کہاں کہاں اذان مشروع ہے؟

سوال (۱۶۳) : قدیم ۱/ ۱۶۵- کیافرماتے ہیں علماء دین کہ کون کون مقام وواقعات آندھی وغیرہ میں اذان سنت ہے اورکہاں کہاں بدعت ہے؟
------------------------------
 المسنون في ہذا الدعاء ألا ترفع الأیدي؛ لأنہ لم یثبت عن النبي صلی اﷲ علیہ وسلم رفعہا الخ۔ (فیض الباري، کتاب الأذان، باب الدعاء عند النداء، مکتبہ کوئٹہ ۲/ ۱۶۷)
اور آپ نے بھی نیل الفرقدین ص: ۱۳۳ ؍ میں حضرت تھانویؒ کی تحقیق کے قریب قریب تحقیق بیان فرمائی ہے، جسے فیض الباری (۲/ ۱۲۷) میں نقل کیا گیا ہے :
ما ملخصہ أکثر دعاء النبي صلی اﷲ علیہ وسلم کان علی الشاکلۃ الذکر، لایزال لسانہ رطبا بہ، ویبسطہ علی الحالات المتواردۃ علی الإنسان … ومثل ہذا في دوام الذکر علی الأطوار لا ینبغي لہ أن یقصر أمرہ علی الرفع۔ الخ
احقر عرض کرتا ہے کہ اذان کے بعد کا وقت احادیث میں ’’محل اجابت دعا‘‘ میں شمار کیا گیا ہے اور اپنی حاجات کے لئے دعا کرنے کا امر بھی وارد ہوا ہے۔
عن عبداﷲ بن عمرو: قال رجل: یا رسول اﷲ ان المؤذنین یفضلوننا، فقال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم: قل کما یقولون، فإذا انتہیت فسل تعط۔ (رواہ أبوداؤد، باب ما یقول إذا سمع المؤذن، النسخۃ الہندیۃ ۱/ ۷۸، دارالسلام، رقم: ۵۲۴)
لہٰذا اگر کوئی شخص اذان کے بعد صرف دعائے ماثورہ پڑھنا چاہتا ہو تو عدم رفع افضل ہے، جیسا کہ حضرت مجیب اور علامہ کشمیریؒ کی رائے ہے؛ لیکن اگر کسی کو دعائے ماثورہ کے علاوہ اپنی حاجات کے لئے بھی دعا کرنا ہے، تو اس کے لئے رفع ید افضل ہے، اسی قاعدے سے جو حضرت مجیب ؒ نے ذکر فرمایا ہے۔ واﷲ سبحانہ اعلم ۱۲۔
سعید احمد پالن پوری
------------------------------
 یدیہ، ولم یمسح بہما وجہہ أفادہ في شرح المشکوۃ، وشرح الحصن وغیرہما۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی المراقي، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، فصل في صفۃ الأذکار، مکتبہ دارالکتاب ص: ۳۱۸، وکذا في مرقاۃ المفاتیح، کتاب الدعوات، الفصل الثالث، مکتبہ رشیدیہ ۵/ ۲۷-۲۸، أشرفیہ دیوبند ۵/ ۴۶) شبیر احمد قاسمی عفا اﷲ عنہ
الجواب: ان مواقع میں اذان سنت ہے۔۱؍ فرض نماز۔۲؍ بچہ کے کان میں وقت ولادت۔ ۳؍