سوال (۱۶۵) : قدیم ۱/ ۱۶۶- جمعہ کے روزجس وقت اذان خطبہ کہی جاوے اس وقت توبیع وفروخت منع ہے آیاکل شہرپرحکم یکساں ہے یامختلف کیونکہ اذان کسی مسجدمیں پیشترہوتی ہے کسی میں بعدکوہرمحلہ کی مسجدکے موافق حکم علیحدہ علیحدہ ہے یاکل شہرکے لئے حکم یکساں ہے؟
الجواب : جوبیع مخل سعی ہووقت اذان اول جمعہ کے مکروہ ہے اوراگرچندجااذان کہی جاوے تو اظہریہ ہے کہ اذان اول کے ساتھ کراہت ثابت ہوجائے۔ اگرچہ اس کی روایت صریحہ احقرنے نہیں دیکھی لیکن تعدداذان میں اجابت اذان کو لکھا ہے، اس قیاس پر وجوب سعی وکراہت بیع بھی اذان (*) اول
------------------------------
(*) روایت صریحہ تو اس سلسلہ میں ہے نہیں ، جیسا کہ حضرت رحمۃ اﷲ علیہ نے لکھا ہے؛ بلکہ جواب ’’اجابت اذان اول‘‘ پر قیاس کرکے لکھا گیا ہے؛ لیکن یہ قیاس صحیح نہیں معلوم ہوتا ہے؛ کیوں کہ درمختار کی جس عبارت سے استشہاد کیا گیا ہے وہ ایک مسجد کی چند اذانوں کے متعلق ہے اور زیر بحث متعدد مساجد کی اذانیں ہیں ۔
تفصیل اس کی یہ ہے کہ اجابت اذان کی دو قسمیں ہیں : ایک اجابت بالقدم یعنی اذان سن کر مسجد میں جانا اور دوسری اجابت باللسان یعنی اذان سن کر منھ سے اس کا جواب دینا۔ اول واجب ہے اور ثانی مستحب ہے، جیسا کہ آگے سوال نمبر: ۱۶۸ کے جواب میں آرہا ہے، اسی طرح چند اذانوں کی بھی دو صورتیں ہیں ۔ اول: ایک ہی مسجد میں چند اذانیں ہوں ۔ دوم: چند اذانیں الگ الگ مساجد میں ہوں ، قسم اول کا حکم درمختار میں یہ بیان کیا ہے کہ صرف اذان اول کا جواب دے۔
ولو تکرر أجاب الأول اھ (درمختار) (قولہ: ولو تکرر) أي بأن أذن واحد بعد واحد أما لو سمعہم في آن واحد من جہات فسیأتي۔ اھ (ردالمحتار) 
 اور صغیری اور کبیری کی عبارت زیادہ واضح ہے، ملاحظہ فرمائیے:
ویحول وجہہ یمینا عند حي علی الصلاۃ وشمالا عند حی الفلاح في الأذان والإقامۃ؛ لأنہ یخاطب بہما الناس فیواجہہم وہو المتوارث۔ (غنیۃ المستملي شرح کبیري، کتاب الصلاۃ، باب سنن الصلاۃ، مکتبہ سہیل اکیڈمی لاہور، مکتبہ أشرفیہ دیوبند ۳۷۴، صغیري مطبع مجتبائي ۱۹۶)
شبیر احمد قاسمی عفا اﷲ عنہ
پرچاہئے خواہ مسجدمحلہ میں ہویاغیرمیں ۔ ولوتکرر أجاب الأول درمختار۔ قولہ: أجاب الأول سواء
------------------------------
 علامہ شامیؒ کی عبارت سے معلوم ہوا کہ درمختار کا مذکور قول اس صورت کا حکم ہے، جب کہ متعدد