في رد المحتار: ولو فدی عن صلاتہ في مرضہ لایصح بخلاف الصوم۔ في ردالمحتار: لأنہ یصلی بماقدر ولو مؤمیاً برأسہ فإن عجز عن ذلک سقطت عنہ إذا أکثرت الخ۔(۲)
ان روایات سے معلوم ہوا کہ شیخ فانی (بالتفسیر المذکور فی الجواب الاول (قبل ہذا ،۱۲منہ) روزہ کا فدیہ تو اپنی حیات میں دے سکتا ہے مگر نماز کا فدیہ نہیں دے سکتا؛ کیونکہ اشارہ سے قضاء کرسکتا ہے۔ اور غیر شیخ فانی نہ روزہ کا فدیہ دے سکتا ہے نہ نماز کا۔(۳) واللہ اعلم
۲۵؍ربیع الاول ۱۳۳۱؁ھ (تتمہ ثانیہ ، ص ۲۲)

------------------------------
(۱) رد المحتار، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، فصل في العوارض، مکتبہ زکریا دیوبند۳/۴۰۹، کراچي۲/۴۲۶
ولو وجب علیہ کفارۃ یمین أو قتل فلم یجد ما یکفر بہ وہو شیخ کبیر عاجز عن الصوم أو لم یصم حتی صار شیخًا کبیرًا لا یجوز لہ الفدیۃ؛ لأن الصوم ہنا بدل عن غیرہ۔ (حاشیۃ الشلبي علی تبیین الحقائق، کتاب الصوم، فصل في العوارض، مکتبہ زکریا دیوبند۲/۱۹۹، کوئٹہ۱/۳۳۷)
النہر الفائق، کتاب الصوم، فصل في العوارض، مکتبہ زکریا دیوبند۲/۳۲۔
(۲) الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاۃ، باب قضاء الفوائت، مطلب في بطلان الوصیۃ بالختمات والتہالیل، مکتبہ زکریا دیوبند ۲/۵۳۵، کراچي۲/۷۴۔
سئل الحسن بن علي عن الفدیۃ عن الصلوات في مرض الموت ہل یجوز؟ فقال: لا، وسئل حمیر الوبري ویوسف بن محمد عن الشیخ الفاني ہل یجب علیہ الفدیۃ عن الصلوات کما یجب علیہ من الصوم وہو حي؟ فقالا: لا۔ (الفتاوی التاتارخانیۃ، کتاب الصلاۃ، آخر الفصل العشرون في قضاء الفائتۃ، مکتبہ زکریا دیوبند ۲/۴۵۹، رقم:۲۹۹۵)
ہندیۃ، کتاب الصلاۃ، قبیل الباب الثاني عشر في سجود السہو، مکتبہ زکریا دیوبند ۱/۱۲۵، جدید ۱/۱۸۴۔
(۳) ان غیر الشیخ لیس لہ أن یفدي عن صومہ في حیاتہ لعدم النص ومثلہ الصلاۃ۔ (شامي، کتاب الصلاۃ، باب قضاء الفوائت، مطلب في بطلان الوصیۃ بالختمات والتہالیل، مکتبہ زکریا دیوبند ۳/۵۳۵، کراچي۲/۷۳) شبیر احمد قاسمی عفا اﷲ عنہ