالی ہے