صح الجواب: حررہ سید محمد احسان الحق عفی عنہ۔ سید محمد احسان الحق
ہوا لمصیب واقعی نماز کا ترک کرنے والا بحیثیت ترک صلوٰۃ ایسی ہی زجرو تو بیخ کا مستحق ہے جو مجیب مصیب نے تحریر فرمایا ہے۔ کتبہ العبد الضعیف محمد علی عفی عنہ۔ محمد علی عفااللہ
ذلک الجواب لاریب فیہ حررہ العبد الرّاجی غفران اللّٰہ القوی محمد عبدالغفار اللکھنوی عفی عنہ۔
الجواب صحیح: وا لمجیب نجیح احمد حسن عفی عنہ
مدرس مدرسہ دارالعلوم کانپور۔ (امداد ص۲۷ج۱)
تارک جماعت کا حکم

سوال(۶۴۱) : قدیم ۱/۷۸۶- کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص آزادو خودمختار نہ کسی کا تابع ہے بلکہ متبوع ہے دس بارہ برس سے اس ملک جنوبی افریقہ میں پیری مُریدی اور تالیف وتصنیف کا شغل رکھتا ہے اور اکثر ایک ہی جگہ پر برس ڈیڑھ برس سے زائد قیام رکھتا ہے سال دوسال کے بعد اپنے مریدوں میں ایک دو ماہ کے لئے دورہ کرتا ہے پھر وہیں اپنی جگہ پر آکر وہی تالیفات کے کام میں مشغول رہتا ہے یہ شخص اپنے محلہ کی مسجد میں نہ نماز پنج گانہ کے لئے آتا ہے نہ جمعہ وتراویح بلکہ عیدین میں بھی نہیں آتا گھر پر ہی نماز پنجگانہ پڑھ لیا کرتا ہے اور جمعہ کے بجائے ظہر اپنے گھر پڑھ لیتا ہے ان سے جب دریافت کیا جاتاہے کہ آپ نماز جماعت اور جمعہ مسجد میں کیوں نہیں آتے جواب یہ دیتے ہیں کہ میں تو مسافرہوں مجھ پر مسجد میں جاکر جماعت سے نماز ادا کرنا لازم نہیں ہے میں تو بوجہ مسافر ہونے کے قصر اداکرلیا کرتا ہوں لہٰذا کیا یہ جواب اس شخص کا موافق کتاب وسنت کے ہے یا بر خلاف؟ بینوا توجروا۔
الجواب : في الدر المختار: اعذار ترک الجماعۃ: وأرادۃ سفر۔ وفي رد المحتار: أي وأقیمت الصلوٰۃ ویخشی أن تفوتہ القافلۃ۔ وأما السفر نفسہ فلیس بعذر کمافي القنیۃ ص ۵۸۱ج ۱۔(۱)
------------------------------
------------------------------
(۱) الدر المختار مع الشامي، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، مکتبۃ زکریا دیوبند ۲/۲۹۳، کراچي۱/۵۵۶۔ 