اس لئے أقرب إلی السنۃ دوسری صورت ہے اور پہلی صورت کے ترک پراگر طعن وملامت ہو تو وہ بدعت ہے۔ (۲)
۶؍ جمادی الاول ۱۳۳۹؁ھ (النور ص۷ شعبان ۱۳۴۹؁ھ)
قنوت نازلہ میں رفع یدین اور جہروا خفاء وار سال کے احکام

سوال(۶۴۶) : قدیم ۱/۷۸۹- ایام نازلہ میں دعاء قنوت کا پڑھنا نماز فجرمیں بعد الر کوع عندالحنفیہ عام فتاویٰ فقہ مثل درمختار فتح القدیر وشامی وغیرہا میں ثابت ہے لیکن ہاتھوں کا اٹھانا بطور دعاء کے ثابت ہے یا نہیں اور حدیث ابی ہر یرہؓ کی جس کو حاکم نے صحیح کہاہے۔
------------------------------
------------------------------
اللّٰہم أعنی علی ذکرکوشکرک وحسن عبادتک۔ (أبوداؤد شریف، کتاب الصلاۃ، باب في الاستغفار، النسخۃ الہندیۃ ۱/۲۱۳، دار السلام رقم:۱۵۲۲)
عن أنس بن مالکؓ عن النبي صلی اﷲ علیہ وسلم أنہ قال: ما من عبد بسط کفیہ في دبر کل صلاۃ ثم یقول: اللّٰہم إلہي، وإلہ إبراہیم، وإسحاق، ویعقوب، وإلہ جبریل، ومیکائل، وإسرافیل علیہم الصلاۃ والسلام، أسئلک أن تستجیب دعوتي فإني مضطر، وتعصمني في دیني فإني مبتلی وتنالي برحمتک فإني مذنب، وتنفي عني الفقر فإني متمسکن إلا کان حقا علی اﷲ عزوجل أن لا یرد یدیہ خائبتین۔ عمل اللیوم واللیلۃ لابن السني، باب ما یقول في دبر صلاۃ الصبح، مؤسسۃ علوم القرآن بیروت ص:۱۲۱، رقم: ۱۳۸)
(۲) من أصر علی مندوب وجعلہ عزمًا ولم یعمل بالرخصۃ فقد أصاب منہ الشیطان من الإضلال فکیف من أصر علی بدعۃ أو منکر۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الصلاۃ، باب الدعاء في التشہد، مکتبۃ امدادیۃ ملتان ۲/۳۵۳)
فکم من مباح یصیر بالالتزام من غیر لزوم والتخصیص من غیر مخصص مکروہًا۔ (مجموعۃ رسائل اللکھنوي، سباحۃ الفکر في الجہر بالذکر ۳/۳۴، بحوالہ فتاوی محمودیہ ڈابھیل ۱۱/۲۰۳)
کل مباح یؤدي إلی زعم الجہال سنیۃ أمر أو وجوبہ فہو مکروہ۔ (تنقیح الفتاوی الحامدیۃ ۲/۳۶۷) شبیر احمد قاسمی عفا اﷲ عنہ