***
عربی قواعد افادیت وخاصیت محترم خلیل الرحمن
بسم الله الرحمن الرحیم
الحمدلله وکفیٰ، والصلوٰة والسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفیٰ،اماّ بعد:﴿الرٰ تلک اٰیت الکتابِ المبین انا انرلنٰہ قراٰناً عربیاً لعلکم تعقلون﴾․ أمابعد․
یہ آیتیں ہیں واضح کتاب کی۔ ہم نے اس کو اتارا ہے قرآن عربی زبان کا تاکہ تم سمجھ لو۔ (ترجمہ حضرت مولانا محمود حسن صاحب)
”آسمانی کتابوں کے نزول کا مقصد لوگوں کی ہدایت ورہنمائی ہے اور یہ مقصد اسی وقت حاصل ہو سکتا ہے جب وہ کتاب اس زبان میں ہو جس کو وہ سمجھ سکیں، اس لیے ہر آسمانی کتاب اسی قوم کی زبان میں نازل ہوئی ، جس قوم کی ہدایت کے لیے وہ اتاری گئی تھی۔ قرآن کریم کے مخاطب اول چوں کہ عرب تھے ، اس لیے قرآن بھی عربی زبان میں نازل ہوا۔ علاوہ ازیں عربی زبان اپنی فصاحت وبلاغت او راعجاز اور ادائے معانی کے لحاظ سے دنیا کی بہترین زبان ہے۔ اس لیے الله تعالیٰ نے اس اشرف الکتب ( قرآن مجید) کو اشرف اللغات (عربی) میں اشرف الرسل ( حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم) پر اشرف الملائکہ (حضرت جبرئیل) کے ذریعے سے نازل فرمایا۔“ (ازتفسیر احسن البیان)
الله جل شانہ کی یہ سنت رہی ہے کہ اس نے جتنے بھی پیغمبر اور رسول اس دنیا میں اہل دنیا کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمائے، انہیں اپنی قوم کے طبعی میلان اور فطری رجحان کے مطابق اس دائرہ کار میں معجزات عطا فرمائے جس میں ان کی قوم اور وہ زمانہ یدطولیٰ رکھتے تھے او راسی دائرہ کار میں فن کی بلندیوں پرپہنچے ہوئے تھے۔ مقصدِ اعلیٰ اس ا مرِ ربی کا یہ تھا کہ ، ان کی قوم اپنے اسی فن میں ، جس میں وہ درجہ کمال کو پہنچی ہوئی ہوتی تھی ، اپنے کام اور امرِ ربی میں فرق کرسکے اور پیغمبرِ زماں کو حق پر جان لے۔
حضرت موسی علیہ السلام کے زمانے میں ساحری اور جادوگری اپنے عروج پر تھی، یہاں تک کہ فرعون بادشاہ کے دربار میں قسم قسم کے جادوگراپنے کمالات دکھانے کے لیے ہر وقت منتظر رہتے تھے ۔ ان کے سامنے جب حضرتِ موسی علیہ السلام نے بحکم خدا وندی اپنا عصا پھینکا تو اس نے معجزانہ طور پر اژدھا بن کر جادو گروں کے تمام سانپوں کو نگل ڈالا، تبھی تمام جادوگر جو اس میں ماہر تھے ، جان گئے کہ یہ کام قادرِ مطلق کا ہی ہو سکتا ہے اور وہ پکارا ٹھے ﴿اٰمنا برب العالمین ربِ موسی وہارون﴾ یہی صورتِ حال ان معجزوں کی ہے جو حضرت عیسی علیہ السلام، حضرت داؤد علیہ السلام ، حضرت سلیمان علیہ السلام وغیرہم اجمعین کو عطا فرمائے گئے تھے۔ ان تمام معجزات کا مقصدِ اعلیٰ بھی وہی تھا، یعنی یہ کہ اتمامِ حجت کے لیے طبقہ اعلیٰ کے فرد جو اپنی استعداد فنی کے اعتبار سے ماہرین فن شمار ہوتے تھے اور اپنی فنی طاقت وکمالیت کو اس مظہر اعلیٰ کے سامنے بے بس پاکر الله اور اس کے رسول پر ایمان لانے یا جانتے بوجھتے ہوئے اس پیغامِ حق کے منکر ہونے پر مجبور ہو جاتے تھے ۔
جب نبی آخر الزماں، نبی امی، حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم جزیرہ نمائے عرب میں مبعوث فرمائے گئے تو ان کا اولین مخاطب قومِ عرب ٹھہری، جن کی اپنی زبان عربی اس وقت اپنے عروج اورکمال کو پہنچی ہوئی تھی۔ فصاحت وبلاغت ان کے گھر کی لونڈی تھی اور وہ بجا طور پر اس پر فخر کرتے تھے ۔ یہاں تک کہ وہ اپنے کو فصیح اور غیر عرب قوموں کو عجم یعنی گونگا کہتے تھے، اپنے بچوں کو بہترین زبان دانی میں مہارت بہم پہنچانے کے لیے انہیں مضافات میں بھیجا جاتا تھا۔
یہی وہ دور تھا جس میں ربِ کائنات نے نبی امی کو قرآن کا معجزہ عطا فرمایا، جس کی زبان وبیان اور فصاحت وبلاغت نے اہل عرب کو مسحور کر دیا۔ کفار مکہ چھپ چھپ کر، کان لگا لگا کر قرآن کو سنتے او رمبہوت ہو کر رہ جاتے۔ ایک دوسرے کو قرآن سننے سے منع کرتے ، لیکن زبان دانی کاچٹخارہ انہیں خود ہی چھپ کر قرآن سننے پر مجبور کر دیتا تھا۔ جن لوگوں پر انعام خداوندی ہدایت حق کی شکل میں متوجہ ہو جاتا وہ فوراً دعوتِ حق کو قبول کرکے الله کے پسندیدہ بندے بن جاتے او رجن کے دلوں پر حق تعالیٰ نے مہر لگادی تھی وہ اس سے محروم رہتے تھے۔
قرآنِ معجز بیان کے اس معجزے کے کئی پہلو ہیں، جن کا تفصیلی مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ خود عربی زبان بھی قرآن کے معجزے کے احسان سے بدرجہ اتم بہرہ مند ہوئی ۔ بقول ڈاکٹر محمود احمد غازی:
” الله نے قرآن پاک کے متن کو بھی محفوظ رکھا ار اس کے معنی کو بھی محفوظ رکھا جو سنت کی شکل میں ہمارے سامنے ہے“۔الله رب العزت نے قرآن پاک کی زبان کو بھی محفوظ رکھا ۔ قرآن مجید کی ہم عصر سب زبانیں مٹ گئی ہیں ،جن جن زبانوں کو نزول قرآن کے زمانے میں انسان بولتے تھے ، آج ان میں سے کوئی زبان دنیا میں محفوظ نہیں ہے ، سب مٹ چکی ہیں۔ صرف ایک قرآنِ مجید کی زبان محفوظ ہے ۔ یہ ایک ایسا عجیب وغریب استثنا ہے، جس کی لسانیات کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ دنیا کی ہر زبان تین چار سو سال بعد بدل جاتی ہے، لیکن عربی زبان واحد زبان ہے جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی ولادتِ مبارکہ سے کم وبیش ساڑھے تین سو سال پہلے سے بولی جارہی تھی (جس کے نمونے) آج ہم تک پہنچے ہیں اور ان میں یہی اسلوب ، یہی الفاظ اور یہی لغت استعمال ہوئی ہے، جو احادیث اور قرآنِ پاک میں ہمیں ملتی ہے۔“ (محاضرات حدیث از ڈاکٹر محمود احمد غازی)
قرآنِ معجزبیان کے اس احسان ہی کا نتیجہ ہے کہ زمانہ جاہلیت کے عربی ادب وشاعری بھی آج تک محفوظ ہیں۔ چناں چہ امرأ القیس، اور لبیدبن ربیعہ عامری جیسے زمانہجاہلیتکے نام آج بھی اہل علم وادب میں جانے پہچانے ہیں، بلکہ ان کی شاعری جو زمانہ جاہلیت کی شاعری کے بہترین نمونوں کے طور پر خانہ کعبہ میں لٹکائی جاتی تھی، ( جسے معلقات کہا جاتا ہے) آج بھی ہمارے دینی مدرسوں میں شامل نصاب ہیں۔
یوں تو عربی زبان قرآن کریم وسنت نبوی صلی الله علیہ وسلم کی تعلیم وترویج کے لحاظ سے مسلمانانِ عالم کی پسندیدہ ترین زبان ہے ، لیکن اعجاز قرآن نے آج چودہ سو سال بعد بھی اسے زندہ جاوید رکھا ہوا ہے ، علمی وادبی ولسانی اعتبار سے بھی اس زبان کی لذت وحلاوت، فصاحت وبلاغت نہ صرف زمانہ جدید کی دیگر زبانوں کے مقابلے میں بدرجہ اتم موجود ہے، بلکہ یہ آج بھی اتنی ہی جدید ہے جتنی زمانہ بعثت میں تھی اور آج بھی اس میں وہ چاشنی موجود ہے جو زمانہ رسالت ماٰب صلی الله علیہ وسلم میں تھی۔
عربی زبان دانی کی اس چاشنی کے مزے لوٹنے اور علم النحو کے قواعد کا مختصر جائزہ لینے سے پہلے ملاحظہ فرمائیے علم النحو کا ایک مختصر مگر دلچسپ فارمولہ:
جاء زید، رایت زیداً، مررت بزید
غور طلب نکتہ یہ ہے کہ اس جملے میں زید بیچارہ وہی زید وبکر والا ہمارا زید ہے ، لیکن مختلف اوقات وصورتوں میں مختلف الفاظ کے ساتھ اس پر لگائے جانے والے اعراب مختلف ہیں ۔ یہ صورت لسانیات عربی میں کلمہ کی اعرابی حالتیں کہلاتی ہے اور ان کا مطالعہ علم النحو کہلاتا ہے۔
کلمہ کیا ہے اور اس کی اعرابی حالتوں سے کیا مراد ہے ، یہ سب ذرا دیر میں ۔ اس سے پہلے ہم اس بات کا مشاہد ہ کرتے ہیں کہ ہم عصر، علاقے کی زبانوں کا اس بارے میں کیا رویہ ہے ۔
سب سے پہلے ملاحظہ کیجیے، ڈپٹی نذیر احمد کا کیا ہوا سورہ بقرہ کی آخری آیتوں کا خوب صورت بامحاورہ ترجمہ:
” اے ہمارے پروردگار! اگر ہم بھول جائیں یا چوک جائیں تو ہم کو ( اس کے وبال میں ) نہ پکڑ اور اے ہمارے پرورد گار! جو لوگ ہم سے پہلے ہو گزرے ہیں ، جس طرح ان پر تونے ( ان کے گناہوں کی پاداش میں احکامِ سخت کا) بارڈالا تھا، ویسا بار ہم پر نہ ڈال اور اے ہمارے پرورد گار! اتنا بوجھ جس ( کے اٹھانے) کی ہم کو طاقت نہیں ، ہم سے نہ اٹھوا اور ہمارے قصوروں سے در گزر اور ہمارے گناہوں کو معاف کر۔ اور ہم پر رحم فرما، تو ہی ہمارا( حامی و) مدد گار ہے ۔ تو ان لوگوں کے مقابلے میں ، جو کافر ہیں ، ہماری مدد فرما۔ ( اردو کا نثری دینی ادب اور قرآنی تراجم وتفاسیر از پروفیسر ڈاکٹر غلام مصطفی خان، ماہنامہ مسیحائی کراچی، قرآن نمبر)
مندرجہ بالا پیرا گراف کا بغور مطالعہ ہمیں یہ بتلاتا ہے کہ اس میں ہر لفظ کا آخری حرف ساکن ہے اور یہی اردو زبان کا انداز ہے جو اردو کی دریافت سے لے کر آج تک زبان کی تبدیلی کے باوجود برقرار ہے ۔ اسی طرح انگریزی کو لے لیجیے۔
"1. Alif Lam Meen.
2.this is the Book; in it is guidance sure , without doubt, to those who fear God.
3- Who belive in the unseen, are steadfast in prayer, and spend out of what we have provided for them.
4. and who belive in the revelation sent to thee; and sent before they time and ( in their hearts ) have the assurance of the Hereafter.
5.They are on ( true) guidance from their Lord, and it is those who will prosper. ( Al-Baqarah 1-5, The Holy Quraan, Translated by Abdullah Yousuf Ali)
ملاحظہ کیجیے کہ انگریزی میں بھی ہر لفظ کا آخری حرف ساکن ہے۔ کم وبیش یہی صورت حال فارسی میں بھی ہے۔ ذیل میں فارسی کا ایک شعر پیش ہے #
مبنی آں باشد کہ ماند بر قرار
معرب آں باشد کہ گر دد بار بار
اسی طرح پنجابی زبان سے حضرت سلطان باہو کے اشعار درج ذیل ہیں:
الف۔ الله چنبے دی بوٹی مرشد من مرے وچہ لائی ہو
نفی اثبات دا پانی ملیاہر رگ ہو جائی ہو
اندر بوٹی شور مچایا جان پھلن پر آئی ہو
جیوے مرشد کامل حضرت باھو جیئں ایہہ بوٹی لائی ہو
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون ساعامل ہے جو ان تمام زبانوں کے برعکس عربی کو وہ خاص کیفیت وکمیت عطا کر رباہے اور جس کے نتیجے میں ہم ہر کلمے کے آخری حرف کی حرکت کو سمجھ سکیں۔ اس عامل کو سمجھنے کے لیے جس علم کا سہارہ لیا جاتا ہے اسے علم النحو کہا جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ علم النحو کو حضرت علی  نے ایجاد کیا تھا۔ ولله اعلم بالصواب۔
علم النحو کی تعریف عربی میں کچھ یوں کی جاتی ہے:
النحو علم باصول یعرف بھا احوال اواخر الکلمات الثلاث من حیث الاعراب والبناء وکیفیة ترکیب بعضھا مع بعض․
یعنی علم نحو ایسے قوانین کے جاننے کا نام ہے جن سے دو چیزوں کی پہچان حاصل ہوتی ہے۔
تینوں کلموں یعنی اسم ، فعل ، حرف کی آخری حالت معلوم ہوتی ہے اس لحاظ سے کہ وہمعرب ہے یا مبنی۔
کلموں کو آپس میں جوڑ کر جملہ بنانے کی ترکیب معلوم ہوتی ہے
آئیے! اب دیکھتے ہیں کہ معرب او رمبنی کی کیا تعریف ہے!
معرب
معرب کے لغوی معنی ہیں، اظہار کی جگہ اور اصطلاح میں معرب وہ کلمہ ہے جس کا آخری حرف ہمیشہ بدلتا رہتا ہو ۔ پس جس کے سبب سے یہ تبدیلی رونما ہوتی ہے اس کو عامل کہتے ہیں او رجو چیز آخری حرف سے بدلتی ہے اس کو اعراب کہتے ہیں ۔ جیسے کہ زید ہماری گزشتہ مثال میں معرب ہے ، جاء وغیرہ عامل ہیں ۔ دو پیش، دو زبر اور دو زیر وغیرہ اعراب ہیں اور دال محل اعراب ہے۔ یعنی وہ جگہ جہاں اعراب واقع ہو رہے ہیں اور یہ کلمہ کا آخری حرف ہوتا ہے ۔
مبنی
مبنی کے لغو ی معنی ہیں ینا کیا ہوا ۔ اور اصطلاح میں مبنی وہ کلمہ ہے جو ہمیشہ ایک حال پر رہتا ہے۔ یعنی عامل کے بدلنے سے اس کی آخری حرکت میں کچھ تبدیلی نہیں ہوتی ۔ جسے: ”جاء ھذا، رأیت ھذا ومررت بھذا“ ان مثالوں میں ھذا مبنی ہے او رہر حالت میں یکساں ہے۔
اب آخر میں ایک دلچسپ نکتہ پیش خدمت ہے۔ ان اعراب کو بالترتیب رفع ( پیش) نصب ( زبر) اور جر ( زیر) کہتے ہیں ۔ بعض اوقات اعراب کی یہ حالت ظاہر ہوتی ہے او ربعض اوقات ظاہر نہیں ہوتی۔ ہر دو صورتوں میں ان حالتوں کو حالتِ رفعی( پیش کے ساتھ) حالتِ نصبی (زبر کے ساتھ) اور حالتِ جری (زیر کے ساتھ) کہا جاتا ہے۔
مثال کے طور پر اسمِ تثنیہ کا صیغہ ہو تو حالتِ رفعی میں اس کے آخر میں انِ اور حالتِ نصبی وجری میں یْنِ لگاتے ہیں جیسے ”کتب الرجلان مکتوبین الی المرأتین ( دو مردوں نے دو خط دو عورتوں کے طرف لکھے) گویا رجلانِ ، مکتوبانِ، امراتان آخری حرکت یعنی زیر کے باوجود حالتِ رفعی میں کہلاتے ہیں اور رجلین، مکتوبین، مراتین آخری حرکت یعنی زیر کے باوجود حالتِ نصبی وحالتِ جری میں کہلاتے ہیں۔
دراصل اعراب کی دو قسمیں ہوتی ہیں۔ ایک اعراب بالحرکة ،جو زیر، زبر، پیش سے ظاہر کیا جاتا ہے اور دوسرا اعرابِ بالحروف، جو بعض حروف کی زیادتی سے ظاہر کیا جاتا ہے۔
یہ گویا اس طویل بحث کا نکتہ آغاز ہے جسے علم النحو کہا جاتا ہے۔ یعنی کلمہ کی تین حالتوں اسم، فعل اور حرف میں سے کون کون سے اسم، فعل معرب ہیں او رکون کون سے اسم وفعل مبنی ہیں۔ واضح رہے سارے حروف مبنی ہیں ، یعنی ان کی حالت کسی بھی طرح کے استعمال میں یکساں رہتی ہے ۔ نیز اسم کی کتنی قسمیں ہوتی ہیں ، فعل کون کون سے ہوتے ہیں او رحروف کتنے اور کتنی قسموں کے ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ نحو کے عوامل کون کون سے ہوتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔
امید ہے کہ میں قاری کے دل میں وہ آتشِ شوق بھڑکانے میں کامیاب ہو پایا ہوں، جو میرے اس مضمون کا مقصد ومدعا تھا۔ عربی زبان اس لیے تو محترم ہے ہی کہ یہ قرآن وسنت کی زبان ہے، بلکہ یہ اس لیے بھی قابلِ ستائش اور سیکھنے کے لائق ہے کہ یہ دنیا کی بہترین زبان ہے ۔ حدیث نبوی صلی الله علیہ وسلم ہے”خیر کم من تعلم القرآن وعلمہ“ تم میں سے بہتر وہ ہیں جنہوں نے قرآن سیکھا اور دوسروں کو سکھایا۔ قرآن کے سیکھنے اور سکھانے کے لیے عربی ضروری تو ہے ہی، پھر اگر اسے اس کے محاسن وخوبیوں کو پرکھتے ہوئے ، شوق سے سیکھا جائے تو سونے پر سہاگہ ہے۔