رہنمایانِ قوم کے ہاتھوں اسلامی تہذیب واقدارکی پامالی
رہنمایانِ قوم کے ہاتھوں اسلامی تہذیب واقدارکی پامالی

الحمدللّٰہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفیٰ
عام معاشرے میں دینی ماحول کافقدان،اسکولوں اورکالجوں میں دینی تربیت سے بے اعتنائی ،مخلوط تعلیم کی وبا،لڑکوں اورلڑکیوں کااختلاط،زیب وزینت کرکے تفریح گاہوں کی سیر،ٹی وی اورنیٹ کے روح فرسامناظرکارات دن مشغلہ،قدم قدم پرعریاں مناظراورحیاسوزمظاہر،یہ سب جدیدتہذیب کی برکات اورمخلوط تعلیم کے ثمرات ہیں۔
جدیدتہذیب کی انہیں’’برکات‘‘ اورمخلوط تعلیم کے انہیں’’ثمرات‘‘ سے فیض یاب ہوکر راہنمایانِ قوم وطن عزیزمیں اسلامی اقدارکوکس طرح مٹارہے ہیں؟اور اسلامی شعائر کی حرمت وناموس کو کس طرح پامال کررہے ہیں؟اس کا اندازہ اس خبرسے کیاجاسکتاہے کہ لاہورمیں ایک پرائیویٹ کالج کے میوزیکل کنسرٹ میں پاکستان کے مستقبل کے معماران کی ایک مخلوط ثقافتی تقریب منعقد ہوئی اور تقریب میں بھگدڑ کے نتیجے میں تین طالبات زندگی سے ہاتھ دھوبیٹھیں اورکئی طالبات زخمی ہوگئیں۔
جدیدنسل کی اس بے حیائی پرمشتمل واقعہ میں جوبے ہودگی ہوئی،جس طرح طالبات کی بے حرمتی کی گئی اوراس کے نتیجہ میں طالبات کی ہلاکتیں ہوئیں،اس نے سلیم الفطرت اور باحیامسلمانوں کے سرشرم سے جھکادئیے،اس لئے کہ کہنے کوہم مسلمان ہیں،لیکن ہمارے یہ اعمال اورہمارایہ کردارکافروں اور دھریوں سے بھی بدترہے۔
اسلام عفت،حیااور پاکدامنی کادرس دیتاہے۔اسلام بے غیرتی اوربے حیائی کوناپسند کرتا ہے،اسی بنا پراسلام مردوزن کے اختلاط کوہرسطح اور ہرموقع پرسختی سے منع کرتاہے،چاہے وہ گھرہویا بازار،چاہے اسکول،کالج،یونیورسٹی ہویاکوئی دینی یادنیوی اجتماع۔
یہ کیسے مسلمان ہیں جواپنی سادہ لوح مسلمان بہنوں،بیٹیوں اوراولادوں کوناچ گانے اور ڈانس پارٹیوں میں ناچنے اور تھرکنے پرمجبورکرتے ہیں؟اورانہیں ان مجالس اورپارٹیوں کے لئے دعوت گناہ دیتے ہیں؟۔اسی کاشاخسانہ ہے کہ ایک تعلیمی ادارہ کے تین طلبااورتین طالبات اپنے اسکول سے بھاگ کرپشاورکے ایک ہوٹل میں کئی دن گزارکرعدالت کے ذریعہ اپنے گھروں کوواپس ہوئے۔کیاکہاجائے کہ ان طلباوطالبات نے یہ’’راہ ‘‘اوریہ’’کردار‘‘کہاں سے سیکھا؟۔
اس بے حیائی پرکڑھتے ہوئے پنجاب اسمبلی میں ایک معززرکن اسمبلی محترمہ سیمل کامران صاحبہ نے تعلیمی اداروں میں ایسی فحش،نازیبااورحیاسوز تقریبات منعقدکرنے پرپابندی عائدکرنے کے لئے درج ذیل قرارداد پیش کی :
’’لاہور(ثنانیوز/امت نیوز)پنجاب اسمبلی نے سرکاری وغیرسرکاری تعلیمی اداروں میں میوزیکل کنسرٹ پرفی الفورپابندی عائدکرنے کی قرارداد متفقہ طور پر منظورکرلی،جس میں یہ مطالبہ کیاگیا ہے کہ پنجاب کے تمام سرکاری وغیرسرکاری تعلیمی اداروں میں قابل اعتراض میوزیکل کنسرٹس پرپابندی عائد کی جائے۔مسلم لیگ(ق)کی رکن سیمل کامران نے قراردادپیش کی کہ ایوان کی رائے ہے کہ صوبہ بھرکے تمام سرکاری وغیرسرکاری میوزیکل کنسرٹس پرفی الفورپابندی لگائی جائے۔ واضح رہے کہ گزشتہ دنوں ایک نجی تعلیمی ادارے کے میوزیکل شومیں بھگدڑمچ جانے کے باعث تین طالبات ہلاک ہوگئی تھیں۔صوبائی وزیرقانون راناثناء اللہ خان نے قراردادپربحث کرتے ہوئے کہا کہ نجی تعلیمی ادارے کے میوزیکل شومیں بھگدڑمچ جانے سے تین طالبات کی ہلاکت کی میڈیانے کسی کوکانوں کان خبرنہیں ہونے دی۔ اس کے بعد قرار دادمتفقہ طورپرمنظورکرلی گئی،تاہم قراردادکی منظوری کے بعدایک مخصوص ٹی وی چینل نے اس کے خلاف فوری طورپرمہم شروع کردی اورناچ گانے کے پروگراموں کوتعلیمی اداروں میں تفریح کے لئے ضروری قرار دے دیا۔ٹی وی کی اس مہم کے بعدپنجاب حکومت نے بھی اسمبلی میں متفقہ طورپر منظور قرار داد سے لاتعلقی ظاہرکردی،حالانکہ(ن) لیگ کے تمام ارکان بشمول صوبائی وزیر قانون نے اسمبلی میں اس کی حمایت کی تھی اور عوامی سطح پربھی اسے سراہا گیا تھا،کیوں کہ تعلیمی اداروں میں میوزیکل شوزکے بڑھتے ہوئے رجحان سے طلبا و طالبات کے اخلاق پربرے اثرات مرتب ہورہے ہیں اورراولپنڈی میں میٹرک کی تین طالبات اورتین طلباء کے بھاگ کرپشاورجانے کاواقعہ بھی پیش آچکا ہے، تاہم ایک مخصوص ٹی وی کی مہم سے متاثرپنجاب حکومت کے ترجمان نے اسمبلی قراردادسے لاتعلقی کااظہارکرتے ہوئے کہا کہ حکومت صوبے میں ہرقسم کی ثقافتی سرگرمیوں کی حمایت کرے گی‘‘۔
(روزنامہ امت، کراچی،یکم ربیع الاول ۱۴۳۳ھ/۲۵؍جنوری ۲۰۱۲ء)
اسکولوں اورکالجوں میں میوزیکل پروگرام پرپابندی سے متعلق پنجاب اسمبلی میں منظورکی جانے والی اس قراردادکاجہاں علمائے کرام نے خیرمقدم کیا،وہاں ان اسکولوں اورکالجوں میں زیرتعلیم طلباو طالبات کے والدین نے بھی اس پرخوشی کااظہارکیا۔
کتنے افسوس کی بات ہے کہ اس قراردادکی محرکہ محترمہ سیمل کامران صاحبہ جن کاتعلق اقلیتوں سے ہے،وہ تویہ کہتی ہیں کہ ناچ گاناکوئی فن وثقافت نہیں،اوراس قراردادپرمجھے فخرہے،لیکن ماشاء اللہ!’’مسلم‘‘لیگ(ن)اورپی پی کے’’مسلمان‘‘اراکین اسمبلی اس قراردادکے منظورہونے پر ’’شرمندہ‘‘ اور اس’’ملامت‘‘کواپنے سرسے اتارنے کے لئے سرگرداں اورپریشان نظرآتے ہیں۔ لیجئے!میوزیکل کنسرٹ پرپابندی کی اس قراردادکومنظور ہوئے ابھی دودن نہ گزرنے پائے تھے کہ پنجاب اسمبلی میں(ن)لیگ اورپی پی ارکان نے یکجہتی کامظاہرہ کرتے ہوئے یہ مؤقف اختیارکیا کہ تعلیمی اداروں میں ثقافتی سرگرمیوں کی اجازت ہونی چاہئے اوراسمبلی میں منظورکردہ قراردادکے برعکس دوسری قراردادلائی گئی کہ:
’’لاہور(ایجنسیاں)پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں حکومتی اوراپوزیشن اراکین نے سرکاری وغیرسرکاری تعلیمی اداروں میں قابل اعتراض میوزیکل کنسرٹ پرپابندی کی قرارردادپریوٹرن لے لیاہے۔دوروزپہلے متفقہ طورپرمنظورکردہ اپنی ہی قرارداد کے خلاف قراردادمنظورکرلی،جس میں سرکاری اورنجی تعلیمی اداروں میں غیرنصابی سرگرمیوں،ثقافتی،ملی اورادبی پروگراموں پرکسی بھی قسم کی پابندی نہ ہونے کی بات کی گئی ہے۔قراردادکثرت رائے سے منظورکی گئی۔(ن)لیگ کے رکن مولانا الیاس احمد چنیوٹی اورعبدالوحیدچوہدری نے قراردادپرتنقیدکی،جب کہ شیخ علاء الدین اپنی قراردادایجنڈے پرنہ آنے پرایوان سے واک آؤٹ کرگئے۔ان کی اسپیکرسے تلخ کلامی بھی ہوئی۔جمعرات کوپنجاب اسمبلی کے اجلاس میں قائدحزب اختلاف راجہ ریاض احمدنے قراردادپیش کی،جس میں کہاگیاہے کہ اس ایوان کی رائے ہے کہ سرکاری وغیرسرکاری تعلیمی اداروں میں غیرنصابی سرگرمیوں،ثقافتی،ملی اور ادبی پروگراموں پر کسی بھی قسم کی پابندی نہیں ہونی چاہئے۔جس پر (ن)لیگ کے رکن اسمبلی الیاس احمد چنیوٹی نے کہاکہ ثقافتی پروگراموں کی آڑمیں کسی کو بے حیائی کی اجازت نہیں دی جاسکتی اورقرآن میںیہ کہاگیاہے کہ گاناگانے والااور گانا سننے والا دونوں جہنمی ہوں گے۔قراردادکی منظوری سے پہلے یہ بتایا جائے کہ قرارداد میں جس ثقافت کاذکرکیاگیاہے ،وہ کون سی ثقافت ہے؟ ۔ عبدالوحیدچوہدری نے کہا کہ خدارا ثقافت کے نام پراسلام کی توہین اوربے حیائی کی اجازت نہ دی جائے۔ مولانا الیاس چنیوٹی صوبائی وزیرقانون کے پاس بھی گئے اوران سے اس حوالے سے کوئی بات کی ،جس کے بعدوہ ایوان سے باہرچلے گئے اورراناثناء اللہ خان نے اسپیکرسے کہاکہ قراردادانتہائی موزوں الفاظ میں پیش کی گئی ہے۔اس پررائے مانگی جائے۔ ایوان میں موجود صرف ایک رکن وحیدچوہدری نے قراردادکی مخالفت کی، جب کہ دیگرتمام ارکان اسمبلی نے قراردادکے حق میں رائے دی‘‘۔
(روزنامہ امت، کراچی،۳؍ربیع الاول۱۴۳۳ھ/۲۷؍جنوری ۲۰۱۲ء)
شایدان اراکین اسمبلی کویہ خدشہ اورڈرپیداہوگیاتھاکہ کہیں’’صاحب بہادر‘‘ہمیں بنیاد پرست ،دقیانوس اورپنجابی طالبان کی فہرست میں شامل کرکے راندہ درگاہ نہ کردے،اس لئے اپنی روشن خیالی کاثبوت دیتے ہوئے ان اراکین اسمبلی نے پہلی قرارداد کے برعکس دوسری قرارداد منظورکی۔
ایک غیرجانبدارآدمی پنجاب اسمبلی کے اس عمل سے کیا یہ نتیجہ اخذنہیں کرے گا کہ صوبہ پنجاب پاکستان کاایساصوبہ ہے جس نے ناچ،گانا،فحاشی،عریانی اور رقص وسرودکونہ صرف یہ کہ سندجوازعطاکی ہے؟بلکہ اس عمل میں چاہے اموات بھی ہوجائیں،وہ بھی انہیں قابل تحمل اورقابل برداشت ہیں؟ اور اگر ان بے حیائی کے پروگراموں اوربے شرمی کے مناظرکے نتیجے میں مسلم طلباوطالبات بے راہ روی اوربے غیرتی کاشکار ہوتے ہیں تووہ بھی ان کی عقل اورفہم رساکوقابل قبول ہیں؟نعوذباللّٰہ من ذلک۔ روزنامہ نوائے وقت کے مدیرنے بجاطورپراپنے اداریہ میںیہ بات لکھی ہے کہ:
’’راجہ ریاض نے مستقبل کی قیادت کو’’کنجروں‘‘کے رنگ میں رنگنے کابل منظورکرواکر نہ جانے کس کی خدمت کی ہے؟اورحکومتی ارکان وحیدچوہدری اورمولاناالیاس چنیوٹی نے ثقافتی بل کی مخالفت کرکے لاکھوں شہداء کی قربانیوں کی لاج رکھی ہے، کیونکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کو بناتے وقت ہمارے اکابرین نے ہندوانہ ثقافت کودریابرد کرکے اسلام کابول بالا کیا تھا ، ہماری موجودہ اسمبلی کوگاندھی کے اصولوں کی پیروی کوترک کرکے قائداعظمؒ اورعلامہ اقبالؒ کے خوابوں کے مطابق پاکستان کوچلانا چاہئے ‘‘۔
(روزنامہ نوائے وقت،کراچی،۴؍ربیع الاول۱۴۳۳ھ/۲۸ جنوری ۲۰۱۲ء)
محدث العصرحضرت علامہ سیدمحمدیوسف بنوری قدس سرہ’’ثقافت‘‘کے معنی ومفہوم پربحث کرتے ہوئے رقم طرازہیں: ’’اسلامی لغت’’ثقافت‘‘کے لفظ سے ناآشناہے۔قرآن کریم ،حدیث نبوی اور دیگراسلامی ذخائر میں یہ لفظ کہیں نہیں ملتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعثت کامقصدمکارمِ اخلاق کی تکمیل قراردیا،مگر یہ کہیں نہیں فرمایاکہ میں ’’ ثقافت‘‘ کی تعلیم کے لئے آیاہوں۔
دراصل انگریزی میں کلچرکالفظ تہذیب وتمدن اوراسلوب زندگی کے معنی میں رائج تھا۔ہمارے عرب ادبا نے اس کا ترجمہ’’ثقافت‘‘سے کرڈالااور جب سے یہ لفظ مسلمانوں میں کثرت سے استعمال ہونے لگا،مگریہ مہمل لفظ آج تک شرمندۂ مفہوم ومعنی نہیں ہوا۔ ہرشخص نے اپنے ذوق کے مطابق اس کامفہوم متعین کرنے کی کوشش کی اورآج کل عموماً اسے رقص وسرود،ناچ رنگ اورفحاشی اور عیاشی کے مناظرکے لئے استعمال کیاجاتاہے،خیرکچھ بھی ہو،کہنے کی بات یہ ہے کہ اس اسلامی ملک میں ان علاقائی ثقافتوں کی ترویج ونمائش اورحوصلہ افزائی کاکیا مقصدہے؟’’سندھی ثقافت ‘‘آخرکیابلاہے؟اس سے مراد محمدبن قاسمؒ کی ثقافت ہے یاراجہ داہرکی؟’’ پنجابی ثقافت‘‘کیاچیزہے؟کیاراجہ رنجیت سنگھ کی ثقافت کا احیاء مقصودہے؟ ’’سندھی‘‘ایک مسلمان بھی ہوسکتاہے اورکافربھی،’’پنجابی‘‘ایک مومن بھی ہوسکتا ہے اورایک سکھ بھی،’’ بلوچی‘‘ بھی ایک مسلم بھی ہوسکتاہے اورایک یہودی بھی۔ جب آپ سندھی ،پنجابی اوربلوچی ثقافتوں کی نمائش کریں گے تو وہ ایک مسلم وکافر کی مشترکہ میراث ہوگی۔سوال یہ ہے کہ ایک مسلمان کوبحیثیت مسلمان کے اس میں کیا دلچسپی ہے؟کیاپاکستان انہی چیزوں کونمایاں کرنے کے لئے بنایاگیا،جن میں دنیابھرکے کافروں کی تسلی کاسامان توہو،مگراسلام اور مسلمانوں کوان سے کوئی واسطہ نہ ہو؟۔ اگریہ ایک اسلامی ملک ہے اوریہاں کے شہری مسلمان ہیں توان سب کے لئے ایک ہی ثقافت ہوسکتی ہے۔قرآن حکیم کی تعلیمات اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوۂ حسنہ۔عقل وایمان کایہ کیسا المیہ ہے کہ اسلام،اسلامی تعلیمات اور اسوۂ نبوی کی کسی کوفکرنہیں،مسلمانوں کے اخلاق ومعاشرت کی اصلاح کی طرف کسی کوتوجہ نہیں اورزندہ کیاجارہاہے تو ان تہذیبوں کو؟اس کے لئے ہزاروں لاکھوں روپیہ اس مفلس ملک اوربے بس قوم کاصرف کیاجارہاہے۔اوریہ بات بھی شاید ہمارے اربابِ حل وعقدکے سواکسی کی عقل میں نہیںآئے گی کہ ایک طرف توزبانی جمع خرچ کے طورپرچاروں صوبوں کے درمیان اتفاق و اتحاد کی ضرورت پرزوردیاجاتا ہے ۔علاقائی عصبیت پھیلانے والوں کوملک وملت اورقوم ووطن کے غدارکے خطاب سے نوازاجاتاہے، اور دوسری طرف ہزاروں روپیہ خرچ کرکے علاقائی ثقافتوں کوابھارکرعلاقائی عصبیت کی چنگاری کوہوادی جاتی ہے، ان سندھی،پنجابی،پٹھانی،بلوچی ثقافتوں کوجب اچھالاجائے گاتواس کا نتیجہ اس کے سواکیاہوگاکہ لوگوں میں سندھیت اور پنجابیت،پشتونیت اوربلوچیت کا احساس ابھرے گا،صوبوں کے درمیان منافست اورمنافرت بیدارہوگی اور علاقائی عصبیت کابھوت عریاں رقص کرنے لگے گا۔ ایک وطن ،ایک قوم،ایک ملت اور ایک مقصدکااحساس اگرکسی کے گوشۂ قلب میں موجودہوتووہ بھی دب کررہ جائے گا،کہیں یہ ثقافتی میلے،یہ علاقائی ناچ رنگ کی نمائش ،ملک کے مزیدحصے بخرے کرنے کی سازش تونہیں؟کیا یہ مسلمانوں میں مزیدجنگ وجدال برپاکرنے کی تمہیدتونہیں؟۔
ان علاقائی ثقافتی میلوں کاایک اوردردناک پہلو بھی نہایت اہم ہے، اس وقت پورا ملک ہوشربا گرانی اورقلتِ رسدکی لپیٹ میں ہے،پنجاب، سرحد اور بلوچستان کے بعض علاقوں میں قحط کے سے آثارنمودارہورہے ہیں،لوگوں کی ستر پوشی کے لئے کپڑااورجسم وجان کارشتہ قائم رکھنے کے قوت لایموت کاحصول بھی مشکل ہورہا ہے،خشک سالی نے آئندہ فصل کے لئے بھی بیم وخوف کی شکل پیدا کردی ہے،بجلی اورپانی کی قلت سے زمین بنجراورکھڑی فصلیں خشک ہورہی ہیں، حالات کے دباؤ نے لوگوں میں اندیشہ ہائے دوردرازپیداکردیئے ہیں،ہرشخص فکرمندنظرآتا ہے ۔
اگرکسی کے دل میں رحم وانصاف کی کوئی رمق ہوتواسے سوچناچاہئے کہ ان سنگین حالات میںیہ ملک ان ثقافتی عیاشیوں کامتحمل ہے؟ان حالات میں توبہ و استغفار اورانابت الی اللہ کی ضرورت ہے یا ان مختلف علاقوں کے ناچ رنگ کے ڈراموں کی؟‘
بصائروعبر،ج:۲،ص:۳۹۷تا۳۹۹)
روزنامہ نوائے وقت کے کالم نگارجناب غلام اکبرصاحب نے اپنے کالم’’حملہ ہو چکا ہے‘‘میں اپنے زمانۂ تعلیمی میں پیش آمدہ اپنے استاذکاایک نصیحت آموزواقعہ تحریرکرنے سمیت جو کچھ لکھاہے،وہ دینی طبقہ کے دل کی آوازہے۔قارئین بینات کے افادہ کے لئے اُسے یہاں نقل کیاجاتاہے:
’’یہ ۱۹۵۹ء کی بات ہے ۔میں انگریزی ادب میںآنرزکررہاتھا۔ سندھ یونیورسٹی میں ہمارے ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ پروفیسرجمیل واسطی مرحوم تھے، جو پنجاب سے ریٹائرمنٹ کے بعد کنٹریکٹ پرحیدرآبادآئے تھے۔
ہماری کلاس میں تقریباً بیس سٹوڈنٹ تھے۔ان میں چھ کے قریب طالبات تھیں۔ اس زمانہ میں طالبات انگریزی ادب فیشن کے طورپرپڑھاکرتی تھیں۔ ہماری کلاس نے پکنک کاایک پروگرام بنایا، لیکن اس پراختلاف ہوگیا کہ لڑکیاں اور لڑکے اکٹھے پکنک منانے جائیںیاالگ الگ؟۔ یہ معاملہ پروفیسر جمیل واسطی کے علم میں آیاتو انہوں نے رائے دی کہ الگ الگ پکنک کرنازیادہ مناسب ہوگا۔
مگریہاں تومخلوط تعلیم ہے واسطی صاحب!ایک لڑکی نے اٹھ کراحتجاج بھری آواز میں کہا۔ میں نے کب کہاکہ میں مخلوط تعلیم کاحامی ہوں؟واسطی مرحوم بولے۔سر!یہ کیسی بات کررہے ہیںآپ؟ زمانہ بہت ترقی کرچکاہے۔وہ لڑکی بولی۔واسطی صاحب نے گھوم کرلڑکی کی طرف دیکھا جو ایک معروف متمول اور فیشن ایبل خاندان سے تعلق رکھتی تھی۔پھرانہوں نے میری طرف دیکھااورکہا:غلام اکبر!تمہاری جیب میں ایک چونّی ہوگی؟اس عجیب وغریب سوال پر میں چونک پڑا اورجلدی سے جیب میں ہاتھ ڈالا۔ واسطی صاحب فوراً ہی بولے:دروازے سے باہرجاکرچونی کاریڈارمیں رکھ دو۔پوری کلاس حیرت زدہ تھی،میں بھی حیرت زدہ ہوکر دروازے کی طرف مڑا،تو واسطی صاحب بولے:سمجھ لوکہ تم چونّی کلاس کے باہررکھ چکے ہو،اب بیٹھ چکے ہو۔پھرواسطی صاحب اس لڑکی کی طرف مڑے اور بولے: جب ہم کلاس ختم کرکے باہرنکلیں گے تو کیا وہ چونی وہاں موجودہوگی؟لڑکی بدحواس سی ہوگئی،پھرسنبھل کربولی:ہوسکتاہے کہ اگر کسی کی نظرپڑے تواٹھالے۔ اس جواب پرواسطی صاحب مسکرائے اورسب سے مخاطب ہوکر بولے :دیکھ لیں کہ جن لوگوں پرایک چونّی کے معاملے پربھروسہ نہیں کیاجاسکتا،وہ لڑکیوں کے معاملے میں کس قدرشریف ہیں؟ حالانکہ چونّی بچاری تولپ سٹک بھی نہیں لگاتی!!۔ واسطی صاحب کی اس بات پرپوری کلاس کوسانپ ساسونگھ گیا۔میںآج تک وہ بات نہیں بھولا،اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں دقیانوسی سوچ رکھتاہوںیا واسطی صاحب بہت زیادہ قدامت پسنداوردقیانوسی سوچ کے حامل تھے،لیکن کیا اس بات میں کچھ سچ ایسے نہیں چھپے ہوئے جن کاتعلق براہ راست انسان کی فطرت اوران جبلتوں سے ہے جنہیں سدھایااورسدھارانہ جائے توان کی رو میں تہذیب وتمدن کے تمام تقاضے بہہ جایاکرتے ہیں؟۔
جب ہم اقدارکی بات کرتے ہیں تو ظاہر ہے کہ اپنی شناخت کے حوالے سے کرتے ہیں اورجب ہم شناخت کی بات کرتے ہیں تولبرل سے لبرل مسلمان کے لئے بھی یہ کہنامشکل ہوتاہے کہ اگرچہ اس کانام مسلمانوں جیساہے،لیکن درحقیقت وہ مسلمان نہیں ہے۔یہاں یہ سوال پیداہوتاہے کہ مسلمان ہونے کے لئے بنیادی شرط کیاہے؟ہم مسلمان اس لئے ہیں کہ ۶۱۰ء میںآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پروحی کا نزول شروع ہوا،جوانیس برس سے زیادہ عرصے تک جاری رہا۔ہماراعقیدہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے آخری رسول ہیں،اور ان پرنازل ہونے والا قرآن اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہدایت ہے۔ ہم اس کتاب ہدایت پر مکمل ایمان رکھے بغیرخودکومسلمان ہرگزقرار نہیں دے سکتے اوریہ بات بھی ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے کہ ہمیں اپنی زندگی کوخدا کی بھیجی ہوئی آخری کتاب ہدایت میں عائد کردہ پابندیوں اورواضح کردہ قوانین وضوابط کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔ یہ بات ثقافت کی ہوتی ہے توبحیثیت مسلمان ہم پرلازم ہے کہ ہم اسے یعنی اپنی ثقافت کوحکم الٰہی کی کسوٹی پردیانت داری سے پرکھیں اورجن باتوں سے اللہ تعالیٰ نے واضح اورغیرمبہم الفاظ میں ہمیں منع کیاہے،ان سے احترازکریں اور انہیں اپنی ثقافت کاحصہ نہ بننے دیں۔
میںیہاں روایات کی پابندی کی بات نہیں کررہا،نہ ہی میں دین کے پرچم برداروں کے فتووں کی بات کررہاہوں،جوقرآن حکیم میں صادرفرمائے گئے ہیں،ان احکامات کی نفی یاان سے دانستہ طورپر احتراز،فراریاانکارہمیں خداکے نافرمانوں اورباغیوں کی فہرست میں شامل کردے گا۔
بات یہاں میوزیکل کنسرٹس کے حوالے سے شروع ہوئی تھی،تو ہمیں پوری دیانت داری کے ساتھ اپنے آپ سے پوچھناہوگاکہ ان کنسرٹس کے ذریعہ جومعاشرتی اور اخلاقی رجحانات فروغ پارہے ہیں،جن رویوں اورجس لباس کو شرف قبولیت عطا کیاگیاہے،کیاوہ قرآن میں واضح طورپرمتعین کردہ ’’ضوابط‘‘ سے مطابقت رکھتے ہیں؟کیاان میوزیکل کنسرٹس میں پیش کیاجانے والاکلچراوران سے لطف اندوز ہونے والے اجتماعات کے طورطریقے کسی بھی لحاظ سے’’نام لیوانِ محمد‘‘کے شایانِ شان ہیں؟۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اب بات مخلوط تعلیم تک محدودنہیں رہی۔مخلوط معاشرت تک پہنچ کراس سے بھی آگے نکلتی جارہی ہے۔گزشتہ دنوں راولپنڈی کے ایک سکول کی تین طالبات اورتین طلبہ کے غائب ہوجانے اورپھرپشاورکے ایک ہوٹل سے برآمدکئے جانے کاواقعہ ہمارے ذہنوں میں اگرنئی نسل میں پروان چڑھنے والے خطرناک رجحانات کے بارے میں تشویش ناک سوالات نہیں ابھار رہاتومیں یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوں گاکہ ہم مغرب کی اخلاق باختگی کوثقافت کے نام پراپنے معاشرتی رویوں میں شامل کرکے اپنی اُس’’شناخت‘‘سے غداری کر رہے ہیں، جس کی جڑیں احکاماتِ خداوندی میں ہیں۔ تفریح کی ضرورت سے کسی کوانکارنہیں،لیکن رویوں کی حدبندی بہرحال ہونی چاہئے۔اگر رقص موسیقی کاحصہ ہے تو’’اعضاء کی شاعری‘‘کوکس حدتک آگے جانا چاہئے۔فن کہاں ختم ہوتاہے؟اور ترغیب کہاں سے شروع ہوتی ہے؟ اس کاتعین بھی لازمی ہے۔چندبرس قبل جولباس شریف گھرانوں میں داخل نہیں ہوسکتاتھا،وہ آج کی ’’شریف زادیاں‘‘بڑے افتخاراوربڑی شان کے ساتھ پہن رہی ہیں۔
میں اسے ثقافتی حملہ کہوں گا۔حملہ آورکون ہے؟اس سوال کاجواب دینا یہاں میرا کام نہیں،لیکن حملہ ہورہاہے،بلکہ ہوچکاہے اوراس حملہ میں ہمارے بعض ٹی وی چینل بڑابھرپورکردارادا کررہے ہیں۔
جب حملہ ہوتاہے تومدافعت بھی جنم لیتی ہے اورمجھے یوں لگ رہاہے کہ وہ وقت دور نہیں جب اپنی ’’اسلامی شناخت‘‘پرفخرکرنیوالے لوگ اس حملے کے خلاف صف بند ہوجانے پرمجبورہوجائیں گے‘‘ ۔
(روزنامہ نوائے وقت،کراچی،۴؍ربیع الاول ۱۴۳۳ھ/۲۸؍جنوری ۲۰۱۲)
ہمارامطالبہ ہے کہ تمام سرکاری وغیرسرکاری اداروں اسکول،کالج اوریونیورسٹیوں میں ہرقسم کا ناچ،گانااورمیوزیکل پروگراموں پرپابندی لگائی جائے۔اس مخلوط تعلیمی نظام کوبدلاجائے،تعلیمی اداروں سے ہرقسم کی بے پردگی،بے حیائی اوربے ہودگی کاقلع قمع کیاجائے اوراس کے تمام ذرائع و اسباب کوچن چن کرختم کیاجائے۔
ا س کے ساتھ ساتھ پاکستانی عوام کوبھی چاہئے کہ اپنے اپنے حلقۂ انتخاب میں ایسے لوگوں کو آئندہ الیکشن میں بالکل مستردکردیں،جوایوانوں میں بیٹھ کراسلام،اسلامی تہذیب واخلاق،اسلامی اقداروشعاراور نظریۂ پاکستان کی تضحیک وتذلیل اورانہیں پامال کرنے اورمٹانے کاموجب اورذریعہ بنتے ہیں۔إن أریدإلاالاصلاح ماستطعت،وماتوفیقی إلاباللّٰہ۔
وصلی اللّٰہ تعالیٰ علی خیرخلقہ سیدنامحمدوعلیٰ اٰلہ وصحبہ أجمعین۔
اشاعت ۲۰١۲ ماہنامہ بینات , ربیع الثانی ۱۴۳۳ھ - مارچ۲۰١۲ء, جلد 75, شمارہ