﴿۴﴾
عَنْ عَبْدِ لرَّحْمٰنِ ابْنِ عَوْف قَالَ عَمَّمَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَدَلَھَا بَیْنَ یَدَیَّ وَمِنْ خَلْفِیْ۔ (مشکوۃ۔ رواہ ابو داوٗد)
حضرت عبد الرحمن ابن عوف ؓ کہتے ہیں کہ (ایک دن) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو عمامہ باندھا تو اس کا شملہ میرے آگے اور میرے پیچھے (دونوں طرف)لٹکایا۔’’ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پگڑی کے دونوں سروں کا شملہ چھوڑکر ایک کو سینہ پر اور دوسرے کو پیٹھ پر لٹکایا۔
معلوم ہونا چاہیے کہ عمامہ میں شملہ چھوڑنا افضل ہے لیکن دائمی طور پر نہیں ، چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں منقول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی تو شملہ چھوڑتے تھے اور کبھی نہیں چھوڑتے تھے ، اسی طرح بعض دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمامہ کا شملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن سے نیچے تک لٹکا رہتاتھا، اور بعض دفعہ ایسا ہوتاتھاکہ عمامہ کا ایک سراعمامہ ہی میں اڑس دیتے تھے اور دوسرا چھوڑ دیتے تھے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلمکے عمامہ کا شملہ اکثر اوقات میں پیٹھ پر پڑارہتاتھااور کبھی کبھی دائیں طرف لٹکالیتے تھے اور کبھی ایسا بھی ہوتا تھاعمامہ کے دونوں سروں کا شملہ چھوڑ کر دونوں کو دونوں مونڈھوں کے درمیان یعنی ایک کو سینہ پر اور دوسرے کو پیٹھ پر لٹکالیتے تھے، لیکن بائیں طرف لٹکانا چونکہ ثابت نہیں ہے،اور کنز میں لکھاہے کہ شملہ کو مونڈھوں کے درمیان چھوڑنامستحب ہے۔
شملہ کی لمبائی کم سے کم ایک بالشت اور زیادہ سے زیادہ ہاتھ بھر ہونی چاہئے ۔اس سے زائد لمبا شملہ چھوڑنابدعت ہے اور اس حکم کی خلاف ورزی ہے جس کے ذریعہ اسبال و اسراف سے منع کیاگیاہے چنانچہ مقررہ حد سے زائد لمبائی اگر غرور و تکبر کے طور پر ہوگی تو حرام شمار ہوگی