آگ لگنے کے وقت۔۴؍ جنگ کفارکے وقت۔ ۵؍ مسافرکے پیچھے۔ ۶؍جب شیاطین ظاہر ہو کر ڈرائیں ۔ ۷؍ غم کے وقت۔ ۸؍ غضب کے وقت۔ ۹؍جب مسافرراہ بھول جائے۔ ۱۰؍ جب کسی کومرگی آوے۔ ۱۱؍ جب کسی آدمی یاجانورکی بدخلقی ظاہرہو اس کوصاحب ردالمحتار نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے (۱) ۔ اوربعض بزرگوں کاعمل وقت عموم امراض وخوف غرق کے بھی دیکھا ہے؛ لیکن کوئی روایت نہیں دیکھی (*) اورآندھی کے وقت تواذان دیکھی سنی نہیں گئی؛ البتہ فقہاء نے نمازاس وقت لکھی ہے اوردیگراوقات میں بھی لکھی ہے۔ ۱کسوف۔ ۲؍ خسوف۔ ۳؍ آندھی۔۴؍ تاریکی دن کو۔ ۵؍روشنی شدیدرات کو ۶؍ خوف غنیم۔ ۷؍زلزلہ۔۸؍ بجلی۔ ۹؍برف ۱۰؍ بارش جوتھمتی (**) نہ ہو۔۱۱؍ عموم امراض۔استسقاء اس کوصاحب درمختارنے ذکرکیاہے اورتعمیم کی ہے کہ جوآیات اللہ موجب تخویف ہوں اس وقت نماز پڑھنا چاہئے (۲) ۔
------------------------------
(*) اس لئے نہ چاہئے بالخصوص جب کہ عوام کا اعتقاد اس میں حد فساد تک پہنچا ہوا ہے۔ ۱۲ منہ
(**) مناسب عبارت: ’’جو تھمتے نہ ہوں ‘‘ ہے؛ کیوں کہ یہ قید بارش اور برف دونوں کے ساتھ ہے (درمختار، باب الکسوف ۱/ ۷۹۰) کی عبارت ’’والثلج والمطر الدائمین‘‘ ہے۔ ۱۲ سعید احمد پالن پوری۔
------------------------------
(۱) وہو أي الأذان سنۃ مؤکدۃ للفرائض الخمس في وقتہا ولو قضاء، لا یسن لغیرہا۔ (درمختار) وفي الشامیۃ: قولہ: لا یسن لغیرہا: أي من الصلوات وإلا فیندب للمولود، وفي حاشیۃ البحر للخیر الرملي: رأیت في کتب الشافعیۃ أنہ قد یسن الأذان لغیر الصلاۃ کما في أذن المولود، والمہموم، والمصروع، والغضبان، ومن ساء خلقہ من إنسان أو بہیمۃ، وعند مزدحم الجیش، وعند الحریق … وعند تغول الغیلان، أي عند تمرد الجن … ہذا وزاد ابن حجر في التحفۃ الأذان والإقامۃ خلف المسافر، قال المدني: أقول: وزاد في شرعۃ الإسلام لمن ضل الطریق في أرض قفر أي خالیۃ من الناس۔ (الدرالمختار مع الشامي، کتاب الصلوات، باب الأذان، مکتبہ زکریا دیوبند ۲/ ۵۰، کراچی ۱/ ۳۸۵، وکذا في منحۃ الخالق علی ہامش البحر الرائق، کتاب الصلوۃ، باب الأذان، مکتبہ زکریا دیوبند ۱/ ۴۴۵، کوئٹہ ۱/ ۲۵۶)
(۲) ویصلي بالناس من یملک الجمعۃ رکعتین کالنفل بلا أذان، وإقامۃ وجہر وخطبۃ، ویطیل فیہا الر کوع والسجود والقراء ۃ حتی تنجلي الشمس کلہا، وإن 
ویؤیدہ قولہ علیہ السلام: إذا رأیتم من ھذہ الأفزاع شیئا فافزعو إلی الصلوۃ (۱)۔ واللّٰہ