شبیر احمد قاسمی عفا اﷲ عنہ
جائز نہیں ؛ کیونکہ جمعہ وعیدین کے لئے مصر (شہر) ہونا شرط ہے اور قصبے کسی طرح شہر نہیں ، نہ عرف عام میں نہ اور کسی عرف میں حدیث و فقہ حنفیہ میں دو لفظ آئے ہیں یا مصر (شہر) کا لفظ یا قریہ (گاؤں ) کالفظ قصبہ کا لفظ کہیں نہیں آیا ہے قصبے میں دوحیثیتیں ہیں ایک حیثیت سے تو اسے شہر یا مشابہ شہر کہہ سکتے ہیں ، دوسری حیثیت سے گاؤں یاگاؤں کے مشابہ کہہ سکتے ہیں کھینچ کھانچ کے شہر میں داخل کرتے ہیں مگریہ صحیح نہیں : بلکہ اسے قریہ(گاؤں ) میں داخل کرنا چاہئے چیز ہمیشہ ارذل کے تابع ہوتی ہے، اعلیٰ کا ارذل کے تابع ہونے میں کچھ شک نہیں بلکہ یقینی ہوتا ہے اور اعلیٰ کے تابع کرنے میں بے احتیاطی ہے: اس لئے قصبوں میں جمعہ وعیدین کو منع کرنا چاہئے، زید کا یہ کہنا کیسا ہے؟
(۲)شہر اورقصبے اور گاؤں کی کیا تعریف ہے؟ ان کی تعریفوں میں رقبے اور آبادی کو بھی دخل ہے یانہیں ؟ بعض حضرات کہتے ہیں کہ جہاں کا اتنا رقبہ ہو اتنی آبادی ہو وہ تو گاؤں ہے اور جہاں کا اتنا رقبہ اتنی آبادی ہو وہ قصبہ اور جہاں کا اتنا رقبہ اور اتنی آبادی ہو وہ شہر ہے اور رقبے اور آبادی کی مقدارمتعین کرتے ہیں مگر اس کے ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ تھوڑے رقبے اور تھوڑی آبادی گھٹ بڑھ جانے سے تعریفوں میں فرق نہ آئے گا۔ خلاصہ یہ ہے کہ جامع مانع تعریف نہیں بتاتے جو تعریف بتاتے ہیں وہ ٹوٹ جاتی ہے۔ یہ تو ہرحنفی جانتا ہے کہ ہمارے مذہب کی رو سے گاؤں میں جمعہ وعیدین جائز نہیں ، مگرگاؤں کی جامع تعریف نہ جاننے سے، اور تعریف میں رقبے اور آبادی کو داخل سمجھ کر عمل کرنے سے اکثر خلط واختلاف وتنازع پیدا ہوتاہے: اسلئے جامع مانع تعریف کی اشدضرورت ہے، جو لوگ تعریفوں میں معین رقبے اور معین آبادی کو داخل سمجھتے ہیں ان کا استناد کسی حدیث وروایت فقہ سے ہے یا نہیں ؟
(۳) ایک مقام عرف عام میں قصبہ دوسرا گاؤں کہا اور سمجھا جاتا ہے لیکن یہ قصبہ اپنے رقبہ یا اپنی آبادی کے لحاظ سے اتنا چھوٹا ہے کہ اس کو گاؤں سمجھنا اور کہنا مناسب تھا تو کیا اس قصبہ میں جمعہ وعیدین سے منع کریں گے؟ علیٰ ہذا القیاس وہ گاؤں اپنے رقبے یا اپنی آبادی کے لحاظ سے اتنا بڑا ہے کہ اس کو قصبہ سمجھنا اور کہنا مناسب تھا تو کیا اس گاؤں میں جمعہ وعیدین کی اجازت دیں گے؟
(۴)ضلع سلطان پور ملک اودھ میں مسافرخانہ ایک مقام ہے اگراس کی آبادی پر نظرڈالی جاوے توایک چھوٹا گاؤں ہے مگریہ عرف عام میں قصبہ بولا اور لکھا جاتا ہے اور عرف عام ہی کے لحاظ سے غالبا
------------------------------
------------------------------