حج۔۔۔۔۔ مظہر عشق و زندگی
حج...مظہر عشق وبندگی
الحمد ﷲ وسلام علی عبادہ الذین اصطفی ، أمّا بعد :
’’وأذّن فی الناس بالحج یأتوک رجالا وعلی کل ضامر یأتین من کل فج عمیق‘‘۔ (الحج:۲۷)
حضرت ابراہیم خلیل علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بحکمِ الٰہی جو صدا لگائی ،اُسے اللہ تعالیٰ نے قیامت تک آنے والے مسلمانوں کے لئے بندگی ،عبادت اوراللہ تعالیٰ سے اپنی والہانہ عقیدت ومحبت کے اظہارکاایک منفرداورمخصوص طریقہ طے کر دیا،جسے حج کہتے ہیں۔
حج کیا ہے ؟اُس کے افعال وارکان کی حکمت وفلسفہ کیا ہے ؟اس کی حقیقت ومعقولیت کا نقطہ کیا ہے ؟صوفیاء کرام نے سفر حج کو سفر عشق اور ارکانِ حج کو عاشقانہ وارفتگی سے تشبیہ دے کر یہ حکمت وحقیقت سمجھانے کی کوشش کی ہے ۔جس طرح عاشقِ زار کے افعال واعمال میں ظاہری معقولیت دیکھنا اور بتانا مشکل ہوتا ہے، اسی طرح افعالِ حج کے ظاہری افعال کی حکمت ومعقولیت سمجھنے اور سمجھانے میں بھی دشواری پیش آسکتی ہے ۔فریضۂ حج کے ظاہری افعال واعمال کی حقیقت ومعقولیت کا ادراک کرنے کے لئے عقل سلیم ،فطرتِ سلیمہ اور عشقِ حقیقی کا جذبۂ صادق بنیادی شرط ہے ،چنانچہ حاجی اپنے آپ اوراپنے حلیہ ولباس کوفراموش کرکے اور راہ کی مشقتوں ، صعوبتوں کوبھلاکر اپنے پروردگارمحبوبِ حقیقی کی یاد اور ذکر کے ساتھ زیارت وملاقات کے جذبات سے لبریز ہوکر والہانہ وار اُس کے دَر پر حاضری دینے کے لیے بڑھتا چلا جاتا ہے ، اوراپنے تمام ترحسیات اور قلبی کیفیات کے ساتھ مرکز تجلیات بیت اللہ پہنچ جاتا ہے،پھر مکہ سے منیٰ کارُخ کرتا ہے،اور پھر منیٰ سے عرفات جاتا ہے،عرفات سے پھر مزدلفہ آتا ہے اوروہاں سے پھر واپس منیٰ آجاتا ہے۔
یہ آمدورفت ،یہ سرگرداں ہونا ، ہر ہر جگہ جاکر اُس ایک خدائے وحدہٗ لا شریک کو پکارنا ، اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں پر نادم ہونااوراُسے منانے کے لئے رونادھونا کہ کسی طرح اپنے محبوبِ حقیقی کو پالے۔ بظاہر اللہ ہمیں اس دنیا میں نظر تونہیں آسکتا ،لیکن اُس کے احکامات کی روشنی میں اُس کی عبادت کرکے اُسے پایا تو جاسکتا ہے ۔ اُس نے ہمیں راستے اور طریقے بھی خود بتادیئے ، ابھی وہاں آؤ اوراس طرح عبادت کرکے مجھے پالو،اور یہ سب کچھ کرنا اسی طریقے سے ہے جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔اب حج کے ان سارے ارکان کو عام دنیوی سوچ اور عقل سے دیکھا جائے تو عجیب سا لگے گا، لیکن یہی اصل حقیقت ہے کہ:
میانِ عاشق و معشوق رمزیست
کراماً کاتبین را ہم خبر نیست
اس شعر سے حج کے فلسفہ کو سمجھا جاسکتا ہے ، جو اس رمز کو پالیتا ہے وہی کامیاب ہوجاتا ہے ۔ دور سے دیکھنے والوں کو یہ کبھی سمجھ میں نہیں آسکتا ۔کراماً کاتبین سے اس شعر میں فرشتے مراد نہیں ہیں، بلکہ اس سے مراد اُس عاشقانہ کیفیت سے نا آشنا لوگ ہیں ، جب تک وہ اس جذبے کے اندر نہ اُتریں وہ اس کو کبھی نہیں سمجھ سکتے ۔جب وہ اس عشق حقیقی کے اندر ڈوب جائیں گے تبھی ان کو پتہ چل سکے گا:
أمر علی الدیار دیار لیلی……… أقبل ذا الجدار وذا الجدارا
وما حب الدیار شغفن قلبی …….. ولکن حب من سکن الدیارا
معشوق کے گھر یعنی خدا اور اس کے راستے سے گذرنے کی بھی ایک راحت اور فضیلت ہے ۔ شاعر نے یہی جذبہ اس شعر میں پیش کیا ہے ، معشوق کے در ودیوارسے اپنی عقیدت ومحبت کا اظہار اور ساتھ ساتھ در و دیوار کی حقیقت کو بھی بیان کیاکہ معشوق کے بغیر اُن کی بذات خود کوئی حیثیت نہیں ہے،جیسے حضرت عمرؓ نے حجر اسود کو خطاب کرکے کہا کہ: اے پتھر! میں جانتا ہوں تیری حقیقت کچھ نہیں ہے ، اگر میں نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے کبھی بوسہ نہ دیتا۔ان جگہوں کی وقعت اور حیثیت ان افضل اور مقدس ترین ہستیوں کی وجہ سے ہوئی جو یہاں آئے اور یہاں سے گذرے۔
حج کا جو قافلہ ہوتا ہے یہ عُشاق کا ٹولہ ہوتا ہے ، اس کارواں میں بعض حقیقی عاشق ہوتے ہیں اور بعض ظاہری ، اسی وجہ سے نوازنے کے اعتبار سے فرق بھی ہوتا ہے ، کسی کو خدا ملتا ہے اور کوئی وقت گذاری کرکے خالی ہاتھوں لوٹ جاتا ہے اور اس کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ۔جو شخص حج کو اس کی حقیقی روح اور مقصد کے ساتھ ادا کرتا ہے تو گویا وہ خدا کو پالیتا ہے ، اُس کی زندگی کی کایا پلٹ جاتی ہے، اور جس کو خدا نہیں ملتا وہ تہی داماں ہوکر واپس آتا ہے ،اور جوپالیتا ہے تووہ گویا معصوم نومولود بچے کی طرح ہوجاتا ہے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
عن ابی ہریرۃ رضی اللّٰہ عنہ قال :قال رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم:مَنْ حَجَّ ﷲ فلم یرفث ولم یفسق رجع کیومٍ ولدتہ اُمُّہ۔ (بخاری،ج:۱،ص:۴۱۳،باب فضل الحج المبرور،طبع: الطاف سنز)
ترجمہ : ’’حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جس نے محض اللہ کی رضا کے لئے حج کیا اور اس حج میں گالم گلوچ نہ کی اور نہ ہی گناہ وفسق وفجور کیا تو وہ (حج کے بعدگناہوں سے پاک صاف ہوکر)ایسے واپس لوٹتا ہے، جیسے آج ہی کے دن اس کی ماں نے اُسے جنا ہو‘‘۔
جیسے رات کے آخری وقت میں اُٹھ کر مانگناہے ۔نیک ،عبادت گذار ،تہجد گذار لوگ رات کے آخری وقت میں اٹھ کر اللہ سے مانگتے ہیں، کیونکہ اس وقت اللہ نے خود کہا ہے: میں اس وقت آسمانِ دنیا پرموجود ہوتا ہوں ،قریب ہوتا ہوں ۔اس لئے بندہ جاکر اللہ سے مانگتا ہے، توایسے ہی حج کے اندر اللہ نے کہا کہ:میں اس دن فلاں وقت عرفات میں موجود ہوں گا ،اور اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف کروں گا۔عاشق حقیقی کویقین ہوتا ہے کہ:اللہ نے کہا ہے کہ عرفہ کے دن میں میدانِ عرفات میں موجود ہوں گا ،چنانچہ حاجی مسجد حرام (جس کی اتنی فضیلت ہے کہ وہاں ادا کی جانے والی ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نمازکے برابر ہے)کی بجائے وہاں پہنچ جاتاہے۔ حدیث میں آتا ہے، حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’عرفہ کے دن اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور پھر فرشتوں کے سامنے حاجیوں پر فخر کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ذرا میرے بندوں کی طرف تو دیکھو! یہ میرے پاس پراگندہ بال ،گرد آلود اور لبیک وذکر کے ساتھ آوازیں بلند کرتے ہوئے دور دور سے آئے ہیں ،میں تمہیں اس بات پر گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اُنہیں بخش دیا ۔یہ سن کر فرشتے کہتے ہیں کہ پروردگار ! ان میں فلاں شخص وہ بھی ہے جس کی طر ف گناہ کی نسبت کی جاتی ہے اورفلاں شخص اور فلاں عورت وہ بھی ہے جو گناہ گار ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے اُنہیں بھی بخش دیا ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ایسا کوئی دن نہیں ہے جس میں یوم عرفہ کے برابر لوگوں کو آگ سے نجات کا پروانہ عطا کیا جاتا ہو‘‘۔
پھر اللہ نے جب حکم دیا کہ عرفات سے مزدلفہ آجاؤ،اب تم مجھے وہاں پاؤگے تو پھر سب وہاں پہنچ گئے، پھر اس کے بعد دوبارہ منیٰ واپسی کا حکم دیا کہ اب وہاں کچھ راتیں گذارو۔منیٰ ’’ أمنیات‘‘ (امیدوں) سے ہے ،منیٰ میں موجود رہ کر اللہ کو مناتے رہو ، اللہ سے امیدیں باندھو ۔ منیٰ کا قیام ہمارے لیے ترغیب اور تربیت ہے ،دنیا کے ساتھ اپنی تمنائیں اور امیدیں نہ باندھے ،دنیا میں اپنی خواہشات کو نہ ڈھونڈھے ،غیر اللہ کے ساتھ امیدیں نہ باندھے ، بلکہ صرف ایک ذات کو اپنی امید کا مرکزومحور بنالے، اُس ایک ذات سے مانگے اور دعائیں کرتا رہے اورمنیٰ میں رہ کر شیطان کو دھتکارتا رہے اورمارتا رہے۔ایک طرف اللہ نے منیٰ میں عبادات اور دعاؤں کا حکم دیا، اس کے ساتھ ہی شیطان کو جاکرکنکریاں مارنے کا حکم بھی دیا۔اگر ان ارکان کو اُن کی صحیح روح اور حقیقت کے ساتھ ادا کیا جائے تو اس کا بہت گہرا اثر انسان کی زندگی پر پڑتا ہے،اور پھر ساری زندگی ان شاء اللہ! اسی طرح وہ شیطان کو دھتکارتا رہے گا اور اللہ سے مانگتا رہے گا۔
یہ ایک عام خیال ہے کہ بس توفیق مل گئی، یہی اصل ہے۔اسی طرح کہتے ہیں کہ’’بلاواتو نصیب والوں کاہوتاہے‘‘اب وہ صاحب نصیب توفیق ملنے کے بعد یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ اب میں یہاں آگیا ہوں ،جیسے چاہے وقت گذاروں، سب قبول ہے۔توفیق یا نصیب کا مل جانا یہ یقیناًسعادت مندی کی علامت ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ احتیاط اور ڈر بھی ضروری ہے ۔اگرقدر دانی اور شکرِ نعمت ہوگا تو اس توفیق میں مزید اضافہ بھی ہوگا۔ بعض بزرگوں کے بارے میں سنا گیا ،وہ فرمایا کرتے تھے کہ: حج سے ڈرنا چاہئے ۔حج سے اس لئے ڈرنا چاہئے کہ اگر آپ حج اس مقصد اور مطلوبہ کیفیت کے ساتھ نہیں کررہے تو وہ نجات کا ذریعہ بننے کی بجائے سوہانِ روح اور وبالِ جان بن جاتا ہے۔ جو شخص محض شہرت، تفریح ، نام وری ، ریاکاری اور دکھلاوے کی غرض سے حج کرے گا تو وہ کہاں سے خدا کو پاسکے گا؟!۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ میری امت کے مال دار سیر وتفریح کے لئے حج کریں گے اور بیچ کے درجہ کے لوگ تجارت کے لئے کریں گے ۔اُن کے علماء اور پڑھے لکھے ریا ، شہرت اور نام وری کے لئے کریں گے اور غریب لوگ سوال (مانگنے) کے لئے کریں گے‘‘۔ (القری :ص۳۱)
حج کیفیات کے ساتھ ہے ، اس لئے دورانِ حج مقصد اور کیفیات کا احساس بار بار ہونا چاہئے،اس کی فکرکرنی چاہئے ، لوگ بھول جاتے ہیں ۔ شیطان تو ہر وقت انسان کے ساتھ لگا ہوا ہے ، وہ اُسے گمراہ کرنے سے کبھی غافل نہیں رہتا۔لوگ سمجھتے ہیں کہ بس بلاوا آگیا ،توفیق مل گئی تو خوش ہوگئے کہ اب میں یہاں پہنچ گیا ہوں ، اب جو کروں جیسے کروں، وہ سب قبول ہے ۔اگر یہ تصور اور سوچ ہے تو یہ بھی شیطان ہی کا دھوکہ ہے اور شیطان کے انہی حملوں سے بچنا یہ بھی حج کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد ہے ۔دورانِ حج غفلت ،بے توجہی اور لاپروائی کی وجہ سے ہم کتنے غیر شرعی کام کرلیتے ہیں: سب سے پہلے حج کو جاندار انسانی تصویروں اور فلموں سے سمجھاجاتا ہے ، وہاں پہنچنے کے بعد بھی ٹی وی دیکھتے رہتے ہیں ۔نمازوں کے ادا کرنے میں کوتاہی ، جماعت کی پابندی میں کوتاہی ، احرام باندھنے کے بعد بجائے تلبیہ وذکرُ اللہ کے غیبت ، گناہ، منکرات ومنہیات کا ارتکاب ، نامحرم عورتوں سے اختلاط ، عورتوں کی بے پردگی ، بدنظری اور دیگر کئی گناہ حج کے دوران سرزد ہورہے ہیں ۔ ان گناہوں کے اثر سے دل کی وہ کیفیت ہوجاتی ہے کہ جو ملنا ہوتا ہے وہ نہیں ملتا ۔یقیناًتوفیق اس انسان کو بھی ملی ہے، لیکن یہ گناہوں کے ذریعے اپنی توفیق کو ضائع کرکے محروم ہورہا ہے ۔ عبادات کے ذریعے مرتب ہونے والے فوائد وثمرات کی حفاظت کے لئے گناہوں سے بچنا سخت ضروری ہے ۔ اگر پرہیز کے ساتھ حج ہوگا تو حج کا فائدہ بھی ظاہر ہوگا۔اگر گناہ اور منکرات ومنہیات سے پرہیز نہ کیااور جو توفیق اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملی تھی، اُس کی کماحقہ قدر نہیں کی توپھر وہ شیطان کے حملوں سے نہیں بچا۔ شیطان کے حملے اسی طرح جاری رہیں گے اور وہ اپنا کام کرتا رہے گا۔ اگر ایک آدمی صاحب استطاعت ہونے کے باوجود فرض حج نہیں ادا کرتا تو یہ ناشکری اور ناقدری ہے ۔گویا عملی طور پر وہ خدا کو اپنی عدمِ احتیاج کا اظہار کررہا ہے کہ مجھے تو آپ کی ضرورت ہی نہیں ، حالانکہ اُسے مال واسباب سے جو نوازا گیا تھا وہ اس لئے تھا کہ اب تم میری طرف آجاؤ، لیکن تم نہیں آئے ۔یہ تو اللہ کی مہربانی ہے کہ اس نے صرف صاحب استطاعت پر اور وہ بھی زندگی میں صرف ایک مرتبہ حج فرض کیا ہے ،حدیث میں آتا ہے:
’’عن علیؓ:من ملک زاداً وراحلۃً تبلغہ إلی بیت اﷲ الحرام فلم یحج فلا علیہ أن یموت یہودیاً أو نصرانیاً‘‘ (ترمذی،ج:۱،ص:۱۰۰)
ترجمہ:۔’’حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص کے پاس سفر حج اور بیت اللہ تک پہنچنے کے لئے سواری کا انتظام ہو اور پھر وہ حج نہ کرے تو کوئی فرق نہیں اس بات میں کہ وہ یہودی ہوکر مرجائے یا نصرانی ہوکر مرے‘‘۔
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’ من أراد الحج فلیتعجل ‘‘۔ (ابوداؤد،ج:۱،ص:۲۴۲)
ترجمہ :’’جس نے حج کا ارادہ کرلیا تو اب اُسے چاہئے کہ وہ جلدی کرے‘‘۔
عام طور پرکہاجاتا ہے کہ جب فرض حج ادا ہوگیا تو اب نفلی حج کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی حیاتِ طیبہ میں ایک ہی دفعہ حج کیا۔غور کیا جائے تو یہ بھی خدا کا اُمت پر احسان ہے کہ اس نے صاحب استطاعت پر زندگی میں صرف ایک ہی مرتبہ حج فرض قرار دیا کہ ہاں ! اگر ایک دفعہ بھی تم نے حج کرکے اپنے رب کوپالیا اور تمہاری زندگی تبدیل ہوگئی تویہ بھی تمہارے لئے کافی ہے ، ورنہ جس کو اللہ نے ہمیشہ نوازا ہے، اگر وہ کامل زندگی بھی اس راستے میں لگادے اور بار بار حج کرتا رہے تو بھی حق نہیں ادا ہوسکتا،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
عن عبد اللّٰہؓ قال :قال رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم :تابعوا بین الحج والعمرۃ فإنہما ینفیان الفقر والذنوب کما ینفی الکیر خبث الحدید والذہب والفضۃ ولیس للحجۃ المبررۃ ثواب إلا الجنۃ۔ (ترمذی،ج:۱،ص:۱۶۷)
ترجمہ :’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :پے در پے حج وعمرے کیا کرو،کیونکہ یہ دونوں فقر اور گناہوں کو اس طرح صاف کردیتے ہیں جیسے بھٹی لوہے ،سونے اور چاندی کے میل کو صاف کردیتی ہے ، اور حج مبرور کا ثواب صرف جنت ہے ‘‘۔
یہ بات بھی زبان زَد عام ہے کہ نفلی حج کی بجائے اس رقم سے کسی غریب اورمستحق کی ضرورت کو پورا کردیا جائے تو وہ زیادہ بہتر ہے۔اس بات کو خوب اچھی طرح سمجھ لیجئے ،ایک مد ہے زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ، جس کا مستحق ایک غریب اور ضرورت مند ہی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ صدقاتِ نافلہ بھی ہیں ،مثلاًانسان کا اپنی ذات پر خرچ کرنا، اپنی اولاد واہل وعیال پر خرچ کرنا ، کسی کو ہدیہ تحفہ دے دینا ،کسی کی دعوتِ طعام کردینا،کسی ضرورت مند کی ضرورت پوری کرنااور کوئی کار خیرکرنا، یہ تمام صدقاتِ نافلہ ہیں ۔ صدقاتِ نافلہ میں انسان کو اختیار ہے، دل چاہے تو یہ کرلے اور دل چاہے تو وہ کرلے ۔صدقاتِ واجبہ کو صدقاتِ نافلہ کے ساتھ خلط نہیں کرنا چاہئے۔غریب اور ضرورت مند کے لئے تو اللہ نے صاحب نصاب پر ہرسال زکوٰۃ اور صدقۂ فطر فرض کیا ہے ،جو صاحب نصاب کو ہر سال اور ہر حال میں ادا کرنا چاہئے۔ صاحب استطاعت‘ نفلی حج، زکوۃ یا صدقاتِ واجبہ کی رقم سے تو ادا نہیں کررہا اور نہ ہی کرسکتا ہے ۔اگر ایک صاحب حیثیت زکوۃ اور صدقات واجبہ ادا کررہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بطورِ صدقۂ نافلہ اللہ کے راستے میں اس کے قرب کی خاطر حج ادا کررہا ہے تو یہ بھی شریعت کے تقاضے کے مطابق ہے ۔ صدقاتِ نافلہ میں انسان جہاں بھی خرچ کرے وہ کار خیر ہے اور ایک کارِخیر کو دوسرے پر وقتی حالات اور ضرورت کے پیش نظر ترجیح تو دی جاسکتی ہے، لیکن کسی ایک ہی کو افضل سمجھ لینا یا ان کارہائے خیر میں باہمی تقابل کرنا یہ مناسب نہیں ہے۔بسا اوقات یہ شیطان کا دھوکہ بھی ہوتا ہے کہ انسان یہ سوچتا ہے کہ فلاں نیک کام ابھی نہیں کرنا،بعد میں کرلوں گا، ابھی کوئی دوسرا نیک کام کرلیتا ہوں،پہلاکار خیر مؤخر کردیا اور اس کا وقت گذر گیااوردوسرا نیک کام جس کا ارادہ کیا تھا پھروہ بھی نہ کرسکا، چنانچہ اس سوچ کی وجہ سے وہ کارِخیر سے ہی محروم ہوجاتا ہے ۔
ایک بات یہ بھی ہے کہ زکوۃ یا صدقاتِ واجبہ مالی عبادات کی قبیل سے ہیں، جبکہ حج مالی اور جانی دونوں قسم کی عبادت ہے ۔ بسااوقات تن آسانی کے لئے بھی شیطان اس طرح ورغلاتا ہے ،کیونکہ حج در اصل مشقت کا نام ہے ۔ ہزاروں سہولیات واسباب بڑھنے کے باوجود آج تک وہ مشقت ہر دور کے اعتبار سے برقرار ہے ۔ یہ مشقتیں بھی حج کے اجر کو بڑھاتی ہیں ۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلمنے حجِ قران ادا فرمایا تھا ،یعنی ایک سفر اور ایک احرام کے اندر دوعبادتوں کو جمع کرنا ،اس میں مشقت بھی زیادہ ہے اور ثواب بھی زیادہ ہے ،اسی لئے امام ابوحنیفہؒ نے قران کو افضل کہا ہے ۔غرض تن آسانی کی وجہ سے بھی یہ دھوکہ ہوجاتا ہے ۔
اکثر لوگوں کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ حج تو بڑھاپے کی عبادت ہے ،ابھی جوان ہیں ، جب گناہوں سے مکمل توبہ کرلیں گے تب جاکر حج کریں گے۔تو یہ بھی درحقیقت شیطان ہی کا دھوکہ ہے ، گویاکہ اس سوچ اور فکر سے یہ بات طے کرلی ہے کہ ہم نے ابھی مزید گناہ کرنے ہیں ۔ یہ سوچ بذات خود بہت بڑا گناہ ہے کہ اس نیت سے اپنے آپ کو حج فرض سے روک لیا۔جب حج کو اس کی حقیقی روح ، مطلوبہ کیفیات اور مقاصد کے ساتھ گناہوں سے بچتے ہوئے اور خالص توبہ کرتے ہوئے ادا کیا جائے تو یقیناًان شاء اللہ! سابقہ گناہ بھی معاف ہوجائیں گے اور آئندہ زندگی بدل جائے گی ۔حج مبرور کہتے ہی اس کو ہیں کہ جس سے زندگی تبدیل ہوجائے ۔پھر اگر نیت خالص ہوگی اور انسان بالارادہ و بالاختیار گناہوں سے بچے گا تو اللہ تعالیٰ بھی اُسے گناہوں سے بچنے کی توفیق دیں گے۔جس کی یہ سوچ ہے کہ حج بڑھاپے کی عبادت ہے تو گویا اس نے حج کا فلسفہ ہی نہیں سمجھا۔ حج جیسے عظیم الشان اجر وثواب اور فضیلت کے باوجود کتنے لوگ ایسے ہیں جن پر حج فرض ہے، لیکن وہ فریضۂ حج کی ادائیگی کے لئے نہیں جاتے۔ کوئی بیوی بچوں کی تنہائی کا بہانہ بناتا ہے تو کوئی روپے پیسے اور مال ودولت کے خرچ پر نکتہ چینی کرتاہے۔کوئی دکان اور کاروبار کے اُجڑجانے کا اندیشہ ظاہر کرتا ہے توکوئی بیٹوں اور بیٹیوں کی شادی کا ہمالیہ کھڑا کردیتا ہے اور کوئی طویل صعوبتوں اور مشقتوں سے خوف زدہ نظر آتا ہے۔یہ سب اندیشے، وسوسے، خیالات اور توہمات اُنہیں لوگوں کا حصہ اور نصیب ہیں جن کے دل ودماغ عشق الٰہی سے خالی اوربیت اللہ کی عظمت وبرکات سے بے بہرہ ہیں،ورنہ کون کلمہ گو انسان ایساہوگا جو انوارات وتجلیات کے اس عظیم ترین مرکز اور بے بہارحمتوں اور برکتوں کے خزانہ سے دور رہنا گوارہ کرسکے؟فاعتبروا یا أولی الأبصار۔

ایک ضروری وضاحت!
ادارہ بینات سے گذشتہ سال حضرت مولانا ادریس میرٹھی ؒ کا تحریر کردہ مقالہ ایک کتابچہ کی صورت میں ’’اسلامی معاشیات‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔اس حوالے سے ادارہ ایک وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہے جس کی تفصیل کچھ پس منظر کے ساتھ یہ ہے کہ ۲۵؍مارچ ۱۹۶۹ء کو اکابر علماء حق کا ایک اجتماع منعقدہوا، جس میں دیگر اہم مباحث کے علاوہ ملک کی معاشی سنگین صورتِ حال پر بھی بحث وتمحیص اور غور وخوض ہوا،اِجتماع میں طے پایا کہ معاشیات پر ایک اسلامی خاکہ تیار کیا جائے، چنانچہ اس غرض سے ایک’’ مجلس تحقیقِ مسائل حاضرہ‘‘ تشکیل دی گئی، جس کے ارکان میں حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ ، حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوریؒ ، حضرت مولانا مفتی محمودؒ ، حضرت مولانا مفتی ولی حسن ٹونکیؒ ، مفتی رشید احمد لدھیانویؒ نور اللہ مراقدہم اور ایک قانونی مشیر ایڈووکیٹ جناب محمد اقبال صاحب تھے۔ اس ’’مجلس تحقیق مسائل حاضرہ‘‘ کا اجلاس حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوریؒ کی دعوت پر مدرسہ عربیہ اسلامیہ کراچی (حال جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن) میں منعقد ہوا۔ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع قدس سرہ کی علالت کی بنا پر آپؒ کی نیابت آپ کے صاحبزادگان حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی دامت برکاتہم اور حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم نے فرمائی۔
اس ’’مجلس تحقیق مسائل حاضرہ‘‘ کے اراکین نے دس دنوں کی محنتِ شاقہ اور جہدِ مسلسل کے بعد مزارعت، احیائے موات اور زمین کے مسائل سے متعلق ایک اسلامی خاکہ تیار کرلیا اور استصواب رائے کے لئے اُسے ملک کے جید علماء کرام کے پاس بھیجا گیا اورپابندی لگائی گئی کہ فی الحال اس کو عام شائع نہ کیا جائے۔ کچھ حضرات نے اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اُسے شائع کردیا، جس پر حضرت بنوریؒ نے اپنی ناراضی اور ناگواری کا اظہار فرمایا۔
چونکہ اس مجلس کے پیش نظر یہ تھا کہ اس موضوع پر مستقل ایک مستند کتاب مدون کی جائے گی، لیکن کچھ حالات کی نزاکت اور کچھ شرکائے مجلس کے متعدد مشاغل کی بنا پر کتاب کے مختلف ابواب تجویز کرکے بقیہ شرکائے مجلس میں تقسیم کئے گئے، تاکہ اس کتاب کی تدوین اور تکمیل میں آسانی ہو۔
’’مجلس تحقیق مسائل حاضرہ‘‘ کے اراکین کے اسمائے گرامی مندرجہ ذیل تھے:
۱۔حضرت مولانا مفتی ولی حسن ٹونکیؒ ، مدرسہ عربیہ اسلامیہ کراچی۔(حال جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی)
۲۔حضرت مولانا محمد ادریس ؒ ،مدرسہ عربیہ اسلامیہ کراچی۔ (حال جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی)
۳۔حضرت مولانا مفتی رشید احمدؒ ،جامعہ اشرف المدارس کراچی۔
۴۔حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم، جامعہ دار العلوم کراچی۔
ان اراکین پر مشتمل ’’مجلس تحقیقِ مسائل حاضرہ‘‘ کا پھر کوئی اجتماع منعقد نہ ہوسکا، اس کے بعد جس نے بھی اس موضوع پر کام کیا، اس نے انفرادی حیثیت سے ہی کام کیا، جیسے محدث العصر حضرت بنوری رحمہ اللہ کی راہنمائی وہدایت پر حضرت مولانا محمد ادریس میرٹھیؒ نے اسلامی معیشت کے عنوان پر ایک بہترین اور عمدہ مقالہ تحریر فرمایا جو ماہنامہ ’’بینات‘‘ میں سات اقساط میں شائع ہوا۔اسی طرح اس مجلس کے مقتدر شرکاء میں سے بعض دیگر اہل علم نے بھی بعد میں اپنے طور پر انفرادی حیثیت میں کام کیا،جیسے حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم العالیہ نے اپنے والد حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ کے زیر ہدایت اس موضوع پر کچھ کام کیا۔
آمدم برسر مطلب !حضرت مولانا محمد ادریس میرٹھیؒ نے ’’اسلامی معاشیات‘‘ کے عنوان سے جو گراں قدر مقالہ قلم بند فرمایاتھا اور اُسے ماہنامہ ’’بینات‘‘ میں سات اقساط میں شائع کیاگیا، جسے بعد میں ’’ادارہ بینات‘‘ نے ’’اسلامی معاشیات، بنیادی خاکہ، نتیجہ فکر: مجلس تحقیق مسائل حاضرہ‘‘ کے نام سے طبع کرایا اور اس کے پیش لفظ میں مذکورہ بالا صورتِ حال (علمائے کرام کا اجتماع، مجلس تحقیق مسائل حاضرہ کی تشکیل، اس کے اراکین کے نام ،وغیرہ) حضرتؒ علامہ سید محمد یوسف بنوری قدس سرہ اور حضرت مولانا محمد ادریس میرٹھیؒ کی تحریروں کے اقتباسات سے نقل کی گئی، جس سے یہ تأثر جھلکا کہ شاید یہ کتاب وہی منظور شدہ’’ابتدائی خاکہ‘‘ہے جس کی طرف حضرت بنوری رحمہ اللہ کی تحریر کے مندرجہ ذیل اقتباس میں اشارہ ہے :
’’ایک مختصر خاکہ تیار کیاگیا تھا، جس کی حیثیت بھی صرف استفتاء ہی کی ہوسکتی ہے، نہ اس کی کتابی تدوین وترتیب تھی، نہ وہ آخری رائے تھی، بلکہ ناتمام خاکہ تھا جو سائیکلوسٹائل کرکے شائع کیاگیا تھا، تاکہ اسے علماء کے پاس بھیجا جاسکے اور اس کی اشاعت کی غرض بھی یہی تھی۔ لیکن خود غرض حضرات نے اس کوآخری فیصلہ سمجھا، اس سے اپنا اُلُّو سیدھا کرنے کی کوشش کرنے لگے۔ یہ جلد بازی ہے۔۔۔‘‘ ۔
اس اقتباس سے واضح ہوا کہ حضرت بنوریؒ اس ابتدائی خاکے کی اشاعت کے حق میں نہ تھے، جس کی بہرحال پابندی ’’ادارہ بینات‘‘ نے اب تک کی ہے، اسی لئے اس ناتمام خاکے کو اس کتاب کا حصہ بھی نہیں بنایاگیا۔ ہاں یہ بات ضرور ہے کہ حضرت مولانا محمد ادریس میرٹھی نور اللہ مرقدہٗ اس ’’مجلس تحقیقِ مسائل حاضرہ‘‘ کے فعال رکن اور اس مجلس کی کارروائی اور روئیداد کے ضبط کرنے والے تھے اور انہوں نے اس مقالہ میں جو نتیجۂ فکر پیش کیا ہے، اُس کے خدوخال اور راہنما اصول بالکل وہی تھے جو اس ’’مجلس تحقیقِ مسائل حاضرہ‘‘ کے پیش نظر تھے اورحضرت بنوریؒ نے اس مجلس کے اراکین میں جوکام تقسیم کیا تھا،اس میں بھی حضرت میرٹھی ؒ کے ذمہ اس بنیادی خاکہ کی روشنی میں ’’اسلامی معاشیات‘‘ پر مقالہ تیار کرنا تھا۔ اس اعتبار سے اس کتاب کو اکابر کا فقہی منہج قرار دینایا اسلامی معیشت پر بنیادی خاکہ، یا نتیجہ فکر:’’مجلس تحقیق مسائل حاضرہ‘‘ کہنا بھی کچھ بے جا نہ ہوگا۔
لیکن بہرحال ’’ادارہ بینات‘‘ ریکارڈ کی درستگی کے لئے یہ وضاحت کرتا ہے کہ یہ کتاب ’’مجلس تحقیق مسائل حاضرہ‘‘ کا مرتب کردہ مذکورہ بالاابتدائی خاکہ نہیں ہے ،بلکہ یہ کتاب حضرت مولانا محمد ادریس میرٹھی نور ا للہ مرقدہ کے اس مقالہ پر مشتمل ہے جو ماہنامہ ’’بینات‘‘ میں سات اقساط میں شائع ہوا ہے، واللہ اعلم بالصواب۔
وصلّٰی اللّٰہُ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ سیدنا محمد وعلی آلہ وصحبہ أجمعین
اشاعت ۲۰١۲ ماہنامہ بینات , ذوی الحجہ ۱۴۳۳ھ - نومبر۲۰١۲ء, جلد 75, شمارہ