(۲) وہ فتاوی جو کانپور میں مدرسی کے زمانہ میں لکھے گئے ہیں اور یہ سلسلہ ۱۳۱۵؁ھ کے اوائل تک کا ہے۔
(۳) وہ فتاوی جو قیام وطن یعنی تھانہ بھون کے قیام کے زمانہ میں لکھے گئے ہیں اور تینوں سلسلوں کے فتاوی میں تاریخ اجراء لکھی گئی ہے، اس سے پتہ چل جائے گا کہ کس زمانہ کا لکھا ہوا فتوی ہے، حضرت والا تھانوی نور اﷲ مرقدہ نے خود اپنے قلم سے واضح فرمایا ہے کہ جب پہلی بار ان سارے فتاوی کی ترتیب دی گئی ہے تو وہ کل چار جلدوں میں مرتب ہوئی ہے اور حضرت نے خود تحریر فرمایا ہے کہ زمانہ کانپور میں لکھے گئے فتاوی مدرسہ جامع العلوم کانپور میں ہی محفوظ ہیں تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ زمانہ کانپور میں جو فتاوی لکھے گئے ہیں وہ ان چار جلدوں میں شامل نہیں ہوسکے۔
یہی ۴؍ جلدیں فتاوی امدادیہ اور امداد الفتاوی قدیم کے نام سے موسوم ہیں ، ان کی تفصیل اسی مقدمۃ التحقیق کے بارھویں فصل میں حضرت تھانوی نور اﷲ مرقدہ کے اپنے قلم سے لکھی گئی تحریر ملاحظہ فرمائیں ۔
اور اس امداد الفتاوی قدیم کی پہلی اشاعت ۱۳۲۷ھ میں مطبع مجتبائی دہلی سے ہوئی ہے۔
حضرت مفتی شفیع صاحب نور اﷲ مرقدہ لکھتے ہیں کہ امداد الفتاوی قدیم میں ۱۳۲۵ھ تک کے فتاوی ان چار جلدوں میں جمع کئے گئے ہیں اور اس کے بعد ۱۳۲۶ھ سے جو فتاوی جاری ہوئے ان کو تتمہ امداد الفتاوی کے نام سے موسوم کیا گیا، جس کی تفصیل ہمارے اسی مقدمہ میں گیارھویں فصل کے ذیل میں ’’امداد الفتاوی کی خصوصیات‘‘ کے عنوان کے تحت حضرت مفتی شفیع صاحبؒ کے قلم سے لکھی ہوئی ہے، وہاں ملاحظہ فرمائیے۔
حضرت مفتی شفیع صاحبؒ کی ترتیب جدید

حضرت والا تھانوی نور اﷲ مرقدہ کی وفات ۱۳۶۲ھ میں ہوئی، اس کے بعد حضرت مفتی محمد شفیع صاحب نے دیوبند میں اشرف العلوم کے نام سے ایک ادارہ قائم فرمایا اور اس ادارہ کا اصل مقصد حضرت تھانوی نور اﷲ مرقدہ کی تصانیف کی اشاعت ہی تھا اور بڑی محنت شاقہ کے ذریعہ سے امداد الفتاوی قدیم میں جو فتاوی شامل نہیں ہوسکے ہیں ، اس میں امداد الفتاوی کے بہت سارے ضمیمیں یعنی اصلاح التسامح اور ترجیح الراجح اور تتمہائے امداد الفتاوی اور رسالہ الامداد اور رسالہ النور میں شائع شدہ فتاوی وغیرہ وغیرہ سارے مواد حضرت مفتی شفیع صاحب نے جمع کرلیا اور جمع کرکے امداد الفتاوی جدید کی ترتیب دے کر مسودہ تیار فرما لیا اور اسی زمانہ میں ۱۳۶۷ھ مطابق ۱۹۴۸ء کو تقسیم ہند کے موقع پر فتاوی کا پورا مسودہ کراچی منتقل فرما